تمام قومیں اپنے اور اپنے آئندہ نسلوں کے زندگیوں کی فلاح کے خاطر کچھ فیصلے کرتے ہیں لیکن ان میں سے بعض فیصلوں کے نتائج ان کے توقعات کے برعکس نکلتے ہیں جو ان قوموں کے لیے زندگی بھر کے لیے ندامت اور شرم کاباعث بنتے ہیں اور دوسروں قوموں کے لیے ان کے یہ فیصلے اس قوم کی تضحیک کا سبب بن جاتے ہیں۔ جو ہر جگہ اور ہر فورم پراس قوم کے لوگوں کو یاد دلائی جاتی ہیں یہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ تصویر کی طرح ہر فیصلے کے بھی دوروخ ہوتے ہیں ایک الٹا اور ایک سیدھا، لیکن ہماری قوم کا یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم ہمیشہ دوسرے کے عیب ڈھونڈنے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھتے اور ایک کے اچھائیوں پرپر دہ پوشی کرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ متعلقہ فیصلے کا اصل مقصد کیا تھا اس کا مطلب تو علاقے کی فلاح وترقی اور خوشحالی کے لیے تھا یہ اور بات ہے کہ ان کا ریزلٹ ان لوگوں کے توقعات کے برعکس ہوجاتاہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نیتوں پر فیصلے کرتا ہے سواتی قوم سے بھی کچھ اسطرح کے فیصلے ہوئے ہیں جوان کے نتائج ان کے توقعات کے مطابق نہیں نکلے لیکن یہاں میں اپنا ایک واقعہ قارئین کے زیر نظر کرنا چاہتاہوں جس سے واضح ہوجائے گا کہ سواتیوں کو کس قسم کے طعنے دیے جاتے ہیں ہوا یوں کہ میں گزشتہ ہفتے کس ذاتی کام کے سلسلے پشاورمیں گیا تھا وہاں ایک ایسے محفل میں جانے کا شرف نصیب ہوا جہاں علاوہ میرے باقی تمام شرکاا محفل اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز تھے جن میں پروفیسر، ڈاکٹر، بیوروکریٹس شامل تھے۔ چونکہ یہ دعوت طعام تھا ہم سب کھانے کے انتظار میں تھے کہ اس دوران شرکاء کے مابین تعارفی سیشن شروع ہوا ہر ایک اپنی باری پر اپنا تعارف کرارہاتھا جب میں نے اپنا تعارف کیا تو یہ لوگ سوات کانام سن کر میرے طرف ایک تعجب انگیز نظروں سے دیکھنے لگے جیسے میں کسی دیارغیر سے ہوں۔اس اثنا میں ان میں سے ایک صاحب جو شکل وصورت اور ڈول ڈھال سے کسی اچھے خاندان کے جسم وچراغ لگ رہے تھے بے ساختہ اور بے تکلف مجھ سے کہنے لگے کہ یار یہ سواتی اور بونیر کے لوگ انتہائی احمق اور بے شعور ہیں۔ ظاہر ہے ایسے لوگوں کے محفل اور پھر اسطرح کے اعلیٰ تعلیم یافتہ بندے سے اپنے سواتیوں اور بونیریوں کے بارے میں اسطرح کا جملہ سن کر مجھے سخت دکھ ہوا لیکن اس بات پر ہنسی آئی کے اتنے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اسطرح کے محفل میں اسطرح کا ریمارکس دنیا بھی کوئی شعور کی بات نہیں خیر میں نے اپنے آپ کو کنٹرول کرکے اس صاحب سے پوچھا کہ ہم کیسے احمق اور بے شعور ہے تو اس نے کہا کہ یارسواتیوں کا اپنا کوئی تو نظریہ یاویژن نہیں ہے ان کے سامنے جو بھی آتا ہے چاہے وہ ملاّ ہویاسیاست دان، یہ لوگ بہت جلدان سے دھوکا کھاکران کے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ان کو اسمان کی بلندیوں پر پہنچاتے ہیں اور بعد میں یہی لوگ پچھتاتے ہیں، ان کا یہ جواب سن کر میراغصہ اور بڑھ گیا جس سے میرا سربھی چکراگیا اور فوراً اس کو اپنی طرف متوجہ کرکے جواب دیا کہ میرے بھائی! بے شک آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ تو ہے لیکن آپ کے پاس علم نہیں ہے۔ آپ بھول جاتے ہیں کہ قیام پاکستان میں ہمارے بزرگوں نے پاکستان کا ساتھ دیا تھا اور1965ء کی جنگ میں یہی سواتی عوام نے کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نزانہ پیش کیا اور آج بھی ہم 2007ء سے پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ہم نے صوفی محمد کی تحریک کا اس لیے ساتھ دیا تھا کہ وہ شریعت محمدؐ کی بات کرتے تھے اوراس کرپٹ نظام سے چھٹکارا دلانے کے لیے میدان میں نکلنے کا کہہ رہے تھے۔ اور پاکستان بچانے کے نعرے کے خاطر ہم نے آئی ایس آئی کا ساتھ دیا کیوں کہ یہ لوگ پاکستان بچانے کی بات کرتے تھے اسی طرح ہم نے اسلامی نظام کا نعرہ لگانے والے ایم ایم اے کا ساتھ بھی دیا اوران کو بھی اسلام نظام نافذکرے کا بھرپور موقع دیا۔ لیکن یہ سب ناکام رہے اور ہاں! آپ کویاد ہوگا کہ ایس کے بعد، ہم نے امن کا نعرہ لگانے والے سیکولر جماعت اے این پی کا ساتھ دیا اسی طرح ماضی میں جو پارٹیاں ہماری وقعات پر پوری نہیں اتری ان کو یکسر مسترد کردیا اب اس بار تبدیلی کے نعرے لگانے والے عمران خان کو مینڈیٹ سے نوازا اور تبدیلی کے خواہاں سواتیوں نے ان کو چھ کے چھ سیٹ جتوائے لیکن اس صاحب نے بھی سواتیوں کے پرانے زخموں پر نمک ڈال کر اور تازہ کردیا اب عمران خان یہ بھول گئے کہ 1997ء میں گراسی گراؤنڈ میں سب سے بڑا جلسہ ان کوسواتیوں نے کر کے دکھایاجس کا گواہ دیرینہ کارکن فضل حکیم ایم پی اے ہے ۔ لیکن اب عمران خان صاحب نے نہ آؤ کیا تاؤ اور وزیراعلیٰ کی کرسی نوشہرہ کو عطاکی اس کے علاوہ بڑے بڑے وزارتوں میں بھی حصہ نہیں دیا اب سرجی! آپ جان چکے ہیں کہ یہ سب ہم نے اپنے ذاتی
ن کا ہر گزیہ مطلب نہیں کہ سواتی قوم بے شعور اور احمق ہیں۔
مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک کے مفاد اور علاقے کے بہبود کے لیے کیا۔
الغرض ہر بار ہم لوگوں نے ان لوگوں کو مسترد کردیا جنہوں نے ہماری امیدوں اور توقعات پر پانی پھیردیا اور اسی طرح ہر بار ملک اور عوام کے فائدے اور نظام کی تبدیلی کے لیے نئے لوگوں کو آزمایا جن سے ثابت ہوا کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں ہم کسی کے زرخرید غلام، نہ کسی جاگیردار کے جاگیر اور نہ کسی چوہدری خان، سردار اور ارباب کے تابع ہیں جیسا کہ ملک کے دوسری قومیں ان کی پنجوں میں پھنسے ہوئے ہیں ہم باشعورقوم ہے میں اور اپنے پر کام اور ہر فیصلوں میں آزاد اور خود مختار ہیں اسی لیے آزادانہ فیصلے کرتے ہیں جو آپ جیسے لوگ نہیں کرسکتے لیکن اب میں آپ سے سوال کرتاہوں کہ اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملا دہشت گردی، بدامنی، اغوابرائے تاوان، ڈکیتی، قتل وغارت ہاں جی! آپ کا قانون تو مردے انسان کھانے والوں کو سزا نہیں دے سکتا آئے دن بچیوں کا اغوا اور گینگ ریب ہوتے ہیں لیکن ابھی تک کسی کو سزا نہیں ہوئی۔
میرے بھائی! معافی چاہتا ہوں ذرا ہمت کرکے تو دکھاتے کہ ایک قاتل کو پڑوسی ملک ایران کی طرح کھلے عام پھانسی ملے ننھی منھی پھول جیسی بچیوں کے ساتھ زبردستی منہ کالا کرنے والوں کو سرعام لٹکاؤ اغوابرائے تاوان والے مجرموں کونشان عبرت بناکر دکھاؤ پھر دیکھو سواتی عوام کھبی بھی نظام کی تبدیلی کی بات نہیں کریں گے اور نہ کسی کے کھوکھلے نعروں میں آئیں گے۔
جناب من! ہم بے شعور نہیں سروے کے مطابق پورے پاکستان میں 35فیصد لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں جبکہ ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً سوات میں 65فیصد لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں یہ بھی سروے ہوچکاہے کہ سوات میں 99فیصد لوگ بجلی بل اداکرتے ہیں لیکن اسکے باوجود Pescoوالے اوور بلنگ کرتے ہیں اوران کا اعتراف آپ وزیر عابدشیر علی نے بھی کیا ہے۔ میرے ساتھ اور بھی بہت کچھ کہنے کو تھا کیونکہ میرا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہا میزبان نے کہا کھانا تیار ہے اور میری بات یہی ختم ہوئی۔
956 total views, no views today


