سوات،سوات میں آثار قدیمہ کی سیر و سیاحت کو فروغ دینے کے پیکیج ٹور پروگرام کا آغاز ، پاکستانی و غیر ملکی سیاحوں میں مقبول آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے بارے شعور بیدار کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی مرتب کر لی گئی ، سسٹینبل ٹورازم فاؤنڈیشن (STFP) اور اٹالین آرکیالوجی مشن نے باقاعدہ سوات کا دورہ کرکے کام کا آغاز کر دیا ،
جس کا مقصد وادئ سوات کے طول و عرض میں پھیلے ہوے آثارِ قد یمہ کو پاکستانی اور غیر ملکی سیاحوں میں مقبول بنانا ہے تفصیلات کے مطابق وادئ سوات میں آثارِ قد یمہ کی سیروسیاحت کو فروغ د ینے کے لیے ایک پیکج ٹور پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے اور اِس ثقا فتی ورثہ کے تحفظ کا شعور بیدار کرنا ہے۔ اِس سلسلے کے افتتاحی پروگرام کا اِ ھتمام سسٹینبل ٹور اِزم فا ؤنڈ یشن ( STFP) نے ٹور اِزم کا رپوریشن خیبر پختون خواہ (TCKP) اور اَٹالین آرکیالوجی مشن کے تعاون سے کیا۔ اِس دو روزہ مطالعاتی دورہ میں پچاس سے زاأد طالب عِلموں، ا ساتذہ، ماہرین آثارِ قد یمہ ،سیاحت اور صحافت کے شعأے سے وابستہ افراد نے شر کت کی۔ آفتاب رانا ، صدر STFP کی سربراھی میں گروپ کے ارکان نے وادئ سوات کے آثارِ قد یمہ جن میں اوڈیگرام، شنگردار کا اسٹوپا ، بت کٹرا کا اسٹوپا، املوک درہ کا اسٹوپا، قد یم شہر با زیرہ کے کھنڈرات، سوات کا عجائب گھر اور بدھ مت کی عظیم درسگاہ تختِ بہائی شامل ہیں کی سیاحت کی۔ ٹور کے دوران ماہرین آثارِ قد یمہ جن میں ڈاکٹر لوکا ماریا، ڈاکٹر نعیم قاضی اور سوات میوزیم کے کیو ریٹرفیض الرحمن شامل ہیں ، نے گروپ کے ارکان کو آثارِ قدیمہ کی سیاحت کے دوارن معلومات فراہم کی اور اُن کے سوالات کے جوابات د أے۔ اِس موقع پر ڈاکٹر لوکا ماریا جو کہ اَٹالین آرکیالوجیکل پروجیکٹ کے انچارج بہی ہیں، نے بریکوٹ میں با زیرہ کے شہر کے کھنڈرات کی کہدائ کے بارے میں ایک تفصیلی لیکچر بہی دیا۔ ٹور کے لیڈر آفتاب رانا نے بتایا کہ اُن کا یہ دو روزہ دورہ انتٰہائی کامیاب تہا اور اِس تعارفی ٹور کے ذریعے آثارِ قدیمہ کی سیروسیاحت کا شعور بیدار کر نے اور ثقافتی ورثہ کو تحفظ فراہم کرنے میں بے حد مد د ملے گی۔ اُنہوں نے اِس خیال کا اِظہار بہی کیا کہ حکومتی اداروں کو وادئ سوات کے تارخیے مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی آبادی کے ساتھ ملکر پروگرام تشکیل دینے کی اشد ضروت ہے کیونکہ مقامی لوگوں کی شمولیت کے بغیر ثقافتی ورثہ کو تحفظ فراہم کرنا کسی طرح بہی ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے TCKP کی فروغِ سیاحت کی کوششوں کو سراہتے ہوے بتایا کہ خیبر پختون خواہ میں سیاحت کو فروغ دے کر مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور آمدن کو بٹرہانے کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور TCKP سیاحت کے فروغ کو مزید بہِتر بنا کر اِ س شعبہ کو صوبہ کی معاشی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کَہا کہ STFP، ٹور اِزم کا رپوریشن خیبر پختون خواہ کے تعاون سے نوجوانوں اور طالبِ علموں کے لیے مزید مطالعاتی دوروں کا بندوبست بہی کرے گا تا کہ اُن کو اِس خطے کے شاندار ماضی سے روشناس کرایا جا سکے اور پاکستان کے ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے شعور کو بیدار کیا جا سکے۔رپورٹ محمد زبیر خان سوات نیوزڈاٹ کام
582 total views, no views today


