سوات، اے این پی سعودی عرب جدہ کے جنرل سیکرٹری عثمان خٹک نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر کنٹرول تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھائی جائے ۔ سعودی عرب میں بچوں کے ہمراہ مقیم پاکستانیوں اور خصوصا پختونوں کا تعداد بہت زیادہ ہے ،مگر یہاں ہمارے بچے پاکستانی سفارتخانے کے زیر کنٹرول سکولوں میں میٹرک تک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں
،مگر میٹر ک کے بعد یہاں سفارتخانے سے منسلک کا لجز نہیں ہیں ۔انھوں نے حکومت پاکستان سے پُرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی سفاتخانے کے زیر کنٹرول کالجز اور یونیورسٹی کھول دیا جائے تاکہ پاکستانی بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہوجائے ۔ان خیالا ت کا اظہار انھوں نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،انھوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی پختون قوم کا واحد نما ئندہ جما عت ہے اور پختون قوم کی فلاح وبہبود کے لئے عملی اقدامات اٹھارے ہیں انھوں نے کہا کہ خدائی خدمتگار خان عبد الغفار خان بابا نے اپنے ساری زندگی پختون قوم کے وحدت اور اتفاق اور اتحاد کے لئے گزاری تھی ۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں ایک پارٹی کے اقتدار ختم اور دوسرا پارٹی اقتدار میں اجائے تو اس کے باعث سعودی عر ب کے سفارتخانوں میں تعینات عملہ بھی تبدیل ہوجاتے ہیں جس کے باعث یہاں کے پختونوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے سفارتخانے میں ڈائر یکٹر سمیت تمام عملہ پختون تعینات کیا جائے تاکہ یہاں کے پختون قوم کے رسم ورواج سے مکمل واقف ہو انھوں نے حکومت پاکستان اور خصوصا اور سیز پاکستان فاونڈیشن سے اور خیبر پختونخوا حکومت سے پُرزور مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ سعودی عرب انے والوں کو پاکستان میں ٹیکنکل کالجز اور ٹریننگ سنٹروں کو قائم کیا جائے ، کیونکہ ہنرمند لوگوں کے لئے سعودی عربب میں کاروباری اور ملازمت کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور بغیر ہنرمند اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور عام آدمی کو یہاں ہر کسی نہایت بُری نگاہ سے دیکھتے ہیں لہذا ضرورت اس آمر کی ہے کہ سعودی عرب آنے سے قبل سرکاری سطح پر ٹیکنیکل کام سیکھانے کے لئے ٹریننگ سنٹروں کا قیام وقت کا تقاضہ ہے انھوں نے کہا کہ جدہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر کنٹرول صر دو سکول ہیں اور پا کستانی بچیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے ان تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اور سکول کھولنے کی طریقہ کا آسان بنایا جائے تاکہ یہاں پردیس میں سمندر پار پاکستانیوں کے بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے حصول میں کو ئی دشواری کا سامنا نہ ہو،تاکہ بچے اور بچیاں زیر تعلیم سے آراستہ ہوجائے۔
397 total views, no views today


