لاہور: فردوس مارکیٹ کے قریب گاڑی روک کر کاغذات طلب کرنے پر ٹیسٹ کرکٹرعمر اکمل نے ٹریفک وارڈن پر چڑھائی کردی، پولیس نے انہیں گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔
لاہور میں فردوس مارکیٹ کے قریب عمر اکمل نے شادی کی تقریب میں جاتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث سگنل توڑا جس پر ٹریفک وارڈن نے ان کا پیچھا کرکے انہیں روک کر گاڑی کے کاغذات اور لائسنس طلب کیا جس پر عمر اکمل نے ٹریفک وارڈن پر چڑھائی کردی اور دونوں کے درمیان شدید تلخ کلامی بھی ہوئی۔
عمر اکمل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی لائن پر آرہے تھے اور انہوں نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی نہیں کی اس کے باوجود وارڈن کی جانب سے انہیں روکا گیا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جب کہ ٹریفک وارڈن کا کہنا ہے کہ عمر اکمل کو سگنل توڑنے پر روکا جس پر انہوں نے بدتمیزی کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ پولیس حکام نے عمر اکمل پر کارسرکار میں مداخلت، ٹریفک وارڈن پر تشدد اور گالم گلوچ کا مقدمہ تھانہ گلبرگ میں درج کرلیا گیا ہے تاہم عدالتی وقت ختم ہونے کے باوجود انہیں پیش نہیں کیا گیا تاہم عمر اکمل کے وکیل تھانے ہی میں موجود ہیں، دوسری جانب عمر اکمل کے اہل خانہ نے ٹریفک وارڈن سے صلح کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
عمر اکمل کے بڑےبھائی اور ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل کا کہنا ہے کہ عمراکمل کا کچھ پتا نہیں چل رہا کہ وہ کہاں ہے، اس کے چہرے پر چوٹیں لگی ہوئی ہیں لیکن پولیس کی جانب سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ انہوں نے کہاکہ وکلا کو بھی عمر اکمل سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ وقت پر عدالت پیش کیا گیا جب کہ ایف آئی آر کی کاپی بھی انتہائی دیر سے فراہم کی گئی۔
کامران اکمل نے کہا کہ عمر اکمل کی گرفتاری کی وجہ سے والد اور والدہ کی طبیعت خراب ہے، بڑا افسوس ہورہا ہے ہم پاکستان کے لئے کھیلتے ہیں اس کے باوجود ہمارے ساتھ یہ رویہ اپنایا جارہا ہے، میرا بھائی پاکستان کا کھلاڑی ہے کوئی دہشت گرد نہیں، پولیس کا کام دہشت گردوں کو پکڑنا ہے، اگر میرے بھائی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جاتا لیکن پولیس نے ایسا بھی نہیں کیا گیا۔
1,496 total views, no views today


