سوات،جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر اور رکن طالبان کمیٹی پروفیسر محمدابراہیم نے کہاہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے باجود طالبان نے مذاکرات پر آمادگی ظاہرکی ہے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مثبت نظر نہیں آرہی ،آپریشن کیا گیا تو پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آجائے گا ،مذاکرات میں سب سے بڑی رکاؤٹ بداعتمادی ہے کیونکہ دونوں کی جانب
سے ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا قائم نہیں ہے،چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کرکے ان کا تعاون لیناچاہتے ہیں ،وزیر اعظم اور وزیرداخلہ کی جانب سے سنجیدگی تو ہے لیکن وزیرداخلہ سے رابطہ مشکل ہے جبکہ اب تو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے بھی رابطہ ہونا مشکل ہوگیا ہے ،گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں ریکارڈ دھاندلی کرکے تقسیم کے تحت سیٹیں دی گئی تھیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز اسلامی سنگوٹہ میں جماعت اسلامی کے اجتماع ارکان کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر ضلعی امیر ڈاکٹر فضل سبحان ،سابق امیر ڈاکٹر انوارلحق،سابق صوبائی وزیر حسین احمد کانجو اور اخترعلی خان سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے ،پروفیسر محمد ابراہیم نے کہاکہ ہم مذاکرات کو امن کا واحد حل سمجھتے ہیں اس لئے ہم طالبان اور حکومت کے مابین ثالثی کا کردار اداکررہے ہیں لیکن بد اعتمادی کی وجہ سے مذاکرات میں کافی مشکلات درپیش ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہم کافی پیش رفت کرچکے ہیں لیکن اس وقت چونکہ جنگ بندی ختم ہے اور ہماری کوششوں کے باوجود ہم اس میں توسیع میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں لیکن پھر بھی فریقین مذاکرات میں سنجیدہ ہیں اور یہاں تک کہ وزیر اعظم اور وزیرداخلہ بھی مذاکرات میں دلچسپی لے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بارہ سال تک آپریشن ہوا لیکن اس کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے اس لئے ہم فوج اور طالبان دونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی کارروائیاں بند کریں اورمذاکرات کا راستہ اپنائے تاکہ ملک میں امن قائم ہوسکے انہوں نے کہاکہ آپریشن ہی کی وجہ سے سوات کے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے جبکہ قبائلی علاقوں میں آپریشن ہی کی وجہ سے آج مختلف علاقوں میں پندرہ لاکھ سے زائد متاثرین بے گھر ہوکر کیمپوں میں زندگی گذرانے پر مجبور ہیں انہوں نے کہاکہ طالبان کی جانب سے یہی کہاجارہاہے کہ پہلے بھی ان کے لوگوں کو مذاکرات کے نام پر بلاکر گرفتارکیا گیا جبکہ دوسری جانب مہمندایجنسی میں تیئس اہلکاروں کے قتل نے بھی مسئلہ کافی پیچیدہ بنایا انہوں نے کہاکہ ہم ناامید نہیں اور ہماری اس وقت تک کوششیں جاری رہیں گی جب تک ہم مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن کا قیام نہیں لائیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں تقسیم کی بنیادہر دھاندلی ہوئی ہے اور اس کے سدباب کے لئے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کو بااختیار بنادیا جائے ۔
462 total views, no views today


