خصوصی رپورٹ /وقار احمد سواتی سے
گورنمنٹ پرائمری اسکول اغل برتھانہ تحصیل مٹہ کے طلباء نے اسکول بلڈنگ کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا، طلباء کا مزید کرایہ کے کچی بلڈنگ میں زمین پر بیٹھنے سے انکاری ہوگئے ، طلباء نے “ہمیں اسکول چاہئے ”کے نعرے بھی لگائے ، اسکول کرائے کے کچی بلڈنگ میں ہے جبکہ طلباء کے لئے بجلی ، فرنیچر ،پانی اور دیگر بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہے ،طلباء اور والدین کا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ،علاقے کے صوبائی وزیر محمود خان سے فوری طور پر اسکول کے لئے سرکاری بلڈنگ تعمیر کرنے کا مطالبہ کردیا ہے ۔گورنمنٹ پرائمری اسکول اغل برتھانہ سوات کے تحصیل مٹہ میں واقع ہے اور یہ کافی گنجان آباد علاقہ ہے جس میں ہزاروں کے تعداد میں لوگ رہتے ہیں اور مقامی لوگوں کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں یہ اسکول 1972میں کھول دیا گیا ہے جو اب کچی بلڈنگ میں ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اسکول میں کافی تعداد میں کمسن بچے زیر تعلیم ہے اور یہ پانچویں جماعت تک ہے مگر اساتذہ کے تعداد صرف اور صرف دو ہی ہے ۔اس موقع پر طلباء نے اسکول میں میڈیا کو اپنا فریاد سناتے ہوئے احتجاجا کلاسوں کو چھوڑ کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کیا اور ہمیں اسکول چاہئے کے نعرے بھی لگائے ۔اس موقع پر طلباء ،والدین اور علاقے کے عوام نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ،علاقے کے صوبائی وزیر محمود خان سے فوری طور پر اسکول کے لئے بلڈنگ تعمیر کرنے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ یاد رہے کہ گورنمنٹ پرائمری اسکول اغل برتھانہ سوات کے تحصیل مٹہ میں واقع ہے اور اس کا موجود ممبر صوبائی اسمبلی صوبائی وزیر کھیل وثقافت وامود نوجوانان محمود ہے جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے ، اس سے پہلے 2008میں اس علاقے کا ممبر صوبائی اسمبلی ایوب خان اشاڑے تھے جو کہ صوبائی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی تھے اور ان کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا ،2002میں اسے علاقے کا ممبر صوبائی اسمبلی قاری محمود تھے جو صوبائی وزیر زراعت تھا اور ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے تھے ۔ اس سے پہلے بھی ممبران اسمبلی صوبائی وزراء رہ چکے تھے مگر گورنمنٹ پرائمری اسکول اغل کے لئے سرکاری بلڈنگ تعمیر کرنے سے رہ گیا ہے جو ان علاقے کے کمسن بچوں کے ساتھ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے ۔
1,682 total views, no views today



