سوات، پختوانخواہ اولسی تحریک (پت )کت سربراہ ڈکٹر سیدعالم محصود نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختوانخواہ اور فاٹا کے عوام اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں ، پاکستان بننے سے لے کر اج تک پختونخواہ قوم کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ، خدانے ہمارے وطن کو قدرتی وسائل گیس، بجلی ، تمباکو، معدنیات ، جنگلات قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں سے مالا مال کیا ہے ، لیکن یہ وسائل ہماری ملکیت میں نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ ان قدرتی نعمتوں اور وسائل کے باوجود ہم انتہائی غریب سب سے ذیادہ ان پڑھ او ر سب سے زیادہ بے روزگار ہیں ،
تقریباًایک کڑور سے زیادہ افراد باہر جاکر محنت مزدوری کر کے مسافر ی کی صعوبیتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں مقامی ہوٹل میں (پت )اجلاس سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 35سالوں سے صوبہ اور فاٹا فرنٹ لائن علاقے کے حثیت سے جانی اور مالی قربانیاں دے رہے ہیں ، تاہم اسکے بدلے ملنے والی بین الاقوامی امداد مرکزی حکومت ہڑپ کررہی ہے ، گزشتہ 15سالوں سے صوبہ اور فاٹا سیاسی ، معاشی اور سماجی طور پر یر غمال ہیں ، ایک طرف انسانی خون بہانے کا یہ سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے ، دوسرے طرف اس علاقے کے وسائل کو ہمیشہ ھڑپ کر نے کے لئے مسائل کو اورپیچیدہ بنایا جارہا ہیں اس مقصد کے لئے مختلف طریقوں پر عمل ہو ررہاہیں ، بجلی چوری کا الزام اور صوبے کو تقسیم کر نے کا سازشیں اس کا حصہ ہیں ،ایک سیاسی پارٹی کی حثییت سے اپ جانتے ہیں کہ پختونخواہ کے ان گھمبیر مسائل ایک سیاسی پارٹی اکیلے حل نہیں کرسکتی ہے ، یقینااپ یہ بھی تسلیم کریں گے ، کہ ہماری کسی بھی سیاسی یا مذہبی پارٹی نے اس پر غمال وطن کے مسائل حل کرنے لئے ایک وسیع تراتحاد کی کوشیش نہیں کی ، اگر کسی نے ایسا کیا تو سے کامیابی نہیں ہوگی ،اس موقوع پر فضل مولا ذاہد ، حاجی ذاہد خان سمیت دیگر بھی موجود تھے اس صورت حال پر غور کرنے کے لئے 22مارچ 2014کو پشاور پریس کلب وطن ویلفئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک سمینار کا انعقا د کیا گیا جس میں ایک ایسی غیر جماعتی تنظیم کی ضرورت پر زور دیا گیا ،جو مندرجہ بالا مسائل کے حل کے لئے تمام قوم پر ست اور جمہوری جماعتوں پختوانخواہ سے تعلق رکھنے بعض مذہبی جماعتوں ، سول سوسائٹی کی تنظیموں ، اساتذہ ، وکلا، ڈاکٹر ، تاجر ، اور ٹریڈ یونین اور اولسی تنظیموں کو ایک پیلٹ فارم پر لا کر مشترکہ نکات پر جدوجہد پر امادہ کرسکے ،اور ایک وسیع تر اتحاد کے لئے جس بنیاد ی نصب العین بختوانخوا کے عوام کی ترقی ، خوشحالی اور پاکستان کے اند رائینی اور قانونی طریقے سے اپنے وسائل کی حق حاکمیت کی جدوجہد ہے۔
393 total views, no views today


