ادب ایک ایسا وسیع میدان ہے، جس میں رخش خیال کا تھک جانا کوئی انہونی بات نہیں۔ ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق ادب کے وسیع دامن میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ کوئی نثر کی شکل میں طبع آزمائی کرتا ہے، تو کوئی نظم کی شکل میں اور یوں ادب کی حدیں لا محدود وسعتوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ شعراء اور نثر نگاروں کی یہ کاوشیں قابل ستائش اور قابل تعریف ہیں۔ اور اسی وجہ سے پشتو ادب روز بہ روز ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ ادبی ذخائر بڑھ رہے ہیں اور نوجوان ادباء و شعراء فن کی تمام تر باریکیوں سے آشنا ہورہے ہیں، جو ایک خوش آئند بات ہے۔
میرے خیال میں تمام تر شاعری اچھی ہوتی ہے، سوائے اُس شاعری کے جن میں سفلی جذبات اور لچھرپن کی آمیزش ہو۔ باقی ہر شخص کے خیال اور اس کے طبیعت کے معیار پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کی شاعری کو بہتر قرار دیتا ہے۔ میرے مطابق بعض شاعری میں اثر پذیری کا عنصر زیادہ ہوتا ہے اور بعض میں کم۔
عثمان علی عثمان اکرام پور بائیزو خر کے ضلع مردان کا رہنے والا ہے۔ موصوف کی شاعری میں اثر پذیری کا عنصر بہت نمایاں ہے۔ سنتے ہی اس کے کہے اور لکھے ہوئے اشعار ذہن و دماغ کو ’’کلک‘‘ کر جاتے ہیں۔ فکری اور فنی حوالے سے یہ صاحب، فن کی اوج ثریا پر پہنچ گیا ہے، جہاں سے یہ اپنے گرد و پیش کا بہ نظر غائر جائزہ لے کر معاشرتی نا انصافی، کس مہ پرسی، وسائل کی نا مناسب تقسیم، امامت کے نا اہل دعوے دار، خاک اور خون میں لتھڑے ہوئے پختونوں کے اجسام، بدامنی، چائلڈ لیبر، بے حسی اور بے بسی کا رونا روتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عثمان نے اپنے مریل جسم کے نس نس میں یہ سارے دکھ سمو لیے ہیں اور کسی بھی لمحہ ان سے غافل نہیں ہوپاتا۔ اس کی حساس طبیعت اس کو ہر وقت بے چین رکھتی ہے۔ یہ بے چینی اور یہ مغمومیت اس کو بہترین تخلیق کا خالق بناتی ہے۔ کیوں کہ تخلیق وہ اچھی ہوتی ہے جس کے پس منظر میں کچھ ہو۔ ذیل میں عثمان علی عثمان کے مختلف اشعار کے مضمون اور فن و فکر کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں۔ عثمان انسان کو انسان سمجھتا ہے اور کبھی انسان سے حیوانیت اور وحشت کی توقع نہیں رکھتا، لیکن اس وقت اس کے تمام تر توقعات پر پانی پھر جاتا ہے جب کہیں پہ دھماکا ہوجاتا ہے، جس میں انسان کے چیتھڑے ہوا میں اُڑ جاتے ہیں۔ انسان کو بوٹیوں میں تقسیم کرنے والا خود انسان ہی ہے، تو ایسے میں مجبوراً عثمان کہہ اٹھتا ہے کہ
روزانہ اورم چی دومرہ غوخی والوتلی
روزانہ اورم چی دغہ کار انسان کڑے دے
عثمان زندگی کے فلسفے کو بہ خوبی سمجھتا ہے اور یہی فلسفہ دوسروں کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ تاکہ قارئین زندگی کی حقیقت اور اصلیت سے واقف ہوجائیں، وہ زندگی کا نقشہ کچھ اس انداز سے کھینچتا ہے کہ
ژوند دَ چیندرو لوبہ دہ گام پہ گام احتیاط پکار دے
دَ لگ وخت لوبہ دہ دَ ہر چا پکے وار یو دے
اور کبھی کبھار وہ اپنی محبت کے گیت بھی گانے لگتا ہے، کیوں کہ محبت اس کی رگ و پے میں رچی بسی ہے اور اس کا مسحور کن احساس وہ اپنے محبوب کو کچھ یوں دینا چاہتا ہے:
رباب تہ چی کڑی لاس ستا دَ نامے سندری وائی
زہ سہ اوکڑم دُرخو، زڑہ آدم خان می داسی دے
