تحریر ؛۔ نوید عالم
سوات میں جیل کی عدم موجودگی نے سوات کے قیدیوں اور انکے خاندان والوں کیلئے جینا مشکل کر رکھا ہے ، سوات کی ضلعی جیل 2005 کی تباہ کن زلزلہ میں تباہ ہوا تھا جس کو حکومت پاکستان نے رہنے کیلئے خطرناک قرار دیا تھا جس کی بناء پر آکشن پراس کو ڈیمنٹل خریدا گیااور سوات جیل کے قیدیوں کوضلع بونیر اور ضلع لوئر دیر کے جیلوں میں رکھا جارہا ہے اور وقتاًفوقتاً کیسز کی سنوائی کیلئے ڈسٹرکٹ پولیس انتہائی احتیاط کے ساتھ قیدیوں کو سوات ڈسٹرکٹ کورٹ لاتے ہیں تاکہ کیسیز کے سنوائی کی جائے ، اس موقع کو غنیمت جان قیدیوں کی رشتہ دار ار عزیز بھائی ضلع عدالتوں
میں ان سے مل لیتے ہیں ۔

صوبائی حکومت سوات میں ایک جدید سہولتوں سے اراستہ جیل تعمیر کرنے میں تاحال ناکام ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں اپسر دگی پائی جاتیہیں ، سوات چونکہ ملاکنڈ ڈویژن کا سب سے بڑا ضلع ہے جو کہ 12,49572 نفوس پر مشتمل ہیں اور یہ یقیناًناممکن اور مشکل ہے کہ 700 اور 600 قیدیوں کو بونیر اور لوئر دیر کے جیلوں میں رکھا جائے اور ان کے بنیادی حقوق بھی پامال نہ ہو کیونکہ سوات سے تیمرگرہ تک کا فاصلہ تقریباً 92 کلو میٹر ہے اور ہمارے لئے بھی مشکلات کا سبب ہے اور قیدیوں کے لئے بھی ،سوات جیل سپرینٹڈنٹ اختر منیر نے ہمارے رپورٹرنوید عالم کو انٹرویو کے دوران اگاہ کیا کہ ہم حکومت سے مسلسل رابطہ میں ہے کہ سوات جیل کی تعمیر علاقے میں لوگوں کی مسائل میں کمی لانے کیلئے نا گزیر ہے اسی لئے ضروری ہے کہ سوات میں پہلے سے بہتر اور جدید سہولیات سے اراستہ جیل کی تعمیر جلد از جلد ممکن ہو۔ تا کہ سوات سے تعلق رکھنے والے قیدو یوں کو واپس اپنے ضلع سوات میں لایا جاسکے تاکہ کیسز کی سنوائی بھی وقت پہ ہو اور پولیس اور دیگر امن و امان قائم کرنے والے اداروں کی مسائل میں بھی کمی اسکے ، انہوں نے مزید بتا یا کہ سوات جیل کو تباہ ہوئے 8 سال گزر گئے لیکن نیا جیل کی ڈیمانڈ صرف کاغذی کاروائی تک محدود رہے ، موجودہ حکومت کو ضرور چاہئیے کہ اس معاملے میں عملی اقدامات کریں تاکہ سوات کی لوگوں کے مسائل میں کمی لایا جائے ، یہ ضرور ان لوگوں کے لئے باعث خوشی ہوگی جن کے پیارے جیل کی دروازوں کے پیچھے بھی اور اتنا دور کہ وہ جانے کیلئے کرایہ تک کو بھی ادا نہیں کرسکتے ۔
عبدالسلام جو کہ 30 سال کا نوجوان ہیں سوا ت کے ضلعی عدالت کی گیٹ پر اس حسرت کے ساتھ انتظار میں ہیں ، کہ کب وہ اپنے باپ کا دیدار کریگا ، ان کا باپ جو کہ دفعہ 324 تعزیرات پاکستان کے تحت جیل میں ہے آج انکی سنوائی ہے اور ان کو لوئر دیر جیل سے لایا جائیگا تو اس بہانے وہ بھی باپ کو دیکھ لے گا کیونکہ تیمر گرہ سوات سے 92 کلومیٹر دور ہے اور عبدالسلام اور اسکی خاندان کیلئے ممکن نہیں کہ وہ وقتاًفوقتاً وہاں باپ سے ملنے جائے ۔

