اہور: ڈیوواٹمور نے رخصتی سے قبل دل کے زخم کرید ڈالے، زمبابوے کیخلاف ٹیسٹ میچ میں شکست کو کوچنگ کیریئر کا تلخ ترین تجربہ قرار دیدیا، غیر ملکی کوچ کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کا دکھ آج بھی محسوس کرتا ہوں۔تفصیلات کے مطابق ڈیو واٹمور کا پی سی بی کے ساتھ معاہدہ 28 فروری تک تھا لیکن انھوں نے اپنی چھٹیاں سال کے آخر میں گزارنے کا فیصلہ کرکے وطن واپسی کی راہ اختیار کرلی۔
روانگی سے قبل کوچ سہ پہر کو پی سی بی کے ہیڈ کوارٹرز قذافی اسٹیڈیم آئے اور بورڈ ملازمین و میڈیا ارکان کے ساتھ بھی گھل مل گئے، انھوں نے صحافیوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنایا۔ الوداعی پریس کانفرنس میں ڈیو واٹمور نے کہا کہ پاکستان آیا تو ذہن میں کچھ خدشات تھے،کوئی زیادہ جانتا نہ تھا لیکن آج میرے پاس رونق لگی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس خطے میں لوگ کرکٹ سے عشق کرتے ہیں، جب کرکٹرز میدان میں اتریں تو شائقین کی توقعات کا بے پناہ دبائو بھی ہوتا ہے، کوچ اور ٹیم کوشش کے باوجود کبھی امیدوں پر پورا نہیں بھی اتر پاتے، ٹیم کی ہار جیت میں صرف اپنے کھلاڑیوں کی پرفارمنس ہی نہیں مخالف ٹیم کی طاقت کو بھی دیکھنا چاہیے، چیمپئنز ٹرافی اور خاص طور پر زمبابوے کے ہاتھوں شکستوں کو اپنے کیریئر کا تلخ ترین تجربہ سمجھتا ہوں۔
انھوں نے کہا کہ نئی گیند کھیلنے میں دشواری کی وجہ سے مسائل پیش آئے، ٹیم کو اب بیٹنگ کوچ کی ضرورت ہوگی، مجموعی طور پر پاکستانی کرکٹرز سے تعلقات مثبت رہے،ڈیو واٹمور نے کہا کہ زبان سمجھ نہ آنے کے حوالے سے کی گئی باتیں درست نہیں ہیں،1،2 پلیئرز کو انگلش کی وجہ سے مسئلہ پیش آتا تو وہ میری باڈی لینگوئج سے بات سمجھ لیتے یا دوسروں کی معاونت سے کام چل جاتا، خوشی کی بات یہ ہے کہ میرے دور میں ٹیم کے حوالے سے کوئی منفی واقعہ سامنے نہیں آیا۔انھوں نے کہا کہ دبئی میں اکیڈمی کے لیے اسپورٹس مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا، رواں ماہ مکمل آرام کے بعد یکم مارچ سے نئی ذمہ داریاں سنبھالوں گا، فی الحال پاکستان کی دوبارہ کوچنگ کا امیدوار نہیں۔
739 total views, no views today


