بشام ،آئی جی پی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی نے کہاہے کہ محکمہ پولیس میں مثبت تبدیلیاں لارہے ہیں اور سفارش کلچر کا خاتمہ کردیا ہے ،پولیس بھرتی امتحان پاس کرنے اور میرٹ پر ہوگی ،شانگلہ پولیس نے دہشت گردی میں بڑی قربانیاں دی ہے اور قابل ستائش ہے شانگلہ کے شہدا ء کا خون رائیگا نہیں جائیگا ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ناصر درانی نے ایک روزہ دورہ شانگلہ کے موقع پر الپوری بازار میں عام لوگوں سے ملاقات کی اور اُن سے پولیس کے بارے مسائل سے پوچھا اور بازار میں موجود لوگوں نے اپنے مسائل بیان کئے جس کے بعد پولیس سٹیشن الپوری اور پولیس لائن کا دورہ بھی کیا جہاں پر یاد گار شہدا پولیس پر پھول رکھے گئے اور دعا کی ۔
بعدازں لائن میں موجود پولیس اہلکاروں سے خطاب میں آئی جی پی ناصر خان درانی کا کہنا تھا کہ وہ زمانہ گزر گیا جب کوئی سیاسی سفارشی کو خوش کرنے کیلئے اُن کے کہنے پر پولیس بھرتی کیا جاتا تھا اب پولیس بھرتی سفارش کے بجائے میرٹ پر ہوگی جو بھی این ٹی ایس کا امتحان پاس کریگا اُن کو پولیس میں بھرتی کیاجائیگا ۔انہوں نے کہاکہ اب پولیس کے ساتھ ذیادتی نہیں ہوگی نہ سیاسی سفارش پر کسی کا تبادلہ کیا جائیگا ہر پولیس سٹیشن میں میرا نمبر لکھا ہوا ہے جس کا بھی کوئی مسئلہ کو بلا جھجک مجھے اطلاع کرسکتے ہیں پولیس کو بہترین مراعات دی جائیگی ۔اس موقع پر آئی جی کے مطالبہ پر پولیس اہلکاروں نے اپنے مسائل بیان کئے انہوں نے فوری طور پر مسائل حل کرنے کی ہدایت کردی ۔بعدازں آئی جی پولیس نے ڈی پی او آفس شانگلہ کا دورہ کیا جہاں پر شانگلہ کے عمائدین سے ملاقات کی ۔بعدازں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر خان درانی کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس میں مثبت تبدیلیاں لارہے ہیں کسی بھی عام آدمی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی تھانوں سے رشوت خوری کا خاتمہ کردیا ہے جبکہ امن امان کی قیام کیلئے ایک بہترین پولیس فورس بھی قائم کیاجارہا ہے جبکہ ایک پولیس بھرتی کیلئے ایک نیا سکیم بھی لارہے ہیں جس میں 10سے17سال میں پولیس ڈی ایس پی بن سکے گا ۔ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ شانگلہ ایک دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہے یہاں کے پولیس کو بہترین اور آسان سہولیات ملنی چاہیے ہماری پوری کوشش ہے کہ دور افتادہ اور مشکل کھٹن علاقوں کے پولیس کو بہترین سہولیا ت فراہم کرسکے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا پولیس بہت دلیر ہے دہشت گردی کا بھر پور مقابلہ کیا اور ان بڑی تعداد میں امن و امان کے قیام کیلئے جوانوں نے جان کی نذرانے پیش کئے ۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا پولیس کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور ہمارے جوان ڈٹ کر دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں ۔صوبے کا بڑا مسئلہ اغواء برائے تاوان ،منشیات اور ٹارگٹ کلنگ ہے جس کے خلاف پولیس متحد ہے ایسے لوگوں کا گھیرا تنگ کردیا ہے سب کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کردیں گے۔
430 total views, no views today


