مینگور( سوات نیوز ڈاٹ کام )صدر کلاس فور ضلع دیر لوئر معتبر خان نے کہا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ نے 11ستمبر 2017 ء کو تاریخی اور حق پر مبنی فیصلہ دیا ہے ، جس کی رو سے تمام کلاس فور ملازمین نے سکھ کا سانس لیا ہے ، انہو ں نے کہا کہ ضلع دیر لوئر میں نائب قاصد کے خالی آسامیوں پر اے ڈی نے اپنے منظور نظر افراد کو غلط طریقے سے لیا تھا،اور جس پر اے ڈی نے ضلع سے باہر کے افراد کو بھی بھرتی کیا تھا، جو دیر لوئر کے غریب عوام کے ساتھ نا انصافی اور ظلم ہے ، اے ڈی کا یہ غیر قانونی اور غلط آرڈر کو ڈپٹی کمشنر ضلع دیر لوئر نے منسوخ کیا تھا، جس پر غیر قانونی طور پر بھرتی افراد نے عدالت عالیہ میں رٹ دائر کی تھی، مذکورہ رٹ میں ضلع دیر لوئر کے عوام کی نمائندگی معروف اور سینئر قانون دان عبدالحق ایڈو کیٹ نے کی تھی، اس رٹ پر فاضل عدالت عالیہ نے فیصلہ سناتے ہوئے اے ڈی کا غیر قانونی بھرتیوں کے حکم کو کالعدم اورمحکمہ کو احکامات صادر کئے کہ دو ماہ کے اندر اندر کلاس فور کے اسامیوں پر میرٹ کی بنیادپر نئی تقرریاں کی جائے، اس تاریخی فیصلے پر دیر لوئر کے عوام اور ناظمین نے بھرپور خیر مقدم کیا ہے، اور عدالت عالیہ کے فیصلے پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے، اس اہم فیصلے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوئے ہیں ، ۔
1,618 total views, no views today


