تحریر عبید فضل
یوں تو وادی سوات اپنے حسن اور تاریخی لوازمات سے بہت مشہور ہے لیکن مسائل کے انبار اور منتحب نمایئندوں کی نا اہلی اور سرد مہری کی وجہ سے مسائل کے لحاظ سے بھی سرفہرت ہے ۔اج کل جس مسئلے نے اس وادی میں شدت اختیار کرلی ہے وہ ہے بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ ۔جس کی وجہ سے سوات کے شہریوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کو حکمرانوں کو بد دعائیں دینے پر مجبور کردیاہے ۔14 گھنٹے لوڈشیڈنگ سے کاروباری ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے ۔جس کی وجہ سے سوات میں بے روز گاری کا نیا سیلاب اُمڈ آیا ہے ، اور اب عوام کو تو بد دعاؤں سے الگ راستہ معلوم نہیں،جو منتخب نمائندے ہیں وہ تو اپنے وعدوں سے مکر گئے ہیں ۔جبکہ تبدیلی کے دعویداروں نے تو چھپ کا روزہ رکھ لیاہے ۔
سوات کا شمار خیبر پختونخواہ میں 100فیصد بلوں کی ریکوری والے علاقوں میں کی جاتی ہے۔یہاں پر بجلی چوری یا کُنڈا کلچر کا کوئی کیس ابھی تک سامنے نہیں ایا ہے اس کی بناء پر سوات کی بجلی صارفین کو کم سے کم لوڈشیڈنگ دینا چائیے تھی ،مگر اس پر کوئی عمل درامد نہیں ہورہا۔سوات میں اس وقت بجلی بلوں کی ادائیگی کی شرح 100 فیصد ہیں لیکن 100 فیصد بجلی بلز ادا کرنے کی صورت میں بجلی کے بد ترین لوڈشیڈنگ کا صلہ بھی ہمیں ہی مل رہی ہے ۔
سوات میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ سے سی این جی سٹیشن بھی بند ہوچکے ہیں ،جبکہ جرنیٹر سے چلنے والے سی این جی سٹیشنوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپوٹروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔راتوں کو اُٹھ کر گا ڑیوں میں سی این جی ڈالنے پر مجبور ہوگئے ہیں ،جبکہ بجلی سے چلنے والے تمام کاروبارٹھپ ہوکر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے سوات میں ہزاروں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں ، اور عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوکر احتجاج پر مجبور ہیں ۔
بجلی لوڈشیڈنگ نے سوات کے عوام کو کافی پریشانیوں اور مشکلات میں ڈال دیا ہے ۔واضح رہے کہ عوام کی جانب سے ناروا لوڈشیڈنگ کیخلاف شدید احتجاج کے باوجود واپڈا والے تاحال صراط مسقیم پر نہیں ،یہی وجہ کے سواتی عوام کے مشکلات اور پریشانیوں میں روزبہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔واپڈا والوں کی طرف سے سوات کے مختلف علاقوں میں بجلی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن افسوس اس بات کی ہے کہ اس کا پوچھنے اور منع کرنے والا کوئی نہیں ۔اور اب سوات کے عوام تنگ اکر کسی سے بھی مطالبہ نہیں کرتے صرف محکمہ واپڈا سوات اور حکمرانوں کو بددعاؤں کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور اپنا معاملہ اللہ تعالی پر چھوڑ دیا ہے ۔
826 total views, no views today


