میڈیا کو اس ملک میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں پروان چڑھنے والے پاکستانی میڈیا نے بہت ہی کم عرصہ یعنی صرف چودہ سال میں جو مقام حاصل کیا، آج وہ کھویا جا رہا ہے۔ آج میڈیا والے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا وہ سلسلہ شروع ہے کہ الامان و الحفیظ۔ یقیناًوہ ایک قابل مذمت فعل ہے جب حامد میر پر حملے کے بعد ایک چینل نے پاک فوج اور ہمارے اداروں کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے مورد الزام ٹھہرایا اور آئی ایس آئی کے چیف ظہیر الاسلام کی تصویر ٹی وی اسکرین پر آٹھ گھنٹے کارڈ میں لگا کر اس طرح چلائی کہ انھیں ایک مجرم کے طور پر پیش کی گیا۔ اس عمل پر پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی اور ہمارے روایتی حریف بھارت نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اور یوں ہمارے اداروں پر کیچڑ اچھالنے کا ایسا موقع انھیں ہاتھ آیا جو شائد اتنے عرصہ میں کسی کو نہیں آیا تھا۔ نتیجتاً ہمارے اداروں کی بدنامی ہوئی۔ کوئی بھی محب الوطن یہ نہیں کہہ سکتاکہ یہ اچھا ہوا ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، جنھوں نے بغیر کسی تحقیق کے اتنی بڑی خبر آٹھ گھنٹے تک مسلسل چلائی۔ یہ تو قابل تاسف ہے ہی مگر اس سے بھی بڑی افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سب کے بعد ایک میڈیا وار شروع ہوگیا۔ ہر چینل دوسرے میں خامیاں ڈھونڈنے لگا اور ملک کے دیگر تمام مسائل چھوڑ کر ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہوگئے اور اب کئی دنوں سے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام سمیت پوری دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے اور بغلیں بجا رہی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارا ملک کسی نہ کسی طور پر عالمی میڈیا کے لیے اہمیت کا حامل رہا ہے،چاہے وہ دہشت گردی ہو یا سیاسی کھیل،منتخب حکومت پر شب خون مارنا ہو یا کرپشن ہو، بم دھماکے ہوں یا شکیل آفریدی جیسے غدار کے کرتوت۔اسے ہماری خوش قسمتی کہہ لیجیے یا پھر بدقسمتی کے ہم اقوام عالم کی نظروں کا محور ہیں۔
قارئین کرام! آج میڈیا خود ایک خبر بنا ہوا ہے۔ جو دوسروں کی خبریں اپنے اسکرین کی زینت بنایا کرتا تھا، آج خود خبر بن گیا ہے اور پورا پاکستان اس سوچ میں ہے کہ کیا میڈیا کو کم زور کرنے کی سازش تو نہیں ہو رہی؟؟؟ جس طرح ہمارے حکم ران یا ادارے سن 2000ء سے پہلے جو کچھ کرتے تھے، ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ رات نو بجے ہم سب پی ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر حکم رانوں کے کارنامے دیکھ کر بہت خوش ہوجایا کرتے کہ ’’چلو یار سب اچھا ہے۔‘‘ کسی بھی جگہ سے دھماکے،حکم رانوں یا وزرا ء کی کرپشن یا مغرب کے خلاف کوئی بھی نیوز نہیں ہوتا تھا اور اس وجہ سے بن داس زندگی گزر رہی تھی۔
قارئین کرام! لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا اگر یہ آزاد میڈیا نہ ہوتا، تو ایک ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی وردی کوئی اتارسکتا تھا؟ اسے صدارت کی کرسی سے اتارنے کی ہمت کس میں تھی؟ آج اگر وکلاء سینہ تان کر کھڑے ہیں، تو یہ سب اس آزاد میڈیا کی بہ دولت ہی تو ہے، اگر آج عدلیہ آزاد ہے، تو اس کے لیے اسی میڈیا نے جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں وکلاء کے ساتھ ساتھ میڈیا کے نمائندوں نے بھی ڈنڈے کھائے۔ اور دو دو ماہ تک اے ار وائی نیوز اور اسی جیو چینل کو بند رکھا گیا تھااگر یہ آزاد میڈیا 1971ء میں ہوتا، تو آج پاکستان دو لخت نہیں ہوتا اور بنگال بھی پاکستان کا حصہ ہوتا ۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر 1977ء میں یہ آزاد میڈیا ہوتا تو آج ہمارے ملک کے عوام ایک اچھے لیڈر زولفقار علی بھٹو سے محروم نہ ہوتے اور آج بھٹو ہمارے درمیان موجود ہوتا۔ اگر 1999ء میں یہی آزاد میڈیا ہوتا، تو ہمارے حکم ران، ہمارے اداروں اور افواج کو اس طرح آسانی سے کارگل سے یو ٹرن لینے کا حکم نہ دیتے۔ اسے میں اپنی بدقسمتی پر محمول کرتا ہوں کہ آج ان سب باتوں کے باوجود ہم ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں آزادئ اظہار رائے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ میڈیا کے ایک مونیکا لیونسکی اسکینڈل کے منظر عام پر لانے کے بعد دنیاوی سپر پاورکے صدر استعفٰی دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر بات کسی ایک چینل کی نہیں، آزادئ اظہار رائے کی ہے۔ کسی کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اسے لگام ڈالنے کی خاطر عدالتیں موجود ہیں۔ نام نہاد پیمرا ہے۔ ان کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے۔ ہمارے میڈیا کے دیگر گروپس کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ کسی کا ایک گروپ کا ٹرائل کریں ۔
ہمارا میڈیا جو پہلے اس ملک میں مسائل کا ڈھنڈوراپیٹ رہا تھا، آج وہ سب کچھ بھول گیا ہے کہ اس ملک میں کرپشن کی جڑیں پھیلتی جا رہی ہیں۔ بجلی اور سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نے غریب عوام کو لوہے کے چنے چبوانے پر مجبور کیا ہے۔ پولیس گردی عام ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے حکم ران اس ملک کے عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ غریب عوام آئی ایم ایف کے قرضوں تلے دبے ہیں۔ اٹھارہ کروڑ عوام میں سے دو تین فی صد کے علاوہ دیگر تمام دووقت کی روٹی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ بزرگ اولڈ سینٹروں میں پڑے ہیں۔ ایدھی سینٹر بے سہارا بچوں سے بھرے پڑے ہیں۔ نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد ڈگریاں لے کر سرکاری دفاتر کے طواف پر مجبور ہیں۔ افسر شاہی کے نخرے بڑھتے جا رہے ہیں۔ بدامنی کی وجہ سے اسلام کے نام پر حاصل کی گئی جنت کی پوری دنیا میں بدنامی ہورہی ہے۔ ممبران اسمبلی بیش قیمت گاڑیوں اور ائر کنڈیشنڈ محلات کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں ۔
معماران قوم اور سرکاری ملازمین سڑکوں پر ہیں۔ قوم کا مستقبل کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن ہمیں اس سے کیا ہمارا کام تو یہ نہیں ہے۔ ہمارا کام تو ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہے۔ ہم اپنے اصل مقصد سے ہٹ گئے ہیں اور اب بھی وقت ہے کہ عدلیہ اپنا کردار ادا کرے۔ ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ورنہ بہت جلد ہمارا انجام پوری دنیا کے سامنے ہوگا۔
1,096 total views, no views today


