خوازہ خیلہ، اپر سوات میں پر ائمر ی ایجو کیشن تبا ہی کی دہا نی پہنچ گیا اور محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران کی غفلت اور لا پر واہی ہز اروں بچوں کا مستقبل تاریک ہو نے لگا ہے پہاڑی علاقوں میں اساتذہ با قاعدہ روزانہ حاضری لگاکر ڈیو ٹی نہیں کر تے جبکہ ذمہ دار حکام سکولو ں کے معائنہ کے لئے جانا گوارا نہیں کر تے صوبا ئی حکو مت کی طرف تعلیم عام کر نے
کے لئے عملی اقداما ت خوش آئند مگر پر ائمر ی سکولوں میں جو بچے پڑ ھتے ہیں ان کو انگلش دور کی بات مگر اردوبھی صحیح طریقے سے نہیں آتی ہے معلو م ہوا ہے کہ اپر سوات میں محکمہ تعلیم کے آفسران اور اساتذہ کی لا پر واہی اور مو ثر طریقے سے چیک اینڈ بیلنس نہ ہو نے کیو جہ سے سرکا ری پرائمر ی سکولو ں میں ہز اروں بچوں کے مستقبل تا ریک ہو رہا ہے بعض سکولوں میں اساتذہ نے ہفتہ وار ڈیو ٹیاں لگا ئے ہیں جبکہ اس سارے عمل کو پو شیدہ رکھنے کے لئے اساتذہ نے دفتر میں سینئر کلر کو ں سے رابطے مضبوط کئے ہیں محکمہ تعلیم سوات کے آفسران عوام کی طرف کسی بھی شکا یت پر کا روائی نہیں کر تے جبکہ الٹا شکایت کنندہ کے لئے مسائل پید ا کر تے ہیں اپر سوات میں یہ سب کچھ ایک سو چے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے جن میں سب بر ابر کے شریک ہیں جن کو روکنا کسی کی بس کی با ت نہیں ایک طرف صوبائی حکو مت نے تعلیم عام کر نے کے لئے بہتر پا لیساں بنانے کے ساتھ ساتھ آفسران کو با اختیا ر بنا دیا ہے جبکہ دوسرے طرف سوات میں محکمہ تعلیم میں کا لی بھیڑیابھی اختیا رات سے نا جا ئز فا ئدہ اٹھا کر اپنے من ما نی کر رہے ہیں جس کا پو چھنے والا کو ئی نہیں محکمہ تعلیم سوات کے ضلعی آفسران اور سینئر کلر کو ں کے سامنے عوامی نما ئندے بھی بے بس نظر آرہے ہیں جو سوات کے عوام کی بد قسمتی ہے ۔
490 total views, no views today


