لندن: بین الاقوامی کرکٹ میں میچ فکسنگ کے گڑھے مردے ایک مرتبہ پھر سے اکھڑنے لگے۔
نیوزی لینڈ کے سابق ٹیسٹ کرکٹر لو ونسنٹ کی جانب سے کرکٹ میں فکسنگ کے چشم کشا انکشافات کے بعد اب آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی ایک رپورٹ سامنے آئی جو جنوری 2012 میں تیار کی گئی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ اے سی ایس یو 2011 تک 281 معاملات کی چھان بین میں مصروف تھا، ان میں ان بکیز اور دیگر مشکوک لوگوں کا ذکر ہے جنھوں نے انگلینڈ میں 2009 میں کھیلے جانے والے ورلڈ ٹوئنٹی 20 اور 2011 ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
ایک کھلاڑی کو زمبابوے اور بنگلہ دیش کے دوران 2010 میں کھیلی جانے والی سیریز میں مطلوبہ کارکردگی کے عوض 96 ہزار پاؤنڈ کی پیشکش ہوئی، جس نے یہ رابطہ کیا اس بھارتی بکی کو رپورٹ میں ’جے ایس‘ کہا گیا ہے، ایک پلیئر ایجنٹ کو ایک اور بھارتی بکی ’وی جی‘ کی جانب سے ان میچز میں فکسنگ کے لیے 2 لاکھ پاؤنڈ کی آفرکی گئی جو بھارت میں ٹی وی پر نشر ہوتے ہیں۔ اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے دنیا بھر کے 100 سے زائد افراد کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی گئی، اس عرصے کے دوران پلیئرز یا اسٹاف کو کی جانے والی 11 مشکوک آفرز کی چھان بین کی گئی، 124 مشکوک چیزوں کا جائزہ لیا گیا جبکہ 67 افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھی گئی، مختلف قسم کا ڈیٹا حاصل کیا مگر ان سب چیزوں کے باوجود اس رپورٹ میں ان انکشافات کا کوئی تذکرہ نہیں جو لوونسنٹ نے کیے۔
انھوں نے کہا تھا کہ 2011 کے دوران 2کاؤنٹی میچز فکسڈ ہوئے مگر اس بارے میں اے سی ایس یو کی رپورٹ میں ذکر نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس یونٹ کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہوسکا جبکہ آئی سی سی ایک خطیر رقم اس یونٹ پر خرچ کرتی ہے، جس عرصے میں رپورٹ تیار کی گئی اس دوران اے سی ایس یو کے 9 آفیسرز نے 1469 راتیں مجموعی طور پر اپنے گھر سے دور گزاریں لیکن ونسنٹ کے انکشافات ثابت کرتے ہیں کہ یہ یونٹ کرپشن پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا،اس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک بھارتی بکی ’ ایس بی‘نے اس وقت یو اے ای کا سفر کیا جب وہاں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کھیلی جارہی تھی۔
اس نے 2کھلاڑیوں سے رابطہ کیا مگرچونکہ اس بکی کے بارے میں اے سی ایس یو دونوں ہی ٹیموں کو خبردار کرچکی تھی اس لیے کوئی بھی اس کے جھانسے میں نہیں آیا، اسی طرح رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ بکیز کھلاڑیوں کو گھیرنے کے لیے خوبصورت لڑکیوں کی بھی مدد لیتے ہیں،2009 کے ورلڈ ٹی 20 کے موقع پر ’این ایم‘ اس ہوٹل میں مقیم تھی جہاں پر زیادہ تر ٹیموں کے کھلاڑی ٹھہرے ہوئے تھے، یہی لڑکی پھر 2011 کے ورلڈ کپ میں بھی دکھائی دی۔اے سی ایس یو نے اس بکی کو بھی بے نقاب کیا جس نے مرون ویسٹ فیلڈ کو کرپشن کی راہ دکھائی، اسی طرح 2010 کے پاکستانی فکسنگ اسکینڈل میں ملوث پلیئرز ایجنٹ مظہر مجید اور اس کے بھارت میں بکی کے درمیان 300 کالز یا میسجز ہوئے۔
792 total views, no views today


