بعض لوگ مخفی رہ کر بھی مخفی نہیں رہتے اور بعض لوگ مرکر بھی مر نہیں جاتے۔ منوں مٹی تلے دبنے سے وہ آنکھوں سے اوجھل تو ہوسکتے ہیں لیکن ان کے کارہائے نمایاں ان کو چلتے پھرتے انسانوں کے درمیان زندرہ و تابندہ رکھتے ہیں۔ ہم مرکر فنا ہو جاتے ہیں اور یہ لوگ جیتے رہتے ہیں۔ کبھی انسانوں کے ذہنوں میں، کبھی نگار خانوں میں، کبھی لائبریریوں کے گوشوں میں سانس لیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ الغرض یہ جہد مسلسل کے پیکر کسی نہ کسی صورت موجود رہتے ہیں۔ یہ لوگ کیوں پل پل محسوس ہوتے ہیں، آخر کیوں؟ ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ وہ لوگ زندہ رہتے ہیں جو کوئی کارنامہ سرانجام دیتے ہیں، اپنی مقصدیت سے واقفیت رکھتے ہیں اور اپنے کام کے ساتھ خلوص۔
آج میں آپ کو جس ہستی سے ملانے جا رہا ہوں۔ ان کا نام ’’مخفی بابا‘‘ ہے۔ مخفی بابا کا اصل نام فضل محمود ولدیت نور محمد بہ لحاظ قوم ماموند ترکلانی باجوڑ کا ایک معتبر خیل یا قبیلہ مانا جاتا ہے۔ مخفی بابا کی تاریخ پیدائش میں کچھ اختلاف رائے موجود ہے، بعض لوگ 1882ء بتاتے ہیں اور بعض 1884ء۔ لیکن قرین قیاس 1884ء ہے۔ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر مخفی بابا کے دادا بزرگوار باجوڑ سے ہجرت کرکے (مانڑوگے دیر) آگئے اور یہاں پر مستقل سکونت اختیار کی اور آج بھی مخفی بابا کا کنبہ ضلع دیر ہی میں رہائش پذیر ہے۔ مخفی بابا کی جائے پیدائش اشنغر ہے۔ کیوں کہ ہجرت کے بعد مخفی بابا کے والد اشنغر چلے آئے اور وہاں پر مخفی بابا ماں کی بطن سے دنیائے رنگ وبو میں آموجود ہوئے۔ مخفی بابا کی ابتدائی تعلیم جیسا کہ رواج تھا، گھر پر ہوئی۔ پھر چارسدہ کے ایک مڈل اسکول سے مڈل پاس کیا۔ پھر اسلامیہ ہائی اسکول میٹرک کیا اور پھر ایڈورڈ کالج پشاور میں داخلہ لیا۔ ایڈورڈ کالج سے فارغ ہوکر آپ دارالعلوم اسلامیہ (آگرہ، بھارت) چلے گئے۔ دارالعلوم اسلامیہ میں کچھ وقت گزار کر مدرسہ دیوبند چلے گئے اور یہاں پر آپ کی ملاقات شیخ الہند محمود الحسن سے ہوئی اور یوں آپ شیخ الہند محمود الحسن کی شاگردی بلکہ مریدی میں آگئے۔ یہاں سے مخفی بابا کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا ایک (Turining Point)۔ شیخ الہند محمود الحسن کی وجہ سے آپ تحریک حزب اللہ میں شریک ہوئے۔ یہ وہ تحریک تھی جو انگریزوں کی غلامی سے نجات کے لیے جیلانی گئی تھی۔ مخفی بابا نے دل و جان سے اس تحریک میں حصہ لیا۔ کیوں کہ وہ غلامی کو لعنت سمجھتے تھے اور چاہتے تھے کہ یہاں کے عوام آزادی کے احساس سے ہم کنار ہوں۔ اس لیے انھوں نے اپنے اشعار میں یہی پیغام ببانگ دہل دیا ہے۔
ہاغہ قام ژوندے وی چی جذبات د شہادت لری
جمع پہ خپل زان کے استقلال علم و حکمت لری
بے د استقلالہ ہنر جنگ کے پسہ تورہ دہ
تورہ دی تیرہ ساتی ہر سوک چی د جنگ نیت لری
علم د انسان د فوقیت دے یو محکم نشان
دا صفت جہاد سرہ ڈیر لوئی مناسبت لری
