امریکا کے اس خیال میں اگر صداقت بھی ہے تو آئی ایس آئی حق بجانب ہے، کیوں کہ اسے ہر کام اپنے ملک کے مفاد کے لیے کرنا ہے۔ امریکا افغانستان سے واپسی پر بھارت کو وہاں اہم کردار سونپنا چاہتا ہے، تاکہ طالبان دوبارہ اقتدار پر قبضہ نہ کر سکیں اور بھارت کی آشیر باد سے افغانستان کے راستے بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں گڑبڑ کی صورت حال برقرار رہے، جو آئی ایس آئی کو کسی طور بھی قبول نہیں۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایس آئی اتنی ہی طاقت ور ہے، تو اسے اپنے پہلو میں بیٹھا اُسامہ نظر کیوں نہیں آیا، جی ایچ کیو اور مہران بیس پر حملے ہوئے، آرمی کے ٹریننگ سنٹرز پر خودکش حملے ہوتے رہے، لیکن آئی ایس آئی کو خبر تک نہ ہوئی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب سندھ، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں شورش برپا ہے اور پورے ملک میں خودکش دھماکے ہو رہے ہیں، ایسے میں دشمن ملکوں کا آئی ایس آئی کو خطرہ سمجھنا ایک انہونی سی بات لگتی ہے، لیکن وہ شائد یہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان اس وقت غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کا گڑھ بن چکا ہے، ایک وقت میں شائد ہی کسی ملک میں اس قدر خفیہ ایجنسیاں سرگرم ہوں۔ مزید المیہ یہ ہے کہ عدم استحکام کا شکار ہمارا سیاسی نظام ان خفیہ ایجنسیوں کے اہداف کے حصول میں مددگار و معاون ثابت ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں چالیس سے زائد ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں، صرف بلوچستان میں اکیس ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں گڑ بڑ پھیلا رہی ہیں جب کہ اکیلی آئی ایس آئی پس پردہ رہ کر ان تمام ایجنسیوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنا رہی ہے۔ اتنی ایجنسیوں کی موجودگی کے باوجود بھی اگر پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں اور کراچی، بلوچستان، خیبرپختون خوا اور قبائلی علاقہ جات میں پاکستانی حکومت کی عمل داری قائم ہے، تو اس کا کریڈٹ آئی ایس آئی کو ہی جاتا ہے۔ پاکستان مخالف قوتیں چاہتی ہیں کہ فوج شورش زدہ علاقوں میں پھنسی رہے، مگر آئی ایس آئی فوج کو پھنسانے کے بجائے اس کا توڑ کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر محدود فوجی آپریشن کی راہ ہم وار کرتی ہے۔ افواج پاکستان ضرورت پڑنے پر ہی ملکی دفاع کے لیے جنگ کرتی ہیں، مگر اس دفاعی جنگ کی باری بعد میں آتی ہے اور آئی ایس آئی کی دفاعی جنگ ان اداروں سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کو کبھی کبھی جنگ میں حصہ لینے کی نوبت آتی ہے، مگر آئی ایس آئی ہر روز حالتِ جنگ میں ہوتی ہے۔ آئی ایس آئی جاگ رہی ہوتی ہے، تو پوری قوم بے فکر ہو کر سوتی ہے اور دشمن یہ سمجھتا ہے کہ جب تک آئی ایس آئی موجود ہے، اس کی پاکستان کے خلاف کوئی بھی بڑی سازش یا براہ راست کارروائی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ آئی ایس آئی پر بلاجواز تنقید کے بجائے امریکا کی تیسری غیر علانیہ جنگ کا راستہ روکنے کے لیے اس کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں، اسی میں ایٹمی پاکستان کا مفاد پنہاں ہے۔
892 total views, no views today


