کاشف کمال کا شمار سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ڈان نیوز چینل جب شروع ہوا، تو اس میں کاشف نے رپورٹر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ پھر وہ خیبر نیوز کے ساتھ وابستہ ہوئے اور اب وہ عن قریب پشتو ون سے موضوعاتی پروگرام شروع کرنے والے ہیں۔ جب کہ اس کے علاوہ وہ ایک ریسرچر بھی ہیں۔ ان سے میری پہلی ملاقات سوات کے مشہور ہوٹل ’’پامیر‘‘ میں منعقدہ ایک پروگرام میں ہوئی، جس میں مجھ سمیت سوات کے سینئر صحافی موجود تھے۔ پروگرام کا موضوع بڑا دل چسپ اور انوکھا تھا۔ سوات میں اس سے قبل اس موضوع پر کوئی پروگرام (میرے اندازے کے مطابق) نہیں ہوا ہے۔ چار گھنٹوں پر مشتمل پروگرام کا موضوع ’’اظہار رائے ہر انسان کا بنیادی حق ہے‘‘ تھا۔ اس پروگرام میں سب سے زیادہ جو دل چسپ چیزتھی، وہ اقلیتوں کے حوالے سے تھی کہ سوات اور پھر پورے ملک میں جو اقلیتی برادری بستی ہے، اسے اظہار رائے کا حق حاص ہے یا نہیں۔
پروگرام میں جو اعداد وشمار پیش کیے گئے، اس کے مطابق سوات میں اس وقت اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد سکھوں کی ہے۔ تقریباً چار سو چھیانوے خاندانوں پر مشتمل سکھ برادری اس وادی میں رہتی ہے۔ اس طرح ایک ہندو فیملی، ستانوے مسیحی برادری رہائش پذیر ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر برادریاں بھی موجو د ہیں۔ ان میں سے سکھ برادری تعلیم یافتہ اور کاروباری لوگ ہیں۔ جب کہ مسیحی برادری کے زیادہ تر لوگ صفائی کے کاموں سے وابستہ ہیں۔ سکھ برادری کے لیے ایک گردوارا جب کہ مسیحی برادری کے لیے ایک گرجا گھر موجود ہے، جس میں دونوں برادری سے تعلق رکھنے والے عبادت اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔
سوات میں موجود یہ اقلیتی برادریاں اگرچہ بہ ظاہر پرسکون وقت گزار رہی ہیں، لیکن جس طرح اہل سوات کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ٹھیک اسی طرح انھیں بھی مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ آج تک راقم نے کسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے شخص سے نہیں سنا کہ ہمیں ان مشکلات کا سامنا ہے، ہمارے ساتھ یہ نا انصافی ہوئی ہے۔ خاموش رہنے والی ان اقلیتی برادریوں کے سا تھ مختلف صورتوں میں بے انصافی ہوتی ہے، مگرہم نے اس طرف کبھی توجہ نہیں دی ہے، جس کی وجہ ان کی خاموشی ہے۔
مجھے سوات کی ان تمام اقلیتی برادریوں میں سب سے مظلوم ’’مسیحی برادری‘‘ سے تعلق رکھنے والے نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوات میں جس گرجا گھر میں مسیحی برادری اپنی عبادت اور مذہبی رسومات ادا کرتی ہے، اس کی حالت انتہائی ناقص ہے اور جگہ اتنی کم ہے کہ بہ یک وقت پوری مسیحی برادری اس میں نہیں سما سکتی۔ اس طرح ہمارے پولیس اہل کار جو وہاں سیکورٹی پر تعینات ہوتے ہیں، ان کو گرجا گھر کے تقدس کا ذرہ برابر خیال نہیں۔ وہ پولیس اہل کار جہاں مسیحی برادری عبادت کرتی ہے، وہاں وہ تمباکو نوشی کرتے ہیں اور گپ شپ لگاتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا مذہب قطعاً ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم کسی کی عبادت گاہ کی حرمت کو پائے مال کریں بلکہ ہمارا دین تو ہمیں دیگر مذاہب اور ان کے پیروکاروں کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔
یہاں پر میں نے مسیحی برادری کا ذکر اس لیے شروع کیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان لوگوں کو بہت ہی حقیر تصور کیا جا رہا ہے۔ مگرحقیقت میں یہ لوگ بڑے عظیم ہیں اور عظیم اس لیے کہ ہمارے وہ کام جو ہم نہیں کرسکتے۔ یہ لوگ کر دکھاتے ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ ہمارا وہ گند صاف کرتے ہیں، جنھیں دیکھ کر ہمیں ابکی آتی ہے۔ برسبیل تذکرہ، ہمارے گھر میں باورچی خانے کا ایک پائپ بند ہوا تھا۔ جو گندا پانی تھا، وہ فرش پربہتا تھا۔ میں اس الجھن میں مبتلا ہوگیا کہ اس کا کیا جائے۔ فرش کو توڑ کر پائپ آزاد کرلوں یا نیا پائپ لگوالوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اچانک مسیحی برادری کا خیال آیا اور دوسرے ہی لمحے میں نے ان میں سے ایک سے رابطہ کرلیا۔ چشم زدن میں دو بندے آئے۔ انھوں نے پائپ چیک کرلیا اور دس منٹ میں میرے گھر کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہوگیا۔
