سوات ، گورنرخیبرپختونخوا سردار مہتاب احمدخان نے کہاہے کہ وطن عزیز خاص طور پرصوبے اور فاٹا میں حقیقی معنوں میں امن اور معمولات زندگی بحال کرنا یقیناً ایک بڑے چیلنج کی حامل ذمہ داری ہے اور ہم نے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر یہ فرض ادا کرنے کا عزم کیاہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ وکلاء برادری کا کردار اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے عدالتوں کے روبرو پیش ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے تعلیم اور راہنمائی کا وسیلہ بھی ہے جو یقیناً حکومت کی جانب سے قوم کو عالمی برادری کے ایک باوقار رکن کے طور پر تسلیم کرانے کیلئے کی جانیوالی کوششوں کو مزید مستحکم کرنے کے سلسلے میں بہت مدد گار ثابت ہوسکتاہے۔
منگل کے روز سوات ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سیدو شریف سوات میں منعقد کئے گئے خصوصی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے گورنرنے مزید کہاکہ ماضی قریب میں عسکریت پسندی کا مسئلہ ایک وقتی نوعیت کا رجحان تھا اور اللہ تعالی کے فضل سے ہم نے بحیثیت قوم اس پر قابو پایا۔تاہم انہوں نے مزید کہاکہ یہ بہترین وقت ہے کہ آئین اور قانون کی عملداری یقینی بنائی جائے اور ایک جمہوری قوم کی حیثیت سے ماضی کے تجربات کے تناظر میں اپنی آزادی کا تحفظ کیاجائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ریاست کی عملداری کو ہرحالت میں اور وطن کے ہرحصے میں برقرار رکھنااس کا بہترین ذریعہ ہوسکتاہے جو یقیناً تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے مشترکہ کوششوں پر غیرمتزلزل اعتماد کی بدولت ہی ممکن ہوتاہے۔ وزیراعظم کے مشیر انجینئرامیرمقام اور بار کے صدر جناب محمد ذاکر خان ایڈوکیٹ نے بھی اس موقع پر بار سے خطاب کیاجبکہ تقریب میں سابق وزیراعلی پیرسید صابرشاہ، ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان میاں حسین علی ایڈوکیٹ، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب فضل غفور ایڈوکیٹ اور ضلع بھر سے وکلاء برادری کی کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ گورنرنے دنیاکی مختلف ترقیافتہ اقوام کی مثال دیتے ہوئے وکلاء برادری کو یہ امر بھی باورکرایاکہ یقیناً قانون کی عملداری عملی طور پر برقرار رکھنے کیلئے عزم کے استحکام کی بدولت وہ نہ صرف اپنے عوام کی سماجی اور معاشی بہتری بلکہ جمہوری نظام کے استحکام کے حوالے سے بھی منفرد مقام کے حامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ امر بھی اشد ضروری ہے کہ معاشرے میں صبروتحمل کے رجحان کو فروغ دیاجائے۔ گورنرنے کہاکہ یہ اعلی مقصد حاصل کرنے کیلئے ہم سب کو بحیثیت قوم عزم نو کے ساتھ عوام کی بھلائی کیلئے اپنی کوششوں کو تیز تر کرناہوگا جو یقیناً بہت فعال ، مستعد اور محنتی لوگ ہیں۔ بارکے صدر جناب محمدذاکر خان ایڈوکیٹ کی جانب سے خطبہ استقبالیہ میں پیش کئے گئے نکات کا حوالہ دیتے ہوئے گورنرنے یقین دلایا کہ وہ ادارے کی ترقی اور توسیع خاص طور پر لائبریری کی ضروریات پوری کرنے کیلئے متعلقہ حلقوں سے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے فوری طور پر ادارے کیلئے اپنی جانب سے اور وفاقی حکومت کی جانب سے بھی دس، دس لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ قبل ازیں انجینئرامیرمقام اور جناب محمدذاکرخان ایڈوکیٹ نے بار سے خطاب کرتے ہوئے ضلع کے عوام کی ان مشکلات کا ذکرکیا جو انہیں ایک عرصے سے درپیش رہیں۔ جناب محمد ذاکر خان نے ضلع کی وکلاء برادری کو سازگار ماحول میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بنانے کیلئے بعض تجاویز بھی پیش کیں۔
460 total views, no views today


