اللہ تعالیٰ نے سرزمین سوات کو ملکوتی حسن سے نوازا ہے۔یہ سرزمین کسی ان مول تحفے سے کم نہیں۔ والئی سوات کے دور میں یہ سبز پہاڑوں، گنگناتے آب شاروں، میٹھے پانی کی ندیوں، پھلوں سے بھرپور باغات کی سرزمین کہلاتی تھی۔ لیکن جب ریاست سوات پاکستان میں مد غم ہوئی، تو اس وقت سے اس خطے کی بدقسمتی شروع ہوئی۔ آج کا سوات اس مسکین بیوہ کی مثال پیش کر رہا ہے جس کے چہرے پر جھریاں ہی جھریاں ہوں، بکھرے خشک بال لیے اپنے شان دار ماضی پر نوحہ کناں ہو۔ آج کا سوات ایک کھنڈر کی شکل پیش کررہا ہے۔ آج نہ تو اس کا وہ طلسماتی حسن باقی ہے، نہ وہ صاف اور شفاف چشموں کے جھرنے ہیں، نہ دریائے سوات کی وہ زندگی بخشتی ہوئی لہریں ہیں اور نہ پہاڑوں میں درختوں کے جنگل۔ اب وہ سڑکیں ہیں نہ وہ راستے۔ وہ صدا بہار موسم کی رعنائیاں ہیں نہ وہ ماضی کے جون جولائی میں دسمبر اور جنوری کا خوش گوار موسم۔ سب کچھ بدل چکا ہے۔ ہر چیز نئے زمانے کے ساتھ نئے سانچے میں ڈھل چکی ہے۔ یہاں کی ہر خوب صورت چیز کی شکل و صورت خراب ہوچکی ہے۔
سوات کی دولت زمرد اور جنگلات مال غنیمت کی صورت میں کچھ تو لٹ چکا ہے اور باقی ماندہ لٹ رہا ہے۔ ہر طرف تباہی اور بربادی کے مناظر ہیں۔ دھواں اٹھ رہا ہے اور کسی کو کچھ نظر نہیں آرہا۔ اب بھی یہاں لوگ بھوکے ہیں اور صورت احوال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ تادم آخر بھوکے ہی رہیں گے۔کیوں کہ بھوک ختم ہو سکتی ہے، لیکن حرص کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ اس تمام تر صورت حال کا ذمے دار وہ سیاست دان ہے، جو عوام سے اقتدار کی کرسی تک رسائی کے لیے نت نئے طریقوں سے ووٹ حاصل کرتا ہے۔ علاقہ کی تعمیر وترقی اور عوام کو خوش حال بنانے کے نام پر ووٹ لیتا ہے، لیکن اسمبلیوں میں جاکر وہ نمائندگی ادانہیں کرتا جس کے لیے اسے ووٹ ملا ہوتا ہے۔ تعمیر و ترقی کے نام پر حاصل کردہ فنڈ سارے کا سارا خرد برد کرتا ہے۔ عوام سے کیے گئے وعدے، وطن کی محبت اور علاقے سے پیار یہ سب کچھ زبانی جمع خرچ کی باتیں ہیں۔
باہر کی دنیا میں آدمی جاکر وہاں کی تعمیر و ترقی، صفائی ستھرائی، قانون کی پاس داری اور عوامی نمائندوں کا کردار دیکھ کر یہاں کے نمائندوں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ یہاں تو نام نہاد جمہوریت اور نام نہاد مسلمان ہیں۔
اس طرح تعلیم کے میدان میں ہمارے بچے منزل نامعلوم کی جانب حیرانی وپریشانی کے عالم میں سرگرداں ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے پڑھے لکھے جاہل پیدا کرتے ہیں۔ حکومت کی مشینری جو کہ وطن کے لوگوں پر مشتمل ہے، کورس کی کتابوں میں اکھاڑ بچھاڑ میں مصروف ہے۔ والئی سوات کے دور میں غریب اور امیر کے بچے ایک ہی اسکول میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور ایف اے تک تعلیم مفت تھی جب کہ آج کے دور میں صرف زبانی جمع خرچ پر فری تعلیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ عملی باتیں اب تک سامنے نہیں آئیں۔ لوکل بچوں کو اسکول و کالج میں داخلے نہیں ملتے۔ سیاحت جو کہ عالمی سطح پر صنعت کا درج رکھتی ہے، ہمارے یہاں جن زبوں حالی کا شکار ہے، وہ بیان سے باہر ہے۔ سوات سیاحت کے لیے ایک قدرتی مارکیٹ ہے۔ یہاں کاماحول پر امن تھا۔ قدرتی مناظر کی بہتات تھی۔ اس لیے لوگوں نے کروڑوں روپوں کے سرمایے سے لاتعداد ہوٹلز اور ٹریڈ سنٹرز تعمیر کروائے تھے، جن میں ایسے ہوٹلز بھی ہیں کہ کسی لحاظ سے بھی بین الاقوامی معیار سے کم نہیں اور قابل کشش بات یہ ہے کہ ان جیسے معیاری ہوٹلز میں آپ کسی بیرونی ملک میں جتنی رقم خرچ کرکے ایک ہفتہ گزارسکتے ہیں، اتنی رقم پر یہاں سوات میں آپ کہیں ہفتے قیام کرسکتے ہیں۔ لیکن سوات کے لیے سیاحت کا دروازہ بند پڑا ہے۔ آخر لوگ تنگ آکر ہوٹلوں میں پرائیویٹ اسکول کھول رہے ہیں۔ بین الاقوامی حالات کی وجہ سے اور افغانستان اور عراق کی وجہ سے سیاحت پر برا اثر پڑا ہے، لیکن ملکی سطح پر سوات کی سیاحت اور دیگر کاروبار پر مولانا صوفی محمد اور ان کی جماعت نے اس قدر منفی اور خراب اثر ڈالا ہے کہ سب کچھ ختم کرکے رکھ دیا ہے۔ امن وامان کا مسئلہ اس قدر گھمبیر صورت اختیار کرگیا ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی برا واقعہ رونما ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بازاروں میں معیاری اشیاء ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ہم نے کافی عرصہ سے کسی سرکاری اہل کار اشیائے خور و نوش کی چیکنگ کسی اخبار کی زینت بنتے نہیں دیکھی۔عوام ہر سطح پر لٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹرز، لیبارٹریاں، میڈیکل اسٹورز آخر کس کس کی شکایت کی جائے؟ عوام کو حکومت کا وہ در معلوم نہیں جہاں جاکر زنجیر جہانگیری کھینچ لیں اور اپنا دکھ درد بیان کریں۔
جہاں تک بات ہمارے ایم این اے صاحب کی ہے تو انھوں نے عوام سے اٹھاسی ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور اب عید کا چاند بنے ہوئے ہیں۔بس اللہ سوات کے عوام پر رحم کرے، آمین ۔
*۔۔۔*۔۔۔*
802 total views, no views today


