لاہور: سابق ٹیسٹ کپتان جاوید میانداد نے پی سی بی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کی عزت گنوانے والوں کودور ہی رکھے، ان کے مطابق دیگر ممالک اپنی کرکٹ کو فکسنگ سے بچا رہے ہیں مگر پاکستان نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
سابق کپتان جاوید میانداد نے پی سی بی کے حالیہ فیصلوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، مشکوک افراد کو دھڑا دھڑ عہدوں سے نوازے جانے کے سوال پر سابق عظیم بیٹسمین نے کہا کہ دنیا بھر کے ملک اپنی کرکٹ کو فکسنگ سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں لیکن پاکستان نے کوئی سبق نہیں سیکھا،میرے دل میں بڑے راز ہیں لیکن کسی کا نام نہیں لینا چاہتا، البتہ صرف اتنا کہوں گا کہ اپنی ساکھ بحال رکھنی ہے تو ملک کی عزت گنوانے والوں کے بجائے کمانے والوں کو آگے لانا پڑے گا،مشکوک لوگوں کو دور ہی رکھا جائے۔
گذشتہ چند واقعات میں جب بھی ہمارے کرکٹرز پکڑے گئے تو بڑی شرمندگی ہوئی،اب غلطیوں سے گریز کرنا ہوگا،ہمارے عوام کی یادداشت بڑی کمزور ہے لیکن غیر ملکی میڈیا کے لوگ کسی شخص کا نام سامنے آتے ہی ماضی کی باتیں سامنے لا کر طنز کے تیر برسانے لگتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بورڈ میں بعض سابق کرکٹرز کو لانے کا مقصد مخالفانہ بیانات دینے والوں کو خاموش کرنا ہے،ایک طرف پیسہ نہ ہونے کو جواز بناکر چھوٹے ملازمین کو نکالا جا رہا ہے، دوسری جانب عہدہ نوازی اور مقدمے بازی پر بھاری اخراجات سے دریغ نہیں کیا جا رہا،غلط کام ہوئے تو معاملات عدالتوں میں ہی جائیںگے۔
میانداد نے کہا کہ نمبر ون آسٹریلیا نے3رکنی سلیکشن کمیٹی کافی سمجھی جبکہ پاکستان نے6 افراد بھرتی کرلیے۔مختلف خیالات رکھنے والے اتنے سارے افراد کی موجودگی میں فیصلہ سازی مشکل ہوجائے گی، کوچز کی فوج رکھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں، انٹرنیشنل میچز کے دوران آپ کسی کرکٹر کو کیا سکھا سکتے ہیں؟ کھلاڑیوں کو بطور پروفیشنل ذہنی طور پر تیار کرنے کے لئے ایک ہی ایسا کوچ کافی ہے جو تینوں فارمیٹس کی کرکٹ کو سمجھتا ہو، مختلف سوچ رکھنے والے کئی افراد ایک ساتھ رہنمائی کریں تو کھلاڑی تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ گذشتہ ایونٹس میں دیکھا جا چکا۔ سابق ڈی جی پی سی بی نے کہا کہ چیف سلیکٹر اور منیجر شپ الگ نوعیت کے کام ہیں، دنیا بھر میں کہیں بھی سلیکٹرز ٹیم کے ساتھ نہیں جاتے،ان کی ڈیوٹی دستیاب بہترین ٹیلنٹ پر مشتمل اسکواڈ تیار کرکے مینجمنٹ کے حوالے کرنا ہوتی ہے۔
پلیئنگ الیون کی تشکیل،حکمت عملی، کھلاڑیوں کو صلاحیتوں سے انصاف کرنے کے لئے تیار کرناکوچ اورکپتان کا کام ہے، منیجر کا کردار ٹیم کے باپ جیسا ہوتا ہے، میچ فکسنگ کے حوالے سے حساس صورتحال کی وجہ سے اسے معاملات پر کڑی نظر رکھنے کے ساتھ ٹورز کے دوران میزبان ممالک کے آفیشلز اور میڈیا سے رابطہ بھی رکھنا پڑتا ہے،معین خان کو بھی صرف منیجر بنا دیا جاتا تو قابل اعتراض بات نہیں تھی لیکن سابق وکٹ کیپر ٹیم کو منتخب کرنے کے بعد ٹورز پر بھی ساتھ ہونگے، اس سے پلیئرز پر اضافی دبائو پڑے گاکہ بات نہ مانی تو ٹیم سے باہر ہو جائینگے،ایسے میںکوچ اور کپتان کی حیثیت تو ثانوی ہوجائے گی، جاوید میانداد نے کہا کہ نجم سیٹھی کرکٹ کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے، وہ انوکھے فیصلوں سے جس پیشے میں پہچان رکھتے ہیں وہاں بھی گنوا دیںگے۔
820 total views, no views today


