اسلام آباد: پیمرا نے قومی سلامتی کے اہم اداروں کے خلاف خبریں نشر کرنے پر جیو کا لائسنس 15 روز کے لئے معطل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔گزشتہ روز تعینات ہونے والے قائم مقام چیئرمین پیمرا پرویز راٹھور نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک اجلاس کی سربراہی کی جس میں اب تک پیمرا میں زیر التوا معاملات اور مختلف کیسز کا جائزہ لیا گیا تاہم اجلاس میں پرائیویٹ ممبران شریک نہیں ہوا۔ اجلاس کے بعد قائم مقام چیئرمین نے بتایا کہ وزارت دفاع کی شکایت پر پیمرا نے جیو نیوز کو لائسنس کی 15 روز کے لئے معطلی ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہ۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک جیو کی جانب سے جرمانہ ادا نہیں کیا جاتا اس وقت تک جیو کا لائسنس معطل رہے گا اور اگر جیو دوبارہ اس قسم کی غلطی کا مرتکب پایا گیا تو ان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب پرائیوٹ ممبر اسرارعباسی کا کہنا ہے کہ یہ پیمرا کا نہیں بلکہ سرکاری ارکان کا فیصلہ ہے، فیصلے کے پیچھے سیاست کی جا رہی ہے، پیمرا کے اراکین جیو کے لائسنس کی معطلی کے حوالے سے پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیمرا قوانین میں کسی قائم مقام چیئرمین کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اور اگر کسی کو راتوں رات قائم مقام چیرمین بنا دیا جاتا ہے تو اسے میٹنگ بلانے کا کوئی اختیار نہیں ہے، ہم نے 17 جون کو میٹنگ طلب کر رکھی ہے اسی میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 19 اپریل کو کراچی میں صحافی حامد میر پر حملے کے بعد جیو نے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو بغیر کسی ثبوت کے مورد الزام ٹھرایا تھا جس کے بعد ملک بھر میں جیو کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
435 total views, no views today


