سوات، وادی کالام کے عوام کا فارسٹ آرڈینینس کے متعلق گرینڈ جرگہ تشکیل دیدیا۔معززین علاقہ حاجی پٹن، ملک غزن خان، ملک شاہ مردان، ملک گل داد خان، ملک بخت دیدار اور دیگر مشران اور جملہ قوم نے شرکت کی، جرگہ نے فیصلہ دیا کہ حکمرانوں نے کالام قوم کو خبر کئے بغیر2002 میں اسلام آباد کے بند کمروں میں آرڈینینس بنایا ہے
جو کالام قوم کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔ اس آرڈینینس کے تحت سرکار ہمیں اپنی زاتی جائیداد کے معاملات میں دخل اندازی کررہی ہے ہمیں اپنے لئے گھر تعمیر کرنے پر ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے۔جرگے کے بعد کالام قوم نے محکمہ فارسٹ کے آفس تک احتجاجی ریلی نکالی۔محکمہ فارسٹ کے آفس کے سامنے دھرنا دینے کے بعد مظاہرین نے تھانہ کالام کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروایا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ملک غزن خان ۔ حاجی پٹن خان، ملک بخت دیدار، ملک شاہ مردان، عالمزیب استاد، ملک میر قادر بخش اور دیگر مشران نے بتایا کہ کالام قوم امن پسند اور وفادار قوم ہیں کالام قوم ملکی مفاد کے لئے ہمیشہ حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے جس کا ثبوت پاک آرمی کے پاس بھی موجودہے۔ کالام قوم جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی شدید مخالفت کرتی ہے۔ لیکن کالام میں تین قسم کی پراپرٹی موجود ہے پہلا ذاتی جائیداد دوسرا قومی جنگلات اور تیسرا قومی جائیداد جس میں بانڈہ جات اور دیگر قومی جائیدادیں شامل ہیں۔ تنیوں قسم کی جائیداد کا آپس میں خرید و فروخت کے معاملے میں رجسٹری لازمی کروائی جاتی ہے۔ اور قومی جائیداد بانڈہ جات کے استعمال پر غیر مقامی چرواہوں سے قلنگ بھی وصول کیا جاتا ہے۔ سرکار کے دفاتر ان رجسٹریوں کے فائلوں سے بھری پڑی ہے ، اگر حکومت ان تینوں جائیداد پر ہمارا حق تسلیم نہیں کرتی تو یہ رجسٹریاں سنبھالتے وقت ہمیں کیوں نہیں بتایا جارہا ہے کہ رجسٹری ہی نہ کی جائیں کیونکہ یہ سرکاری املاک ہیں؟انہوں نے بتایا کہ کالام کے جنگلات اور خوبصورتی کوبچانے کے لئے کالام کے مشران نے بے مثال قربانیاں دی ہے ، جب بھی کالام قوم کے مطالبات کا جائز فیصلہ نہیں سنایا جاتا ہے تو وہ خود فیصلہ سنانا جانتی ہے۔ ہم اپنے حقوق کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کالام کے جائیداد میں ساٹھ فیصد رائلٹی کی اب تک جو راگ الاپی جارہی ہے ہمیں دکھایا جائے کہ رائیلٹی سے کونسا ترقیاتی کام ہوا؟ سیلاب کے دوران حکومت نے تین مہینوں کے اندر سڑکوں کی بحالی کا وعدہ کیا تھا جو اب تک اسی طرح کھنڈرات ہیں۔ چالیس فیصد فنڈ کونسی سراغ میں گیا؟ سڑکوں ، اسپتالوں اور سکولوں کی حالت سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کالام قوم کی ذاتی جائیداد اور بانڈہ جات کے استعمال میں کوئی عمل دخل نہ کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی جنگلات کے علاوہ اگر فارسٹ اہلکار یا کوئی مجسٹریٹ ہی کیوں نہ ہو اگر زاتی جائیداد کے استعمال پر ایف آئی آر کاٹی جائے تو اس کو ماننے کے لئے ہر گز تیار نہیں ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ جس طرح انڈس کوہستان، بونیر اور لوئیر دیر میں جنگلات کی اسی فیصد رائیلٹی دی جاری ہے اسی طرح کالام کو بھی اسی فیصد رائیلٹی دی جائے ۔ اور باقی ماندہ فنڈ کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2002 کا جو کالا قانون اسلام آباد کے بند کمروں میں بنایا گیا ہے ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں اس آرڈینیس کے خاتمے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
432 total views, no views today


