منگورہ ،ملک بھر کی طرح سوات میں بھی عالمی یوم تھیلیسیما منایا گیا۔اس موقع پر الفجر فاؤنڈیشن سوات نے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ نونہال، ان کے والدین اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں لوگوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں الفجر فاؤنڈیشن کے ایڈمنسٹریٹر رحمان علی ساحل نے کہا کہ یہ ایک موروثی بیماری ہے
جو والدین سے بچوں کو منتقل ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بیماری سے وہ نونہال متاثر ہوتے ہیں جن کے والدین کی خاندان کے اندر شادی ہوئی ہو۔ انھوں نے کہا کہ کزن میرج اس بیماری کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مولانا صدیق نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن شریف میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ انھوں نے کہا کہ اس حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ خون کے عطیات دیے جانے چاہئیں اور اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ بچوں کے والدین اور خاص کر الفجر فاؤنڈیشن جیسے اداروں کی مدد کرنی چاہیے۔ مذکورہ بیماری سے متاثرہ بچی مہوش نے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں عرصہ سولہ سال سے اس مرض میں مبتلا ہوں مگر میں نے لمحہ اس موذی بیماری سے لڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں عام لوگوں کی طرح نارمل زندگی گزارتی ہوں اور کسی بھی موقع اپنے والدین کو یہ احساس ہونے نہیں دیتی کہ میں بھی بیمار ہوں۔پروگرام میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں نے مختلف رنگا رنگ ٹیبلوز اور نغمے پیش کرکے حاضرین سے داد وصول کی۔اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔
604 total views, no views today


