یو ں تو سوات کے تمام چھوٹے بڑے سیاسی جماعتوں کے اندر پارٹی کے ٹکٹوں کی تقسیم اور دیگر وجوہات پر پارتی قائدین اور دیرینہ کارکنوں کے مابین اخلافات جاری ہے اور یہی وجہ ہے کہ سوات تمام سیاسی جماعتوں سے آئے روز کوئی نہ کوئی اہم راہنما ء اور کارکن اپنے سابقہ سیاسی وابستگی کو چھوڑ دیگر سیاسی جماعتوں میں خود کو ایڈجسٹ کرنے لیے سیاسی وابستگیاں بدل رہے ہیں اس وقت ٹکٹوں کے تقسیم اور نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز ہونے کے باعث سب سے زیادہ ہلچل مسلم لیگ ن میں جاری ہے جن کے آثرات نہ صرف ضلع سوات اور ملاکنڈ ڈیوثرن میں نظر آرہے ہیں بلکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں انجنئر امیر مقام جوگزشتہ عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ ق کے صوبائی صدر کے حثیت سے مسلم ق کے اندر ایک بااثر سیاسی لیڈر کے طور پر سامنے آئے تھے

اُنہوں نے 2013 ء کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ ق کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیرباد کہ دیا اور وہ مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے مسلم لیگ ن جو کہ جنرل مشر ف کے دور اقتدار میں آنے سے قبل صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک اچھے پوزیشن پر تھی اُن کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ جماعت تقریباًیاتومسلم لیگ ق میں ضم ہوگئی یامسلم لیگ ن کے زیادہ تر قائدیں سائڈ لائن ہوگئے اور یہی وجہ تھی2002 ء اور 2008 ء کے عام انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخواہ سے اس پارٹی کا نام ونشان تک مٹ گیا اور ان انتخابات کے دوران اُن کو وہ پزیرائی حاصل نہ ہوسکی جو اس سے قبل تھی لیکن 2013 ء کے عام انتخابات سے قبل انجنئیرامیرمقام نے اپنے پورے ڈلے کے ساتھ بھرپور انداز میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی اور مسلم لیگ ن کی مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی مسلم لیگ ن 2002 ء اور 2008 ء کی طرح 2013 ء میں بھی وہ کارکردگی نہ دکھاسکی جس کی توقع مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کوانجئیر امیرمقام کے آنے کے بعد تھی اوریہاں تک مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے انجنیئر امیرمقام کو سوات کے تین نشستوں پر انتخابات لڑنے کی اجازت دی لیکن بدقسمتی سے انجنیئر امیرمقام ان تمام نشستوں پر برے طرح شکست سے دوچار ہوگئے 2013 ء کے عام انتخابات میں شکست کے باوجود انجنیئر امیرمقا م نے ہمت نہیں ہاری اور اُنہوں نے ماضی کو پس پشت ڈالکر پھر سے خود کو ایک اچھے اور کامیاب سیاستدان کے طورپر میاں نوازشریف کے سامنے پیش کیا ایک طرف اگر پانامہ کیس میں نوازشریف کے ہر مشکل وقت میں اُن کا ساتھ دیا بلکہ اس دوران اُنہوں نے پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے کئی اہم شخصیات اور سیٹل ایم پی ایز اور ایم این ایز کو مسلم لیگ ن میں شامل بھی کروایااور یہی وہ لمحات تھے کہ انجنیئر امیرمقام پھر سے میاں نوازشریف کے منظور نظر ہوگئے اور اُن کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں پارٹی کو دوبارہ فعال کرنے کے صلے میں مسلم لیگ ن کی صدارت تحفے میں دیدی

