موسم کے گرم ہوتے ہی مچھر اپنا جلوہ دکھانا شروع کر دیتے ہیں، جن میں کچھ مچھر جان کے دشمن بھی بن سکتے ہیں۔ سوات سمیت پاکستان کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں ڈینگی بخار کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ ڈینگی کیا ہے؟ اس کی ابتداء کہاں سے ہوئی اور اس سے بچنے کے کیااحتیاطی تدابیر کیے جا سکتے ہیں؟ اس حوالہ سے آج کی نشست میں ہم بات کریں گے۔ اس مرض کی ابتداء کہاں سے ہوئی، اس بارے میں کوئی حتمی بات تو نہیں کی جا سکتی لیکن ایک معروف ویب سائیٹ ویکی پیڈیا کے مطابق اس بیماری کی ابتداء ایشیا، افریقہ اور شمالی امریکہ میں 1775ء میں ہوئی، جہاں ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں اچانک ایک ایسی وبا پھیلی جس میں مریض کو ایک دم بخار ہو جاتا اور ساتھ ہی سر اور جوڑوں میں درد شروع ہو جاتا۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے سات سے دس دن تک اسی بیماری میں مبتلا رہنے والے مریض بعد میں ہلاک ہو نے لگتے،جس سے وہاں کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیااور بڑی تعداد میں لوگ متاثرہ علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس وقت کے ڈاکٹروں نے جب اس بیماری کا پتہ چلایا، تو تحقیق سے سامنے آیا کہ یہ ایک خاص قسم کا مچھر ہے، جس کے کاٹنے سے یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔
1950ء میں یہ بیماری جنوب مشرقی ایشیاء کے ممالک میں ایک وبا کی صورت میں نمودار ہوئی، جس سے لوگ ہزاروں کی تعداد میں (بالخصوص بچے) جاں بحق ہوئے۔ 1975ء سے 1980ء کے دوران میں بہت سے کیس سامنے آئے اور یہ بیماری عام ہو گئی۔ 1979ء میں اس بیماری کی شناخت ہوئی اور اسے ڈینگی بخار یا dengue fever کا نام دیا گیا۔
ڈینگی دراصل اسپینی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی cramp (آڑ، قینچی) کے ہیں ۔اس بیماری کو dirty soul یعنی گندی روح بھی کہا جاتا ہے ایک ریسرچ کے مطابق 1990ء کے آخر تک اس بیماری سے تقریباً 40لاکھ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اب تک اس بیماری سے سب سے بڑا نقصان برازیل کو پہنچا ہے۔ 2002ء میں برازیل کے جنوب میں واقع ریاست Rio de janeiro میں یہ بیماری کی صورت میں پھیل گئی اور اس بیماری کے ہاتھوں تقریباً دس لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ بیماری پانچھ سے چھے سال میں پھیلتی ہے جب کہ اس بیماری کے علاج کے بعد دوبارہ بھی اس میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات موجود ہوتے ہیں اور جو فرد ایک دفعہ اس بیماری کا شکار ہوا ہو، وہ دوسری د فعہ جلدی اسی بیماری کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس بیماری کے کچھ مخصوص علامات ہیں، جن میں تیز بخار، سردرد، منھ اور ناک سے خون آنا، پیٹ کے پیچھے کمر میں درد ہونا اور جسم پے سرخ دانے نکلنا شامل ہیں۔ اگر اس بیماری کو فوری کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر’’ڈینگی ہیمرج فیور‘‘ شروع ہو جاتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ بخار کی تیزی کی وجہ سے بعض اوقات دماغ کی رگ بھی پھٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔
یہ بیماری ایک خاص ایڈیز نامی مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس مچھر کی ٹانگیں اور جسامت عام مچھروں سے قدرے بڑی ہوتی ہیں اور یہ ایک رنگین قسم کا مچھر ہوتا ہے، جس پر زیبرا کی طرح دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ رات کے بجائے شام کو یا صبح سویرے اپنے شکار کی تلاش میں نکلتا ہے جب کہ گندگی کے بجائے گھروں میں اور گندے پانی کے بجائے صاف پانی میں رہتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈینگی وائرس پھلانے والے مچھروں کی اڑتیس اقسام ہیں۔ پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم پائی جاتی ہے۔ دنیا کی چالیس فی صد آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ گھروں اور محلوں میں اس وبا سے نجات کا حل یہی ہے کہ گلی کوچوں میں جراثیم کش ادویہ کا مسلسل اسپرے کیا جائے، تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش گاہیں ختم ہو جائیں۔گھروں میں صاف پانی کے برتن کو اچھی طرح ڈھانک کر رکھا جائے اور سوتے وقت موسپل ٹائپ کی لوشن جسم پر ملی جائیں یا مچھر دانی کا استعمال کیا جائے۔
1,718 total views, no views today