اسی تحریک کے شانہ بشانہ چل کر آپ کی ملاقات حاجی صاحب ترنگزو سے ہوئی۔ حاجی صاحب نے علمی قابلیت کی وجہ سے آپ کو گدر ضلع مردان میں ایک اسلامی مدرسے میں مدرس مقرر کیا۔ اس مدرسے کے مہتمم مولانا تاج محمد بھی آزادی کی تحریک میں انگریزوں سے برسرپیکار تھے۔ مخفی بابا تو پہلے ہی سے اس جذبے سے سرشار تھے اور مولانا تاج محمد کی صحبت اور رفاقت نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا اور آپ کے دل میں آزادی کے جذبے مزید سر اٹھانے لگے۔ اس غرض کے لیے آپ نے بونیر اور مومند کے سفر بھی کیے اور آزادی کا پیغام دینے کے لیے یہاں پر مدرسے قائم کیے۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اس طرح کرنے سے وہ اپنے مشن کو ایک مربوط اور منظم طریقے سے چلائیں گے۔ 1919ء میں آپ کی ملاقات عبیداللہ سندھی سے ہوئی اور عبیداللہ سندھی کی وساطت سے آپ کی ملاقات غازی امان اللہ سے ہوئی۔
مخفی بابا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آپ نے افغانستان کے پہلے جشن استقلال میں غازی امان اللہ کی فرمائش پر آزادی کے موضوع پر ایک فی البدیہ تقریر جھاڑی تھی۔ اس موقع پر موجود ایک روسی سفیر بابا کی تقریر سے اتنا متاثر ہوا کہ یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ اگر دنیا میں مخفی بابا جیسے آزادی کے جذبے سے سرشار چند لوگ پیدا ہوئے، تو تمام دنیا کو غلامی سے نجات دینے میں کامیابی مل سکتی ہے۔
آپ کی اُٹھک بیٹھک خدائی خدمت گار باچا خان بابا سے بھی رہ چکی ہے۔ دونوں اسی ایک مقصد کے لیے کام کرتے رہے۔ مخفی بابا نے دیر، خال، باجوڑ بھی مدرسے قائم کیے۔ آپ 21 مئی 1947ء کو اس دارِ فانی سے رحلت کرگئے۔ آپ دیر (مانڑوگے) میں مدفون ہیں۔
ایسے بعض سپوتوں کو حکومت یا میڈیا کی سرپرستی نہیں مل پاتی۔ اس لیے وہ گم نام رہ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کارناموں کو دنیا تک پہنچانے کے لیے مقامی ادبی تنظیمیں کام کرتی ہیں اور یہ تنظیمیں اپنی جیب سے سارے اخراجات برداشت کرتی ہیں۔ ان تنظیموں میں دیر پختو ادبی ٹولنہ اپنی تمام تر ذمے داریوں سے آگاہ ہوکر مخفی بابا کے نام پر مختلف اوقات میں سیمیناروں کا انعقاد کرتا ہے۔ ان سیمیناروں میں نظم و نثر کی بہترین منتخب شدہ کتابوں پر مخفی بابا کے نام کا ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ ان تمام تر کاوشوں میں مسلم خان وصالؔ صدر دیر پختو ادبی ٹولنہ، بانی صدر اقبال حسین سالارؔ ، سعید احمد ساحلؔ اور ان کے رفقائے کار پیش پیش رہتے ہیں۔ پہلے یہ سیمینار ضلع دیر تک محدود تھا اور اس میں صرف ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے شعراء کو بہترین منتخب شدہ کتابوں پر ایوارڈ دیے جاتے تھے۔ اب اس کا دائرۂ کار ملاکنڈ ڈویژن کی سطح تک بڑھادیا گیا ہے۔ رواں سال گیارہ مئی کو جو سیمینار منعقد ہوا تھا، اس میں صدر مسلم خان وصالؔ نے اسٹیج سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ آئندہ یہ سیمینار ہم صوبے کی سطح پر کریں گے اور اس میں صوبہ خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے شعراء و ادباء کی کتابیں شامل کریں گے۔
اب تک مخفی بابا ایوارڈ جن کتابوں نے لی ہے، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:’’غنچکونہ ‘‘ حیرت یوسف زئے سال 2005-06ء، ’’امید ‘‘ بہرام گل 2008-09ء، ’’لیت‘‘ احسان باچا خوگلن 200910ء، ’’مالہ زما خاورہ گلاب راکوی‘‘ شوگیراتمان خیل 2011-12ء، ’’سندرہ مہ وژنئی‘‘ امجد شہزاد 2012-13ء۔
گیارہ مئی 2014ء کو جس سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا، اس میں صوبہ بھر سے آئے ہوئے شعراء کو دیر پختو ادبی ٹولنہ کی جانب سے یادگار کے طور پہ اسناد دیے گئے اور یوں یہ پروقار تقریب اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
2,251 total views, no views today


