آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ڈبلیو ایچ او نے پاکستانیوں پر بیرون ملک سفر کرنے کے لیے سرٹیفیکیٹ کی شرط لازمی قرار دے دی۔ اس فیصلہ سے حکومت پاکستان پر شائد ہی کوئی آنچ آئے، لیکن بے چارے پاکستانی عوا م یقینی طور پر متاثر ہوں گے۔ کیوں کہ لاکھوں پاکستانیوں کی روزی روٹی دیار غیرسے وابستہ ہے۔ خاص کر خلیجی ممالک میں محنت کرنے والے مزدوروں کی تعداد تو کافی زیادہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیو کا یہ سرٹیفیکیٹ بڑوں کے لیے لازمی قرار دینے سے اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ کیوں کہ پولیووائرس کے شکار زیادہ تر پانچ سال تک کے بچے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی جن بڑوں نے پولیو کے قطرے بچپن میں پئے تھے۔ اس کا ریکارڈ کیوں کر موجود ہوسکتا ہے؟ کیوں کہ پاکستان میں زیادہ تر ریکارڈ سستے اور گھٹیا کوالٹی کے کاغذ پرمحفوظ کیا جاتاہے۔ جو چند سال گزرنے کے بعد دیمک کی خوراک بن جاتا ہے یا پھرریکارڈ کے ڈھیر ملازمین سردیو ں میں جلاکر ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یا جگہ کی کمی کا بہانہ بناکر پرانا ریکارڈ ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جاتا ہے یا پھر کسی ٹھیلے والے یا کسی کباب فروش کو تھما دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ سال ہا سال اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ چند ایک اداروں میں شائد اب ایسا نہ ہوتا ہو اور ریکارڈکمپوٹرائزڈ کر دیا گیا ہو، لیکن ایسے ادارے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ایسے میں بیس، تیس یا چالیس سالہ آدمی کا ریکارڈ پاکستان میں موجود ہوناکوئی معجزہ ہی ہوسکتاہے۔ اب ظاہر ہے محکمۂ صحت صرف فرضی سرٹیفیکیٹ ہی سے کام چلائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان سرٹیفیکیٹ کو وصول کرنے کا ٹھیک ٹھاک معاوضہ بھی وصول کیا جائے گا، جو مہنگائی تلے دبے عوام پر ایک اضافی بوجھ ثابت ہوگا اور ساتھ ساتھ سرٹیفیکیٹ حاصل کر نے کے لیے انھیں ذلیل و خوار بھی ہونا پڑے گا۔ اس سے محکمۂ صحت کے تو وارے نیارے ہوہی جائیں گے، لیکن کیا اس عمل سے اقوام عالم کو مطمئن کیا جاسکے گا؟ اور کیا ان کے خدشات کا ازالہ کیا جا سکے گا؟ لیکن اقوام عالم کی خواہشات سے زیادہ پولیو پر قابونہ پانا خود پاکستان کے لیے انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔تعلیم کی کمی،جہالت اور اناپرستی کی وجہ سے بہت سارے لوگ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے۔ اب اس کی وجہ کوئی بھی ہو، لیکن جب تک پاکستان کے بچے بچے کو پولیوقطرے نہیں پلائے جاتے۔اس قسم کے سر ٹیفیکٹ سے پولیوکی وبا کو نہیں روکا جاسکتا۔ اگرچہ حکومت کا فرض ہے کہ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ پولیو ویکسین پہنچائے، لیکن اس کے ساتھ پاکستانی عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ پولیو کے خلاف حکومت کا ساتھ دیں۔ اللہ نے انسان کو شعوردیا ہے کہ آنے والے حالات اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی تدابیر کرے، جس طرح سیلاب سے بچنے کے لیے دریاؤں پر پشتے تعمیر کیے جاتے ہیں، دشمن سے لڑنے کے لیے پیشگی مورچے بنائے جاتے ہیں یا پھر چوروں سے بچنے کے لیے دروازے بند رکھے جاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح پولیو جیسے موذی مرض سے لڑنے کے لیے پولیو کے دو قطرے کسی پشتے، مورچے یا دروازے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جب پولیو وار کرتا ہے، تو پھر اس کا علاج ممکن نہیں اور اس طرح پھول جیسے بچے والدین کی غفلت اور جہالت کی وجہ سے زندگی بھر کے لیے اپاہج بن جاتے ہیں۔ بہت سارے اسی مرض کی وجہ سے اللہ کو پیارے بھی ہو جاتے ہیں۔
ویکسین ہی کی بہ دولت دنیا سے چیچک جیسی مہلک اور موذی بیماری کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے، ٹی بی جیسے جان لیوا مرض پر قابو پایا گیا ہے۔ توپھرکس بات کا ڈر ہے؟ پولیو کے دو قطرے پینے میں ہچکچاہٹ چہ معنی دارد ؟
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پولیو ویکسین مسلمانوں کے خلاف سازش ہے، تو یقین جانیے۔ پولیو کے قطرے نہ پلانا خود مسلمانوں کو جان بوجھ کر مفلوج بناناہے اور یہی سب سے بڑی سازش ہے۔ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ ہورہاہے، لیکن پاکستان میں یہ مرض تھمنے کا نام نہیں لے رہااور آئے دن بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی خبریں سامنے آ تی رہتی ہیں۔ ایسے میں اقوام عالم، پاکستان کے خلاف اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ابھی تو صرف سرٹیفیکٹ دکھا کر جان چھوٹ جائے گی، لیکن مستقبل میں اس کا دائرہ بڑھاکر پیشاب اور پاخانہ تک کے ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں گے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستانیوں پر بیرون ملک جانے اور کام کرنے کی مکمل پابندی ہی عائد کی جائے۔ اس سے نہ صرف غریب عوام متاثر ہوں گے بلکہ دنیا بھر میں وطن عزیز کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ ہم عوام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ علمائے کرام کو بھی لنگوٹی کسنا ہوگی۔ اگر محکمۂ صحت ہر علاقے کے چند جید علماء کو پولیو کے حوالے سے ہونے والے سیمینار وں میں مدعو کریں۔ ان کو سائنسی بنیادوں اور ثبوتوں کی روشنی میں آگاہ کریں۔ پولیوویکسین کے حوالے سے ان کے شکوک وشبہات دور کریں، تو مسجد و محراب کے ذریعے پولیو جیسے موذی بیماری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
1,168 total views, no views today


