اسلام آباد: جیو اور جنگ گروپ نے ’’بغیر ثبوت غدار‘‘ کہنے اور ساکھ متاثر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حساس ادارے آئی ایس آئی، وزارت دفاع اور پیمرا کو 50 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔جیو جنگ گروپ نے تینوں اداروں سے 14 دن میں عام معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔گروپ نے اپنے اخبارات میں شائع رپورٹ میں کہا ہے کہ جیو اور جنگ گروپ نے اپنی ساکھ متاثر کرنے پر وزرت دفاع، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور پیمرا کو قانونی نوٹس جاری کردیا ہے۔’
گروپ سے 800 صحافی، ورکرز اور پیشہ ورانہ افراد وابستہ ہیں اور ان کے اہلخانہ کو نہ صرف ہراساں کیا جا رہاہے بلکہ ان پر پاکستان بھر میں حملے اور تشدد بھی کیا گیا۔یاد رہے کہ اپریل میں وزارت دفاع نے جیو نیوز کا لائسنس معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب گروپ کے وابستہ سینئر صحافی حامد میر پر کراچی میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔
حملے کے بعد گروپ کے ٹی وی چینل جیو نیوز نے اپنی نشریات میں حامد میر کے بھائی کا حوالہ دیتے ہوئے حملے کا الزام آئی ایس آئی کے سربراہ پر عائد کیا تھا۔
اس معاملے کے کچھ دن بعد ملک بھر میں جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی نشریات بند ہونے کی اطلاعات کے بعد گروپ نے موقف اختیار کیا تھا کہ کیبل آپریٹرز پر چینل بند کرنے کے لیے عسکری حکام کی جانب سے شدید دباؤ ہے۔گروپ نے مختلف مقامات پر روزنامہ جنگ اور دی نیوز کی کاپیاں جلانے کے دعوے بھی کیے۔تاہم معاملے میں اس وقت اہم پیشرفت ہوئی جب گزشتہ ماہ گروپ نے باقاعدہ طور پر اپنے اخبارات میں اشتہار شائع کرکے عوامی سطح پر عسکری حکام، آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ سمیت عوام سے بھی معافی مانگی تھی۔
پاکستان کے اہم میڈیا گروپ نے تینوں فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گروپ کی ساکھ متاثر کرنے پر معافی مانگیں اور 500 ملین ڈالر (50 ارب روپے) بطور ہرجانہ ادا کریں۔
خبررساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے موقف لینے کے لیے عسکری حکام سے جب رابطہ کیا گیا تو وہ دستیاب نہ ہو سکے۔
494 total views, no views today