یہ لوگ اسپتالوں سمیت دیگر تعلیمی اور نجی عمارتوں میں کام نہ کرتے، تو وہاں کی صفائی کا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں۔ ہمارے سرکاری آفیسرز تو نو بجے دفتر پہنچتے ہیں اور یہ لوگ صبح پانچ بجے پہنچ کر صفائی شروع کردیتے ہیں۔ آٹھ بجے تک تمام دفاتر اور مکمل اسپتال کی صفائی مکمل ہوتی ہے۔ بدلے میں ان کو ضرور تن خواہ ملتی ہوگی، لیکن کیاہم ان کی جگہ صفائی کا کام کرسکتے ہیں؟ یقیناًآپ کا جوا ب نفی میں ہوگا۔ جب یہ لوگ ہمارے وہ کام کرتے ہیں جنھیں دیکھتے ہوئے بھی ہمیں ابکیاں آتی ہیں، تو پھر ہماری بھی ذمے داری بنتی ہے کہ ان کے مسائل ومشکلات کے لیے ٹھوس اور عملی اقدام کریں۔
قارئین کرام! چار گھنٹوں پر مشتمل پروگرام میں میرا ذہن مسلسل ان باتوں میں الجھا رہا کہ اگر مذکورہ برادری ہماری ان ضروریات کو پورا کررہی ہے تو بدلے میں ہم ان کے لیے کیا کررہے ہیں؟ ہم تواپنے تہواروں کو خوب مناتے ہیں، خوب غل غپاڑا کرتے ہیں اور ملنے والی چھٹیوں سے زیادہ منانا اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں، تو جب ان برادریوں کے تہوار ہوتے ہوں گے، تو کیا ان کو بھی زائد چھٹیاں منانے کی اجازت ہوگی؟ یہ لوگ بھی ہماری طرح غل غپاڑا کرتے ہیں؟ یا پھر ان کے تہوار اتنے خاموش ہوتے ہیں کہ صرف ٹی وی کے علاوہ آدمی ان سے بے خبر ہی رہتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ ان کے تہوار اور مذہبی دن بھی ہوا کرتے ہیں۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج تک کسی ایک بھی علاقائی اخبار میں، میں نے نہیں پڑھا کہ کسی سرکاری افسر یا ممبر اسمبلی نے اقلیتی برادری کے مذہبی تہواروں میں شمولیت کی۔بلکہ میں خود کو بھی ذمے وار ٹھہراتا ہوں کہ ہمارے صحافی بھائیوں نے اس بارے کبھی غور نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان لوگوں سے ان کے مسائل جاننے کی کوشش ہی کی ہے۔
قارئین کرام! موضوعاتی پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد میں بہت خوش تھا اور اب خوشی دوگونہ ہوگئی ہے کہ آج ان لوگوں کے لیے لکھ رہا ہوں، جن کے لیے بہت پہلے لکھنا چاہیے تھا، جن کے مسائل قلم کے ذریعے حکم رانوں تک پہنچانا چاہیے تھے۔ یہ تو کاشف کمال صاحب کا ہم لوگوں پر احسان ہے کہ انھوں نے ہمیں اتنے اہم موضوع پر لکھنے کی دعوت دی اورساتھ ساتھ اقلیتوں کے مسائل پر ہمارے ساتھ مفصل بحث کی۔ یقیناًمجھ سمیت ہر پاکستانی شہری کی ذمے داری ہے کہ ہم اپنے ساتھ رہنے والے اقلیتی برادری کے ساتھ احسن سلوک کریں۔ ان کی مذہبی جگہوں کا احترام کریں۔ ان سے گھل مل لیں اور ان سے ان کی ضروریات بارے پوچھ لیں۔
پروگرام ختم ہونے کے بعد میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر سرچ کر رہا تھا کہ ٓایا کبھی سوات کی اقلیتی برادری نے اپنے حق میں آواز بھی کبھی اٹھائی ہے؟ اور کیا ان کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے بھی؟ مزید یہ کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے ابھی تک کسی نے کام کیا بھی ہے؟ تو جواب ’’مرغی کی وہی ایک ٹانگ‘‘ کے مصداق تھا۔
انتہائی افسوس کے ساتھ رقم کرنا پڑرہا ہے کہ اب تک ہم نے انھیں اپنے جیسا انسان نہیں سمجھا۔ کیوں کہ اگر ہم ایسا سمجھتے، تو پھر ان کو درپیش مسائل کے حل پر بات کرتے اور انھیں کسی حد تک کم بھی کرلیتے۔ یہ بھی افسوس کے ساتھ رقم کرنا پڑ رہا ہے کہ والئی سوات کے دور حکومت میں بننے والا گرودوارہ اب سکھ برادری کے لیے ناکافی ہے۔ اس دور میں صرف ایک گاڑی کے لیے جو سڑک بنائی گئی تھی، آج اس پراتنی گاڑیاں چلتی ہیں کہ منٹوں کا فاصلہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، تو اس وقت کی سکھ برادری کے لیے جو ایک چھوٹا سا گورودوارہ بنا یا گیا تھا، وہ آج کس طرح کافی ہوسکتا ہے؟
یہ وہ خیالات ہیں جو پروگرام کے بعد میرے ذہن میں کھدبدا رہے ہیں۔
میرے اپنے تمام صحافی بھائیوں سے اپیل ہے کہ معاشرے کے اس گھسے پھٹے طبقہ کے لیے بھی قلم اٹھائیں۔یہ کسی اور ملک کے نہیں بلکہ مملکت خداداد کے باسی ہیں۔ میری تحریک انصاف کی حکومت سے بھی گزارش ہے کہ ایک نظر کرم ادھر بھی ’’فرمائیں۔‘‘
1,104 total views, no views today


