سوات، سوات کی تاجر برادری نے ملاکنڈ ڈویژن میں ہر قسم ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ٹیکس نافذ کرنے والوں کو ہماری لاشوں پر سے گزرناپڑے گا ، سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کی تاجر برادری پہلے ہی سے معاشی بحرانوں کا شکار ہیں اوپر سے ٹیکس کا نفاذ تاجروں کا معاشی قتل ہے ، حکمران ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ ذہن سے نکال دیں ،
ٹیکس کے نام پر کاروبار تباہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی ، ان خیالات کااظہار سوات ٹریڈر فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کیا، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مالاکنڈ ڈویژن اور سوات میں ٹیکس لاگو کر نے کی کوشش کی گئی تو ہم بھرپور مزاحمت کریں گے ، اور ایسے سوچ رکھنے والوں کو ہماری لاشوں پر سے گزرناپڑے گا ، سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے تباہ حال سڑکیں بدترین معاشی بحران ، فیکٹریوں کی بندش، بیروزگاری کا سیلاب ، مسائل ومشکلات میں پھنسے ہوئے عوام پر ٹیکس کا نفاذ کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے ٹیکس لاگو کرنے والوں کو ہزار بار سوچنا پڑے گا، انہوں نے کہاکہ حکومت سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کو کونسی سہولیات فراہم اور مراعات دی ہیں کہ وہ اس ٹیکس فری زون میں بھی ٹیکس لاگو کرناچاہتی ہے ، انہوں نے کہاکہ پہلے اس علاقے کوتمام سہولیات فراہم کئے جائیں علاقے کے مسائل اور عوامی مشکلات کے حل کیلئے خصوصی طور پر اقدامات اٹھائیں ، بعد میں اس حوالے سے صرف سوچاجاسکتا ہے ، انہوں نے کہاکہ خراب حالات ، اپریشن اور سیلاب کی وجہ سے سوات کی تاجر برادری کا اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے لیکن حکمرانوں نے ان کے نقصانات کا ازالہ تک نہیں کیا سوات میں تاجر برادری نے بمشکل اپنے کاروبار کو دوام دیا ہے اب وہ پوری طرح کاروبار سنبھل نہیں سکا کہ حکمرانوں نے ٹیکس کے نفاذ کیلئے حکمت عملی وضع کردی ہے ، لیکن ہم ان پر واضح کردیناچاہتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سوات کے تاجر برادری کا خون چوسا گیا ہے اب ان میں مزید قربانی دینے کی سکت نہیں ہے لہٰذا حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیناہوگااورٹیکس کے نفاذ کا خیال دل سے نکالنا ہوگا ، بصورت دیگر ایسا مزاحمتی تحریک شروع کردیں گے جس کوقابو کرنا حکمرانوں اور ٹیکس لاگو کرنے والوں کے بس میں نہیں ہوگا۔
403 total views, no views today


