لفظ بہروپیہ ہم روز مرہ زندگی میں تو استعمال بہت کم کرتے ہیں ۔لیکن اس لفظ کے بہت سے معانی لی جاسکتی ہیں۔ جیسا کہ دغہ باز، شعبدہ باز ، دھوکہ باز ، مکار اور اسی طرح کے بہت سے معانی ہم نکال سکتے ہیں۔غرضیکہ انسانوں کے دنیا میں اس لفظ کو اچھی معنوں میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے ۔ کیونکہ انسان ہی کو سوچ بوجھ عطا کی اسکو زمین میں اپنا نائب بناکر زمین کی بادشاہت اسلئے دی تاکہ اللہ تعالی انسان کو آزمائیں کہ کون انسانیت کے معیار پہ پورا اترتا ہے اور کون سرکشی اختیار کرتا ہے ۔ ایک اچھاانسان تب اللہ تعالی کے بنائے ہوئے انسانیت کے معیار پر پور ا ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو اللہ تعالی اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے زندگی کے اصولوں کو اپنا کر معاشرے میں اپنا کردار مثبت طریقے سے ادا کرتا ہے اور لوگ اس کے پارسائی اور پرھیزگاری کو دیکھ کر ہی اللہ تعالیٰ کے دین کے طرف آتے ہیں۔ایسے انسان کا کردار گویاں معاشرے میں بمثال خضر ؑ کے ہے جو انسانوں کے مختلف اشکال میں آکر ضرورت مندوں ،ناداروں کا مدد کرتے ہیں۔ اسکے برعکس انسانی شکل میں بہروپئے ہیں جو کہ ابلیس کاکردار ادا کرتے ہیں اور انسانی شکل میں انسانوں کے درمیان نہایت مکاری سے نفرتیں اور عداوتیں پیدا کرتے ہیں اور معاشرہ ان کے شر کے وجہ سے بگاڑکا شکار ہوتا ہے ۔اسی لئے قرآن کریم میں سورۂ النّاس میں اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو ایسے بہروپیوں سے پناہ مانگنے کی تاکید کی ہے۔
آجکل کے معاشرے میں مختلف قسم کے بہروپئے پائے جاتے ہیں۔ جسکو میں یہاں دو بڑے اقسام میں بیان کرونگا۔
۱) معاشرتی بہروپئے: معاشرتی بہروپئے وہ کہلاتے ہیں جسمیں ایک انسان مختلف معاشرتی کردار وں کے لبادے میں نمودار ہوتا ہے۔ جیسا کہ کوئی انسان مذہبی لبادہ اوڑھ کر مذھب کو بدنام کرتا ہے۔ اسی طرح ایک جج انصاف دینے کا لبادہ اوڑھ کر انصاف کی دھجیاں اڑاتا ہے اور لوگوں کا استحصال کرتا ہے۔ اسی طرح ایک خاندان یا گاؤں و علاقے میں ایک انسان وہا ں کے رہنمائی کا لبادہ اوڑھ کر وہا ں کے رہنے والوں کا اسی کے ذریعے استحصال کرتا ہے۔غرضیکہ معاشرے میں کچھ اور کردار بھی ہیں جیسا کہ ڈاکٹر ، اٌستاد اگر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے انسانیت کے اصول کے لبادے میں ہو تو وہ ایک فرشتہ صفت کہلاتا ہے، اور اگر ابلیسی بہروپ میں ہو تو شیطان کہلاتا ہے۔پس یہ بات ثابت ہے کہ معاشرتی بہروپئے وہی ہیں جو انسانی روپ میں وہ بہروپ ہے جو اس معاشرے کے سادہ لوح اور معصوم بندوں کو مختلف طریقوں سے لوٹتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں اور یہی وہ بہروپئے ہیں جو معاشرے میں تعداد کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے اور ان کی منفی کرداروں کے بنا پر معاشرے میں بگاڑ اور افراتفری کی سی حالت ہوتی ہے۔
۲) اقتصادی ومعاشی بہروپئے: معاشی یا اقتصادی بہروپئے ہمارے ملک اور معاشرے میں تو تعداد میں کم لیکن اس قسم کے بہروپئے معاشرے ،ملک و قوم کو نقصان پہنچانے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔اسکی مثال ہماری سیاسی اور بیوروکریسی میں موجود افراد ہیں جو کہ انتہائی مکاری سے معاشرے کے افراد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔جیسا کہ آئے روز ہم دیکھتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے ہمارے سیاسی لیڈر اور بیوروکریسی کے عہدیدار اپنے عہدوں اور اقتدار میں آنے سے پہلے یہی عہد کرتے ہیں کہ وہ اپنے معاشرے ، ملک وقوم اور قانون کے پاسدارے کرکے اس ملک و قوم کا خدمت کرینگے اور فرائض کو احسن طریقے ،ایمانداری اور دل جمعی سے اداکرینگے ۔