سوات جیل سپر نٹنڈنٹ اختر منیر نے مزید بتایا کہ سوات جیل سال 1957 میں تعمیر کرایا گیا تھا اور اس وقت سوات ایک علحٰیدہ سٹیٹ کا حیثیت رکھتا تھااور اس وقت یہجیل والی سوات نے چھوٹے موٹے کرائمز کرنے والے لوگوں کو اس جیل میں ڈالتے تھے ، لیکن بعد جب 1969 میں سوات سٹیٹ پاکستان کا حصہ بنا تو جیل بھی ایک صوبائی سب جیکٹ بن گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ جرائم کے شرح میں بھی اضافہ ہوتا گیا ، اس طرح سوات جیل میں مہیا سہولیات اہستہ اہستہ کم ہونا شروع ہوئے ، 2005میں تباہ کن زلزلہ سوات جیل کو مکمل تباہ کردیا اور اس طرح بعد میں جب 2007 میں دہشت گردی کی وجہ سے سوات میں حالات ابتر تھے تو سوات جیل کو ڈیسمنٹل کرنے کانے کا کام وقت پر نہ ہوسکا کیونکہ اس وقت پاکستان ارمی سوات جیل کو استعمال کررہے تھے ، اس طرح سوات میں نیا جیل تعمیر کرنا تاخیر کا شکار ہوا ۔ 1973 کے آئین کے مطابق پاکستا ن میں قیدیوں کی بنیادی حقوق ہے جو کہ کثیر التعداد جیلوں لوئر دیر اور بونیر سوات کی قیدیوں کومیسر نہیں جب اس بارے میں ہمارے رپورٹر نے ہیومن رائٹ کمیشن کے ممبر سردار یوسفزئی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں قیدیوں کو آئینی اور بنیادی حقوق حاصل ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ ایک عدالت واچ ڈاگ ہو جو ان قیدیوں کی رہنے کھانے پینے علاج کامعائنہ کریں کہ کس طرح وہ جیل کی اندر رہ رہے ہیں ،علاج معالجے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ مختلف عمر کے قیدیوں کو مختلف بارکس میں رکھا جائے اسکے علاوہ قیدیوں کی عزیز اور قریب کو بھی ملنے کی مکمل آزادی ہواور اس حوالے وہ کسی بھی پریشانی کا شکار نہ ہو مگر افسوس کے ساتھ کہتا ہو کہ سوات کے قیدیوں کے ساتھ بونیر اور لوئر دیر کے جیلوں میں اس کے برعکس بڑھتا برتاجاتا ہے ، انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت صوبے میں قیدیوں کو عدلتی انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے کیونکہ قیدیوں کو جیلوں کی اندر ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہاہے ، اسی لئے ضروری ہے کہ یو این او کے ایک ٹیم تشکیل دے جو کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کا ویزٹ کریں اور یہاں پر قیدیوں اور ان کے خاندانوں کے مسائل کو دیکھیں اور سنے تاکہ ان کے مسائل کا بر وقت اور مناسب حال تلاش کرسکے ۔
محمد لطیف جو بونیر جیل میں قید ہے بتا تا ہے کہ بونیر جیل میں کیثر التعداد قیدیوں کے وجہ سے بہت سے مسائل زیادہ ہے اور سہولیات بہت کم ہے جس کی وجہ سے قیدیوں کو بہت سے دشواریوں کا سامنا ہے ، وہ مزید بتا تا ہے کہ جیل کے اندر اکثر قیدی اکٹھے رہتے ہیں اور عمر کا لحاظ نہیں رکھا جاتا جو کہ قیدیوں کی شخصیت پر برا اثر ڈالتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ کم عمر والے قیدیوں کو عمر کے لحاظ سے الگ بارکس میں رکھا جائے مگر بہت افسوس ہے کہ بونیر میں ایسا سہولت میسر نہیں جو کہ پہلے سے زیادہ ہے ۔
سماجی رہنما حاضر گل جو کہ سوات سے تعلق رکھتا ہے نے بتایا کہ پاکستان قیدیوں کی رولز کے مطابق یہ ضروری ہے کہ ایک قیدی کے ساتھ جیل کے اندر ایک انسان کی طرح برتاؤ کیا جائے اور انکو تمام حقوق دی جائے مگر بدقسمتی سے یہاں قیدیوں کو معلومات تک بھی رسائی نہیں ہوتی اور انکو پتہ تک نہیں چلتا کہ جیل کے باہر کیا کیا ہورہاہے کیونکہ نہ وہ ریڈیو، ٹی وی سن سکتا ہے اورنہ اخبار پڑھ سکتے ہیں اسی لئے وہ جیل کی چار دیواری تک محدود رہتے ہیں جو کہ انکی حقوق کی پامالی ، حاضر گل نے مزید کہا کہ ہمیں چاہیئے کہ جیل میں قیدیوں کو مناسب ماحول فراہم کریں تاکہ جو جرائم پیشہ افراد جیل کے اندر ہو تو وہ آئندہ ایسے غلط کام نہ کریں جسکی وجہ سے وہ جیل کے اندر ہے اور یہ تب بھی ممکن ہے کہ جب ان کو جیل

کی اندر مناسب ماحول فراہم کیا جائے ۔
ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے جب تحریک انصاف جو کہ موجودہ صوبائی حکومت کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے حکومت ایسے معاملے میں فکر مند ہے صوبائی حکومت سنبھالے ہمیں اتنا وقت نہیں ہوا لیکن پھر بھی بہت جلداس بارے میں عملی اقدام لائینگے اور آئندہ جون 2014 کے سالانہ بجٹ میں اس کے لئے خطیر رقم مختص کیا جائیگا ، تاکہ جدید بنیا دوں پر سوات جیل کی تعمیر ممکن ہوسکے انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے حکومت میں اس کیلئے 15کروڑ رپے مختص کئی گئے تھے جونئے جیل کی تعمیر کیلئے ناکافی تھے ، ہمارے کوشش ہے کہ جلد سے جلد اس منصوبے پر کام شروع کریں ۔
سوات ڈسٹرکٹ میں نیا جیل تعمیر کرنا نا گزیر کیونکہ زیادہ تر لوگوں کی مسائل کسی نہ کسی طرح اس مسئلے کے ساتھ منسلک ہے اور ان مسائل کا حل صرف سوات نئی جیل بنانے سے ہی ختم ہوسکتی ہے ، بلاشعبہ سوات میں جیل تعمیر کرنا نئی حکومت کیلئے امتحان کا سبب ہے اب دیکھنا ہے کہ کیسے موجودہ حکومت اس مسئلے پر عملی اقدامات کرتے ہیں کیونکہ اس سے بہت ساری لوگوں کی مسائل حل ہونے میں مدد ملے گا ۔
2,260 total views, no views today



