ہمارے علاقہ میں’’ بچنگ‘‘ ایک کردار ہوتا تھا، جو تقریباً ہر حجرے میں رہتا ہوا ایک غریب اور یتیم سا شخص ہوا کرتا تھا، جس کا کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا تھا۔ اس حجرے کے خان یا حجرے میں اٹھنے والے ہر شخص کو جو بھی کام کروانا ہوتا تھا۔ وہ اسی بچنگ ہی سے کرواتے تھے۔ بچنگ کے لیے گرم سورج کی تپش یا سردی کی یخ بستہ برفیلی ہوائیں کوئی بات نہیں ہوا کرتی تھیں۔ بس اسے صرف آواز دیں: ’’بچنگہ ورشہ او بچنگہ راشہ۔‘‘ حکم سنتے ہی بچنگ بھاگتا اور کام کرکے واپس آتا۔ اب یہ دیکھیں بچنگ کو ملتا کیا تھا۔ صرف خان کی مسکراہٹ، کھانے کے لیے بچی ہوئی ترکاری اور روٹی کے چند بچے ٹکڑے، پہننے کے لیے اترا ہوا کپڑا اور سونے کے لیے ایک پرانی چارپائی اور ایک پرانی رضائی۔ اس سے اندازہ لگائیں اس کردار کی بے چارگی کا۔ ان تمام تکالیف کے باوجود بچنگ بے چارا صابرو شاکر ہوتا۔
آج صوبہ خیبر پختون خوا کے اس حجرے میں یہاں کے خان (وزیر اعلیٰ) اور اس کے بھائی بند اسلام آباد کے خان و خوانین (وزراء اور وزیر اعظم) ہمارے سوات کے ساتھ وہی بچنگ والا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ اور کسی کو احساس ہی نہیں کہ ہم پر کیا گزر رہی ہے۔ چند سال پہلے ہمیں مجاہدین بنواکر مروایا گیا۔ پھر طالبان اور طالبان کے بعد دہشت گرد بنایاگیا۔ ہمیں اجتماعی نقل مکانی کرنا پڑی۔ ہماری سڑکیں، پل، اسپتال اور اسکول اڑائے گئے۔ اس کے بعد ایک آسمانی آفت نے رہی سہی کسر پورا کردی اور یوں یہ جنت نظیر وادی کسی دہشت بھرے اُجڑے ہوئے ویرانے کا نظارہ پیش کرنے لگی، لیکن آج پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ گزرا اور اس یتیم و یسیر بچنگ کے سرپر کسی نے شفقت کا ہاتھ تک نہیں رکھا۔ ہم آج بھی سڑک، پل اور اسپتال وغیرہ کے لیے ان خان خوانین (صاحب اقتدار) کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پوری دنیااس تباہی میں ہمیں اربوں ڈلرز کی امداددے چکی ہے، جس سے اس ضلع کو ایک فی صد بھی مدد نہیں ملی۔ اس امداد سے مردان کی سڑکیں بنیں، مردان کی یونی ورسٹی بنی، مردان کے اسپتال اور چوک بنے اور ہمارا ایوب برج ابھی تک تعمیر نہ ہوسکا۔ ہمارا سیدوٹیچنگ اسپتال جو ایم ایم اے کے دور حکومت میں شروع ہوا تھا، آج چھے سال ہوئے، اس کی تکمیل کے لیے فنڈ ز نہیں مل رہے۔ یہ تو شکر ہے کہ یواے ای نے اپنا امداد اپنی اور ہماری فوج کی نگرانی میں خرچ کیا اور اس سے ہمارا شموزئ کا پل چند ایک اسکول اور تھانے تعمیر ہوئے۔ اگر یہ فنڈ بھی صوبائی حکومت کو دی جاتی، تو شاید یہ بھی پشاور کے کسی فلائی اوور یا انڈرپاس پرلگ چکے ہوتے۔
قارئین کرام! چھے سال کا عرصہ گزر گیا، لیکن ہماری حکومت کا ’’گا، گی، گے‘‘ والا وعدہ اور چند تعریفی کلمات کے سوا ہمارے سوات کو کچھ نہیں ملا اور نہ آگے کچھ ملنے کی توقع ہی ہے۔ آج صوبے کا گورنر سوات میں ہے، جب کہ اس نے یہ دل خراش خبر بھی پڑھ لی کہ کالام جاتے ہوئے ایک ٹرک دریائے سوات میں گرنے سے دس بچوں سمیت سولہ افراد لقمۂ اجل بن گئے جب کہ سات افراد کو زخمی حالت میں کالام سے سیدوشریف اہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس حادثہ کے لیے گورنر صاحب نے صرف اظہار افسوس اور چند تعزیتی الفاظ سے ہی جان چھڑادی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ یہ معلوم کرتے کہ اس ٹرک کو حادثہ کیوں پیش آیا؟ کوتاہی کس کی ہے؟ پھر یہ معلوم کرتے کہ زخمیوں کو ایک سو کلومیٹر دور سیدو شریف کیوں لایا گیا؟ کیا کالام میں اسپتال نہیں یا پھر بحرین کا اسپتال کیوں مریضوں کو نہ سنبھال سکا؟ اس کے بعد مدین کا اسپتال جو سیلاب میں بہہ چکا تھا، وہ تعمیر کیوں نہ ہوسکا؟ راستہ میں خوازہ خیلہ کا اسپتال ہے، اس میں کیا کمی ہے کہ کالام سے مریض سیدوشریف لائے گئے؟ تبدیلی والے ’’خاں صاحب‘‘ دھرنوں سے فراغت پائے، تو ذرا ہماری مشکلات پر بھی غور فرمائے۔ اس سوات نے آپ کو سات صوبائی ممبران اور دوقومی اسمبلی کے ممبران دیے ہیں۔ اب بھی وقت ہے، ذرا ادھر دھیان دیں، ایسا نہ ہو کہ ’’اگلی واری‘‘ مل ہی نہ سکے۔ ہمارے صوبہ کا ساٹھ فی صد ترقیاتی بجٹ ایل اے پی ایس ہونے جا رہا ہے۔ یہ آپ کی حکومت کی نا اہلی کا واضح ثبوت ہے۔ خدا کے لیے اپنی کارکردگی پرغورکریں۔ ہمارا سیاحتی سیزن شروع ہوچکا ہے، لیکن لنڈاکی سے کالام تک کی سڑک کھنڈرکا منظر پیش کر رہی ہے۔ بحرین جیسے علاقہ میں پچیس روز سے بجلی نہیں ہے۔ ہمارے پل ٹوٹے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے جھنجھٹ بھرے علاقہ میں کون آئے گا؟ آج سے چالیس سال پہلے کا سوات موجودہ سوا ت سے ہزار درجہ بہتر تھا، ہمیں اپنے پرانے سوات کا تحفہ دیں، ہم انتہائی ممنون ہوں گے۔
میرے سوات کے بزرگو اور بھائیو! نکل آؤ اس سیاست سے اور صوابی کے عوام کی طرح، صوابی وال تنظیم کی طرح کی ایک ’’سوات ولی تنظیم‘‘ بناکر ان حالات کا مقابلہ کریں یا پھر انتہائی خراب اور ذلت آمیز حالات کے لیے خود کے تیار کردیں۔ صاحب ثروت لوگ تو اسلام آباد منتقل ہوگئے ہیں۔ اب ہم غریب اور پس ماندہ لوگ اگر ایک نہ ہوئے تو پھر ’’اللہ ہی حافظ ہے۔‘‘
سب سمجھتے بات مطلب کی
کس نے سمجھا ہے بات کا مطلب
1,364 total views, no views today


