چیئرمین ڈیڈک سوات فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ جہانزیب کالج کی تعمیر نو پر 39کروڑ روپے جبکہ اسی کالج کے بی ایس بلاک کی تعمیر پر 8کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جبکہ وتکی اور سیدو شریف کے علاوہ متعدد سکولوں میں ہائرسیکنڈری کلاسز کا اجراء کیا گیا ہے۔یہ منصوبے صوبائی حکومت کی جانب سے سیکنڈری اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے صوبہ گیرانقلابی اقدامات کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہانزیب کالج میں بی ایس پشتو کورسزکا اجراء ہماری ان کوششوں کا مظہر ہے جو ہم اپنی مادری اور عظیم زبان پشتو کی ترقی اور فروغ کیلئے کر رہے ہیں۔وہ جمعرات کے روز گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج سوات میں پشتو اور اسلامیات سمیت چھ شعبہ جات میں بی ایس پروگرام کے اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر ضلع ناظم سوات محمد علی شاہ ،پرنسپل شوکت بیگ،پروفیسرز،لیکچررز،پشتو کی ایک کثیرتعداد موجود تھی ۔چیئرمین ڈیڈک نے کہا کہ تعلیم موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کیلئے چالیس ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کئے گئے ۔سکولوں میں اضافی کمروں اور ضروری سہولیات کی فراہمی پر اربوں روپے چرچ کئے۔قرآن پاک ناظرہ و ترجمعہ کو اس میں شامل کیا ۔اسی طرح موجودہ حکومت نے دس نئی یونیورسٹیاں قائم کیں ۔موجوہ حکومت کے تمام اقدامات کا ذکر کرنا مختصر وقت میں ممکن نہیں ،انہوں نے کہا کہ پشتو زبان و ادب اور شعراء اور فنکاروں کی سر پرستی کیلئے موجودہ حکومت نے سینکڑوں شعراء اور فنکاروں کو 30ہزار روپے فی مہینہ سکالر شپ کا اجراء کیا۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بی ایس پشتو کے اجراء کے نتیجے میں سوات اور ملاکنڈڈویثرن کے طلبہ کو اپنی مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع ملیں گے اور ان کو ملک بھر میں پشتو زبان وادب کے فروغ کیلئے خدمات ادا کرنے کے مواقع ملیں گے۔اس موقع پرپرنسپل شوکت بیگ،پروفیسرعطاء الرحمن،پروفیسرڈاکٹر سلطان روم ،پروفیسرمحمدشاکراور دیگر نے بھی خطاب کیااور بی ایس پروگرام پر روشنی ڈالی۔یاد رہے کہ جہانزیب کالج صوبہ کا اولین پوسٹ گریجویٹ کالج ہے۔جس میں پشتو زبان وادب میں بی ایس کورسزکا اجراء کیا گیا ہے بی ایس پشتو میں 55 طلبہ نے داخلہ لیا ہے جن میں دو طالبات بھی شامل ہیں۔بی ایس کلاسز سیکنڈ ٹائم میں ڈیڑھ بجے سے ساڑھے چار بجے تک پڑھائے جائیں گے۔
1,898 total views, no views today



