ويسے تو سياست كے كهيل !! كهيلے ہى ايسے جاتے ہيں كہ عوام كو عوام كى دلچسپى كے سبز باغ دكهاكر عوام ہى كى طاقت كو استعمال كركے اقتدار حاصل كيا جاتا ہے اور پهراسى اقتدار كى زور پہ عوام كے جذبات كا استحصال كيا جاتا ہے.اور اس كے ساتھ ساتھ
بدقسمتى سے هم ايسى ہجوم كى صورت اختيار كرگۓ ہيں كہ اپنے اكابرين اور سياسى رہنماؤں كے بدبو دار منہ سے نكلنے والے ہر قسم كے جهوٹ پر ايسے يقين كرتے جاتےہيں جيسے ” كُل نفس ذائقه الموت” پر..!!!
گزشتہ انتخابات ميں حسب سابق وہى شاطر كهلاڑى ميدان ميں اترے تهے جو كہ نسل در نسل عوام كے جذبات سے كهيلتے آرہے ہيں اور غريبوں كاخون پسينہ پينے سے كسى بهى قسم كا دريغ نہيں كرتے علاوه تحريک انصاف كے چند نۓ چہروں كےسب اميدواران لوٹےبنتےہوۓ تحريک انصاف ميں شامل ہوۓتهے.
انتخابات سے پہلے تبديلى كے نعروں اور نويں دن ميں كرپشن كے خاتمے كے دعووں كے دلفريب كُليے كى بنياد پر ووٹ حاصل كرنےوالے تحريک انصاف كا انصاف تو ابهى تک كاغذات اور دفاتر سے ايک سال گزرنے کے باوجود بهى بد عنوانى كے خلاف عملى ميدان ميں نہ اُتر سكا.ميرے خيال ميں اسں گندے كنويں كو صاف كرنا اتنا آسان نہ تها جتنا تحريک انصاف والے سمجھ رہے تهے
اس كهوكهلے اور ناقص جمہوريت كے گندے كنويں سے چاہے جتنى بهى بالٹياں نكالى جاۓ اس كى صفائى تب تک نہيں ہوگى جب تک كہ اس كنويں ميں سے اس ميں گِرا كتا نہ نكالا جاۓ.
ميرے ايک جذباتى انصافيَن دوست فرماتےہيں بلكہ تحريک انصاف كا ہر وركر اور ہر اہلكار كہتا ہے كہ صوبہ خيبر پختونخواه ميں تحريک انصاف نے پٹواريوں اور محكمہ پوليس ميں اصلاحات كركے كرپشن كا خاتمہ كرديا ہے.
اور ميں يہ مانتا بهى ہوں كہ ان دو محكموں ميں تبديلى كے آثار سننے ميں آۓہيں.
وه تبديلياں كچھ يوں ہيں كہ..!!!
ميرے ايک واقف پٹوارى سے ميں نےپوچها كہ بهئى كيا حال چال ہے تحريک انصاف نے حقہ پانى تو بند نہيں كيا نا؟؟
فرمانے لگے كہ جو كام ہم پانچ ہزار روپے “چاۓ پانى” ليكر كرتے تهے اب وه پچاس ہزار “چاۓ پانى” ليكر كرتے ہيں كيونكہ سختى بہت ہے نا…!!! نوكرى كو خطره ہوتا ہے.
اس كا لفظ “چاۓ پانى ” مجهے بہت پسند آيا…!!!
كل ركشے ميں بهيٹا بازار جارہا تها تو ركشہ ڈرائيور نے انوكها واقعہ سنايا.
كہ ايک مزدور تعميراتى كام ميں استعمال ہونے والى لكڑى كى بنى دو پہيوں والى سيڑهى سڑک پر دهكيلتے ہوۓ جارہا تها كہ ٹريفک وارڈن نے روک كر دو سو دس روپے كا پرچہ تهما ديا مزدور منتيں كرتا رہا كہ يہ پيسے مجهے نہيں ملنے والے ليكن وارڈن نےايک نہ سنى.حالانكہ اسى سڑک پر ہتھ ريڑى و گدها گاڑيوں كا گزر بهى ممنوع نہيں.
ركشہ ڈرائيورہنستے ہوۓ كہنے لگا كہ بهائى بہت پرچے ديكهے ہيں ليكن سيڑهى كا پرچہ پہلى بار ديكها.
موخوده غلطيوں و مغالطوں ميں عمران خان كا ہرگز قصور نہيں كيونكہ عمران خان غلط فہمى ميں تها كہ اس بد صورت اور بد نما كهوكهلے اور دهكوسلے جمہوريت ميں رہتے ہوۓ هم ايک بہترين رياست كى تكميل كرينگے.اب اگر كوئى نزديک كے چشمے ميں دور كا ديكهےگا تو نتجتاً سر تو چكرائيگا نا…!!!
عمران خان كو “تحريک پاكستان”(1947سےپہلےوالا) اور تحريک انصاف كے بيچ ميں وطن فروشوں و ضمير فروشوں كا اُگلا ہوا زہر نظر نہيں آرہا تها.
اور بار بار اقبال كى شعر كے اس مصرعے كا ورد كررہا تها كہ!!!
“نيا زمانہ نيۓ صبح و شام پيدا كر”
بد عنوانى ہمارے نظام ميں ايسى سرايت كر گئى ہے كہ پاكستان كو كوئى اپنا سمجهتا ہى نہيں ہر كوئى اپنى سوچتا ہے…..!!!!!
اس وقت مجهےاپنے سكول (جہاں ميں دهم تک پڑها ہوں) كى ياد آرہى ہے
هم كالے كپڑوں ميں ملبوس ہوكر سكول جاتے تهے اور آج بچے سفيد كپڑوں ميں ملبوس اسى اسكول كو جاتے ہيں.
يعنى تبديلى صرف يونيفارم كى حد تک آگئى ہے.
باقى سكول كے اندر نظام تعليم وہى كا وہى ہے سليبس وہى كا وہى ہے اساتذه كرام بهى زياده تر وہى ہيں اور سكول كے باہر حفظان صحت كى دهچياں اڑانے والے چهولے فروش اور سموسے فروش آج بهى وہى پر بهيٹے ہيں
1,206 total views, no views today


