وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سواتی عوام کے مسائل بھی میں گونا گوں اضافہ ہورہا ہے۔ اگرچہ ان مسائل کی فہرست خاصی لمبی ہے، لیکن اس میں سرفہرست سوات کی سڑکیں ہیں۔ سواتی عوام کے لیے سینے میں درد رکھنے والے کئی صحافیوں نے سوات کی سٹرکوں کی زبوں حالی پر قلم اٹھایا ہے، لیکن کچھ صحافی ’’سب اچھاہے‘ ‘ کے مصداق آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ سوات انتظامیہ کے تو کیاکہنے کہ وہ تو ’’صم بکم عمی‘‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’ ’شرم پروف‘‘ بھی ہوچکی ہے۔ ان پر طنز کا کچھ اثر ہوتا ہے، بد دعا کا اور نہ ہی تنقید کا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی آنکھیں ربڑ کی بنی ہوئی ہیں،جو دیکھتی تو ہیں مگر اثر نہیں لیتیں۔ دوسروں کی تکالیف پر نہ تو ان کی ربڑ نما آنکھیں نم ہوتی ہیں اور نہ ہی کسی کے بہتے ہوئے آنسوؤں کا انھیں کچھ احساس ہوتا ہے۔
قارئین کرام! بات سوات کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی ہورہی تھی، تو توجہ اسی پر مرکوز رکھتے ہیں۔ اب جب کہ سیاحتی سیزن ہے اور سیاحوں کے لیے جنت کا درجہ رکھنے والے سوات کا یہ حال ہے کہ منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں طے ہوتاہے اور دور دراز علاقوں کالام اور اس سے آگے جانے کے لیے پورا پورا دن سفرکے عذاب سے گزرنا پڑتاہے، اوربہت سارے سیاح تو اس تکلیف دہ سفر سے اتنا اکتا جاتے ہیں کہ آدھے راستے سے پلٹ کر واپسی پر مجبور ہو جاتے ہیں اور سوات آنے کا فیصلہ کرنے پر اپنے آپ کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ سوات کی انتظامیہ اور دوسرے ذمے داروں کو بھی کوستے ہیں اور سوات کا ایسا برا نقشہ ان کے ذہن پر نقش ہوجاتا ہے کہ اپنے آنے والی نسلوں کو بھی آئندہ سوات آنے سے منع کرتے ہیں۔ اب بات اگر صرف دور دراز کے پہاڑی علاقوں کی سڑکوں کی ہوتی، تو بھی بات سمجھ میں آتی۔ لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، اور پورے سوات کی سڑکیں موہنجوداڑوں کے کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہی ہیں۔ سوات کی حدود میں داخل ہوتے ہی گاڑی ایسے ہچکولے کھانا شروع کر دیتی ہے کہ کلیجہ منھ کو آتا محسوس ہوتا ہے ۔ اور یہ احساس اس وقت تک آپ کے ساتھ رہتا ہے جب تک آپ گاڑی روکتے نہیں یا پھر اللہ اللہ کرکے آپ گھر نہ پہنچ جائیں۔
اسی طرح مینگورہ شہر کی سڑکیں بھی کسی جنگ زدہ علاقہ کا نقشہ پیش کر تی ہیں اور اس پربے ہنگم ٹریفک سونے پر سہاگے کا منظر پیش کرتی ہے۔ کھلے مین ہول ان کھنڈر نما سڑکوں کو موت کے کنویں بنانے میں اپنا بھر پور حصہ ڈال کر انتظامیہ کی بے حسی کا منھ بولتا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں۔ ان سڑکوں پر مریضوں کو اسپتال پہنچانا بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ وہ جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں، ان سڑکوں کے چند جھٹکے کھانے کے بعد سرد آہ بھر کر اپنی جاں، جانِ آفرین کے حوالے کر دیتی ہیں۔
حال ہی میں سوات میں اسنوفیسٹول کے نام پر کروڑوں روپے پانی کی طرح بہایا گیا اور اس کا مقصد صرف اور صرف سیاحوں کو سوات کی طرف متوجہ کرنا بتایا گیا تھا،لیکن جہاں سڑکیں نہ ہوں، وہاں سیاح کیا خاک متوجہ ہوں گے۔ اور اس کی مثال مکڑی کا مکھی کو جال میں پھسانے کے لیے چکنی چپڑی باتیں کرنا اور کسی طرح مکھی کو جال کے اندر آنے کے مترادف ہے۔ سیاحوں کو دھوکہ سے بلانے کی بجائے ان کھنڈرات نما سڑکوں کا کچھ کیجیے۔ اسنو فیسٹیول کے بجائے ’’روڈ تعمیر فیسٹیول‘‘ منعقد کیجیے۔ برف کو تو ویسے بھی پگل کر بہہ جانا ہے، لیکن سڑکیں پختہ ہو ں گی تو سیاح خود بہ خود سوات امڈ آئیں گے۔ آپ کو کسی اشتہار یا اعلان کرنے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی۔ کیوں کہ سوات کی خوب صورتی سے ہر کوئی واقف ہے، لیکن سیاحوں کے چکر سے زیادہ سواتی عوام کی فلاح وبہبود کی خاطر ان سڑکوں کا کچھ کیجیے۔ کیوں کہ سیاح تو سال میں ایک یا دو بار ہی سوات کا چکر لگانے آتے ہیں۔ لیکن بد قسمت سواتی عوام کا تو سوات سے جنم جنم کا رشتہ ہے۔ ایسے میں ان کی آمدورفت کو آسان بنانے اور ان کے دکھوں کا مداوا کر نے کے لیے اقدام کی ضرورت ہے۔
میں پاکستان کے صحافیوں سے بالعموم اور سواتی صحافیوں سے بالخصوص اپیل کرتا ہوں کہ سوات کی سڑکوں کو پختہ کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائیں۔ روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں کی حالت زار پر رپورٹ تیار کریں۔ فیچر اور کالم لکھیں۔
خاص کر سوات کے ان نام نہاد صحافیوں سے گزارش کرتا ہوں جو اب تک اس معاملہ پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں کہ خدارا، سیاست دانوں کی تعریفیں اور قصیدے لکھنا بند کردیں اور بلیک میلنگ کی صحافت سے نکل کر سوات کے اصل مسائل پر قلم اٹھا کر اپنی مٹی کا حق ادا کریں۔اگر انتظامیہ گونگی، بہری اور بے ضمیر ہے، تو کم از کم آپ تو بے ضمیر ی کا مظاہرہ نہ کریں۔
سوات کی انتظامیہ سے اپیل کرنا ویسے بھی بھینس کے آگے بین بجانے کی مانند ہے۔
آخر میں سوات آنے کا پروگرام بنانے والے سیاحوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خبردار، گاڑیوں میں سوات کا سفر کرنے کی زحمت نہ کریں اور اپنے لیے گھوڑوں اور خچروں کا بندوبست کریں۔ پھر نہ کہنا کسی نے آپ کو خبردار نہیں کیا۔ کیوں کہ سوات کی سڑکوں پر سفر کرنا اب گاڑیوں کے بس کا روگ نہیں۔ گھوڑے اور خچر ہی اب موزوں اور واحد سواری ہیں۔ ہاں گدھوں سے بھی کام لیا جاسکتا ہے، لیکن اس کے لیے آپ کو زیادہ چھٹی درکار ہوگی۔ جنت نظیر سوات میں آپ کا آنا مبارک ہو۔ پخیر راغلئی۔
968 total views, no views today