لیکن ان کے بہروپیت اور دوغلی پن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک ، علاقے اور معاشرے میں اپنی معاش اور پیسے کے دوڑ کیلئے یہ طبقہ ایسے حدیں پار کرتا ہے کہ جس کی سزا سزائے موت کے سوا اور کچھ نہیں۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ملک اور معاشرے میں بگاڑ اور بدا منی وغیر یقینی صورتحال پیدا کرنے میں ان کا کردار سب سے اہم ہے۔یہی وہ طبقہ ہے جو اپنی ملک و قو م کے وسائل ،دولت کو لوٹ کر عیاشیاں کرتے ہیں اور اپنی عوام کو کھوکھلے نعروں اور اپنی مداریانہ روش کے ذریعے نفسیاتی طور پر مفلوج کردیتے ہیں اور پھر اسی مفلوج معاشرے کو اپنی گھناؤنے عزائیم کے تکمیل و حصول کیلئے استعما ل کرتے ہیں۔بہروپیوں کے مندرجہ بالہ ذکر شدہ بڑے اقسام کو اگر چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے اسی پر لکھتے جائے تو اسکے لئے صفحات اور سیاہی کم پڑ جائیگی لیکن یہاں پر صرف مختصراََ اور جامع تفصیل میں یہ بیان کرنا اہم ہے کہ اسی بہروپیت کے پیچھے کارفرما قوتوں پر نظر دوڑائی جائے تو یہ کہنا بجا ہے کہ یہی بہروپیت موجودہ سرما یہ دارانہ نظام کی خصوصیت ہے اور اسی کی بدولت یہ نظام چلتا آرہاہے۔ اسی کی برعکس ایک حقیقی نظام اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے نافذکردہ نظام ہے جوکہ قرآن و سنت اور احادیث کے شکل میں ہمارے ہاں موجود ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس میں بہروپیت اور دوغلی پن، شعبدہ بازی اور مکاری کیلئے کوئی گنجائش نہیں خواہ وہ معاشرتی پہلو کو دیکھا جائے یا معاشی پہلو کو اللہ تعالی کا دین اسلام ہی وہ واحد نظام ہے جوکہ ان جھوٹی اور حقیقت سے عاری بہروپیت کی نفی کرتا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جسمیں فرد سے لیکر معاشرے تک اور نیچلے سطح سے لیکر ریاستی اور بین الاقوامی سطح تک ہر شعبے میں انسانوں کی رہنمائی کیلئے اصول وضع کرتا ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ استعماری طاقتیں اس پاکیزہ اور مکمل ضابطہء حیات والے نظام کو مختلف طریقوں سے ہم یعنی عالم اسلام سے دور کرنے کے پے درپے کوششوں میں مصروف ہیں۔کیونکہ اسی استعماری طاقتوں کو یہی خدشات ہیں کہ اگر مسلم دنیا نے ان کے دین یعنی دینِ اسلام کے اصولوں کو اپنایا اور اس پر چلنا شروع کیا تو بہت جلد پورے دنیا میں صرف مسلمانوں ہی کاِ سکہّ چلے گا۔ اسی لئے انہوں نے مسلم دنیامیں عموماََ اور پاکستان میں خصوصاََ ہر ایک شعبے خواہ وہ شعبہ ابلاغ ہو ، تعلیمی نظام کی پالیسیاں ہو یا کو ئی اور شعبہ جات ہو وہاں پر اپنے بہروپئے بٹھاکر عالم اسلام اور خصوصاََ پاکستانی معاشرے کے تما م خدوخال اور امور کو جانچتے ہیں اور پھر یہ بھی طے کرتے ہیں کہ یہاں پر کونسے پالیسیاں وضع کی جائے جو ان کے مقاصد کو پوراکرے اسی لئے اس امر کی ضرورت ہے کہ بحثیت مسلمان ، بحثیتِ محبِ وطن پاکستانی یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنی نئی آنی والی نسل کو اِن بہروپیوں کو پہچاننے اور اِن سے نبردآزما ہونے کیلئے اچھی تعلیم و تربیت دے تاکہ اس مملکتِ خداد ا میں رہنے والے باسی اِن بہروپیوں کے شر سے محفوظ رہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان بہروپیوں سے لڑتے لڑتے ایک ایسا وقت آئے کہ یہی بہروپئے یا تو حقیقی نظام زندگی اور اللہ تعالیٰ کی قانون کو اس دھرتی کا نظام بنائے اور اپنی بہروپیت چھوڑدے ا ور یا ان بہروپیوں کو اس مملکتِ خداد سے نکال کر کسی ایسے جگہ بھیج دیں جہاں اللہ کا قانون نہ ہوں اور جہاں یہ اپنی مرضی سے رہ سکے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہوآمین۔
1,662 total views, no views today



