مٹہ،سوات کے علاقے مٹہ میں نجی اسپتال میں ناک کے آپریشن کے لئے ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث ذیادہ نشہ دینے سے ایف ایس سی کا طالب علم دم توڑ گیا ،اہلخانہ نے ڈاکٹر خداداد کے خلاف پولیس اسٹیشن مٹہ میں رپورٹ درج کرالیا ،پولیس نے مٹہ اسپتال میں متوفی کی پوسٹ مارٹم کراکرانکوائری شروع کردی ہے ،
ایس ایچ او مٹہ سید امجدعلی کے مطابق متوفی کے ماموں نثار سکنہ شیرپلم نے پولیس کو رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے بھانجے ایف ایس سی کے طالب علم آصف ودود ولد عبدالودود سکنہ شیرپلم کو ناک کے آپریشن کے لئے نجی اسپتال میں ڈاکٹر خداداد کے ساتھ داخل کرایا جہاں اسے آپریشن تھیٹر لیکر جاکر نشہ دیا گیا جو حدسے ذیادہ دیکر وہ آپریشن سے پہلے ہی دم توڑ گیا ،جس پر مٹہ پولیس نے ابتدائی رپورٹ درج کرکے نوجوان کو پوسٹ مارٹم کے لئے مٹہ اسپتال منتقل کردیا ہے اور انکوائری شروع کردی گئی ہے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر خداداد نوجوان کی موت کے بعد زیر زمین چلا گیا ہے جس کے باعث ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے ،یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایک نجی اسپتال میں مقامی صحافی نورالہادی کی شادی شدہ بیٹی بھی ڈیلیوری کیس کے دوران ناتجربہ کار عملے کی وجہ سے بچے سمیت جاں بحق ہوگئی تھی لیکن تاحال محکمہ صحت کی جانب سے غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈاسپتالوں اور کلینکس کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے ۔
651 total views, no views today