عثمان اپنے راہ نما سے بہت نالاں رہتا ہے۔ وہ راہ نما کی بے حسی اور بے پروائی پر حیران ہے۔ کیوں کہ راہ نما کے جو فرائض ہوتے ہیں، ہمارا راہ نما ان فرائض کی ادائیگی سے غافل ہے۔ عیش و عشرت کی زندگی گزارتا ہے اور غریب رعایا سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔ عثمان جب راہ نما کے اس رویے کو دیکھتا ہے تو بے اختیار چیخ اٹھتا ہے کہ
زما رہبر، زما خیر خواہ ولی بے غمہ ناست دے
واللہ کہ دومرہ مخلوقات چرتہ مڑہ بل زائے کے وی
اور کبھی وہ دنیا کی امامت کے دعوے داروں سے کچھ یوں مخاطب ہوتا ہے کہ
اے دَ نڑی واگی نیوونکو، راشئ پوہہ می کڑئ
ستاسو کتاب کے می پہ کومہ صفحہ دہ جونگڑہ
غربت انسانی صلاحیتوں کو زنگ آلود اور اس کی اندر کی خوب صورتی کو ماند کردیتی ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ غریب کی بیٹی دروازہ تکتے تکتے تھک جاتی ہے، لیکن کوئی رشتہ اس کے نام کا نہیں آتا۔ عثمان نے اس کیفیت کو کچھ یوں بیان کیا ہے:
گل گل زوانی شوہ پہ کور دننہ خاوری ایری
ہغہ خائستہ وہ، خو غریبہ وہ چا نہ غوختلہ
مفلسی اور بے بسی دو ایسی منحوس چیزیں ہیں، جو انسانی زندگی کے مزے کو کرکرا کردیتی ہیں، خوشی میں یاسیت کی کیفیت پیدا کردیتی ہیں اور ہنستے بستے گھر کو غموں کی آماج گاہ بنادیتی ہیں۔ عثمان بھی اسی چکی میں پس رہا ہے، تبھی تو بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے کہ
بیا اختر دے خلق نوی پیزار اخلی
ما تہ زوڑ پیزار د خپلی مور رایاد شی
تنقید کا خالق کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ وہ اپنے اشعار کے علاوہ دوسری چیزوں کو بھی تنقید کی نظر سے دیکھتا ہے اور جہاں کہیں اُس کو کم زوری نظر آتی ہے، تو وہ برملا کہہ دیتا ہے کہ
بخنہ غواڑمہ، تا سہ وے ’’پتاسہ یمہ زہ‘‘
دَ پختنی سرہ خو دا سندری خی نہ لگی
عثمان اپنی روایات اور پختون عورتوں کی پردہ داری پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے خلاف ایک منظم سازش ہو رہی ہے کہ پختون عورت گھر کی دہلیز سے باہر نکل کر شمع محفل بن جائے۔ اس لیے وہ مغربی تہذیب کو نشانہ بنا کر کہتا ہے کہ
اے دَ مغرب تہذیبہ مہ ئی چیڑہ، زہ پہ مخہ
پختنہ پیغلہ می خپل کور او پہ خپل ور کے خہ دہ
عثمان انسان اور حیوان کی فطری آزادی کا قائل ہے اور چاہتا ہے کہ ان کو یہ فطری آزادی دی جائے۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ ان سے یہ چھینے۔
دَ مرغو سو ورزی ژوندون، پہ کے غلام شی قید شی
ستا بہ وی خوخی خو اشنا، زہ دَ پنجرو خلاف یم
’’زہ پرھر ہغہ درمان‘‘ نامی کتاب میں ہر موضوع پر اچھے اچھے اشعار دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن اختصار میری مجبوری ہے اور چند لفظوں میں کسی کے فن کا احاطہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس کتاب میں مجھے جو معمولی سی کم زوری نظر آئی، وہ یہ ہے کہ اس میں نشاط اور حوصلے کے رنگ بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن عثمان کے جذبات کی مجبوری ہے، کیوں کہ شاعر وہ کچھ لکھتا ہے جو جذبہ اس کو ’’کلک‘‘ کرتا ہے۔ عثمان کو اپنے گرد و پیش کی خبر ہے، اس لیے اس کو جس جذبے نے اکسایا ہے، اسی کو زیب قرطاس کیا ہے۔
ایک سو ننانوے صفحات پر مشتمل مجلد اور خوب صورت ٹائٹل کی حامل یہ کتاب عثمان کی فنی اور فکری صلاحیتوں کا بہترین نمونہ ہے۔ خدا کرے کہ ان کی ادبی صلاحیتیں روز بہ روز پروان چڑھیں اور اس کے قلم سے وہ کچھ نکلے، جو مخلوق خدا کی بہتری اور بھلائی کے لیے ہو۔
مانتا ہوں کہ انسان کم زور ہے اور اسی بات کو بنیاد بناکر میں بھی کم زوری کے زمرے میں آتا ہوں۔ میری اس تحریر میں غلطی ضرور ہوسکتی ہے، جس کے لیے پیشگی معافی چاہتا ہوں۔
2,010 total views, no views today


