مینگورہ، لنڈاکے چیک پوسٹ پرتعینات پولیس اہلکاروں نے ملاکند یونیورسٹی کے دو طالب علموں کوزبانی تکرار کے بعد وحشیانہ تشددکا نشانہ بناکر لہولہان کردیا،خون میں لت پت طالب علموں کو بعدازاں پولیس نے غالیگے پولیس سٹیشن کے حوالات میں بند کرکے ظلم کے انتہاء کردی ،میڈیا کے مداخلت پرزخمی طالبعلموں کوحوالات سے نکال کر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔
ملاکنڈ یونیورسٹی کے بی ایس سی کے طالب علم عبدالجلیل نے میڈیا کو روتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے گاڑی میں جا رہا تھا کہ چیک پوسٹ پر ڈیوٹی پر مامورپولیس اہلکار نے مجھے روکنے کا اشارہ کیا اور تلاشی لی ،پولیس اہلکار خان وحید نے توہین امیز رویہ اپنایا اور مجھے تھپٹردے ماراوجہ پوچھنے پر انہوں نے مجھے گالیاں دی لنڈاکے چیک پوسٹ پر تعینات دیگر پولیس کے ہمراہ ہم پر برس پڑے اور لاتوں،ڈنڈوں سمیت بجلی کے تاروں کے ساتھ مجھے اور میرے ساتھی سلیمان پر بے انتہا اور وحشیانہ تشدد کیا اور ہمیں سڑک پر گھسیٹا اورپھر بجائے اس کے ہمیں طبی امداد دیتے لیکن ظالم پولیس اہلکاروں نے شدید زخمی حالت میں غالیگے پولیس اسٹیشن کے حوالات میں بند کر دیا اور وہاں ہمیں پانی تک نہیں دیا گیا ،ڈی ایس پی سرکل بریکوٹ شاہ حسین نے بتایا کہ مسئلہ معمولی نوعیت کا ہے تلخ کلامی کی وجہ سے یہ مسئلہ پیش ایا تھا ،انکوائری کے بعد ملوث افراد کے خلاف کاروائی ہوگی ۔جبکہ دوسری طرف معاملہ کو رفع دفع کرنے اور کیس کو خاموش کرنے کے لئے پولیس نے خود کو ہسپتال میں داخل کرکے خود کو بھی زخمی قراردیدیا ۔ادھر پی کے 82کے ایم پی اے ڈاکٹر امجد نے واقعہ کو انتہائی افسوس ناک قرارد یا ہے اور ملوث اہلکاروں کیخلاف قانونی کاروائی کی ہدایت کی اوراس بارے میں اعلی حکام سے بات کرکے کمیٹی مقرر کرینگے اور ہونے والے واقعے کے صحیح طریقے سے جانچ پڑتال کئے جائینگے ۔جبکہ علاقے کے عوام نے اس کو پولیس گردی قرار دے دیا ہے ۔
400 total views, no views today