اسی دوران امیر مقام نے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کے قبل ازوقت تقسیم کے بارے پیشگی اعلانات کرکے پارٹی کے دیرینہ کارکنوں اور عہدیداروں کواُسی طرح نظرانداز کرنا شروع کردیاجس طرح اُنہوں نے 2013 ء کے عام انتخابات میں حبیب علی شاہ اور علی شاہ سمیت دیگر کئی اہم راہنماوں کو نظر انداز کردیا تھا اورجس کیو جہ سے اُنہوں نے 2013 ء کے عام انتخابا ت سے قبل مسلم لیگ ن کو خیر باد کہہ دیاتھاایک طرف اگر امیر مقام کی وجہ سے این اے فور کے ضمنی انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کو صوبہ بھرمیں جو پزیرائی حاصل ہوگئی تھی اب بدقسمتی سے این اے فور کے ضمنی انتخابات میں مایوس کارکردگی سے نہ صرف پشاور ،نوشہر ،بونیر اور دیگر کئی اضلاع کے مسلم لیگی کارکنوں اور عہدیداروں نے اپنے اپنے منصب سے احتجاجاً استعفے دیدئیے بلکہ کئی سوات سے تعلق رکھنے والے کئی اہم عہدیداروں نے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا اور تادم تحریرنہ صرف مسلم لیگ ن سوات کے سابق جنرل سکرٹری انجنیئرعمرفاروق نے استعفی دید یا بلکہ وہ بہت جلد کسی دوسرے پارٹی شمولیت اختیار کرنے والے ہیں اور امکان ہے کہ وہ اسی ہفتے پی ٹی آئی میں دیگر ہم خیال ساتھیوں سمیت شمولیت اختیار کرینگے

انجنیئرعمرفاروق مسلم لیگ سوات کے جانے مانے شخصیت ہیں اور اُن کا مسلم لیگ سوات اور ملاکنڈ ڈیوثرن میں کافی ہم خیال لوگ ہیں زرائع کے مطابق ضلع سوات کے علاوہ ملاکنڈ یوثرن کے دیگراضلاع میں موجود اُن کے ہم خیال ساتھی بھی اُن کے آواز پر لبیک کہہ کر اُن کے قدم سے قدم ملائنگے اوریوں اُن کی مسلم لیگ سے علیحدگی مسلم لیگ ن کے لئے نقصان کاباعث بنی گی اس سے قبل پی کے 85سے نیروزمیاں جس کا اُس علاقے میں کافی اثرورسوخ ہے نے بھی انجنیئر امیر مقام کے ساتھ اختلافات کے باعث استعفی دیکر جے یوآئی ف میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور اب اُن کے جے یوآئی ف میں شمولیت کے بعد پی کے 85میں جے یوآئی ف ایک مضبوط قوت بن گئی ہے اور اب انجیئرامیرمقام کا پی کے 85سے عام انتخابات کے لڑنے کے اعلان کے بعد اسی حلقے کے مسلم لیگ ن کے سابق اُمیدوار برائے صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی نے بھی مسلم لیگ ن کو خیر باد کہہ دیا ہے اور اُنہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی ہے میںیہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ ماضی میں جیسے پی کے 86اور 81میں علی شاہ ایڈوکیٹ اور حبیب علی شاہ کی وجہ سے مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک تقسیم ہوگیا تھا

اب پی کے 85میں بھی میاں شرافت علی اور نیروز میاں کی پارٹی چھوڑنے کی وجہ سے اُن کو یہاں بھی وہی صورتحال کا سامنا آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں ہوگا جس سے اُن کو کافی نقصان اُٹھانا پڑے گا پی کے 81سے روح الامین لالہ ،حیدرعلی اور حق نواز ایڈوکیٹ جبکہ پی کے 84سے دوست محمد خان نے پارٹی اختلافات کی وجہ سے استعفی دیدیئے ہیں جس کاآثر آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک پر پڑے گا اگر مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر جس کی خواہش ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں مضبوط پوزیشن پر آئے اور وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہونے کی تگ دوو میں ہے تو اُن کو پارٹی کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا جس طرح اُنہوں نے پی کے 83کے ناراض راہنماؤں اور کارکنوں کے گلے شکوے ختم کرکے اس کی ابتدا کی ہے۔

2,864 total views, no views today
Comments



