اسلام آباد: وزیرداخلہ احسن اقبال نے انتظامیہ کو دھرنا ختم کرنے کےلیے آپریشن 24 گھنٹے موخرکرنے کی ہدایت کردی ہے۔
وزیرداخلہ احسن اقبال کی مظاہرین سے مذاکرات کے ذریعہ دھرنا ختم کرانے کی آخری کوشش جاری ہے۔ احسن اقبال نے انتظامیہ کو آپریشن 24 گھنٹے موخر کرنے کی ہدایت کی ہے جب کہ مذہبی رہنماوٴں اور مشائخ کرام سے دھرنا ختم کرانے میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے نام پر عوام کو تکلیف اورباہم خونریزی سے بچانا چاہیے، تحفظ ختم نبوت قانون پاس ہونا پارلیمنٹ کا تاریخی کارنامہ ہے، قیامت تک کوئی اس میں تبدیلی نہیں لا سکے گا اوراب دھرنے کا جوازنہیں رہا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پوری قوم کا حق ہے کہ بھائی چارہ اور امن کی فضا میں عید میلاد النبی پورے جوش و خروش سے منائے، ضد کا انجام جشن عید میلادالنبی کے ماحول کو کشیدہ کرے گا جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پرعملدرآمد کروانا قانونی تقاضا ہے۔حکومت کے دھرنا مظاہرین کی قیادت سے بیک ڈوررابطے کام کرگئے ہیں اور تحریک لبیک کے رہنما حکومت سے مذاکرات کے لئے آمادہ ہوگئے ہیں۔ تحریک لبیک کے سیکرٹری اطلاعات نے مذاکرت کی تصدیق کردی ہے۔ دھرنا قیادت آج حکومتی وفد سے مذاکرات کرے گی۔ حکومتی وفد کی قیادت سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق کریں گے جب کہ تحریک لبیک کے وفد کی قیادت پیرافضل قادری کریں گے۔ راجہ ظفر الحق ختم نبوت ترمیم کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہیں اورمظاہرین کو تحقیقات سے آگاہ بھی کریں گے۔
فیض آباد میں دھرنا ختم کرنے کی عدالتی ڈیڈلائن ختم ہونے کی وجہ سے ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ پولیس، ایف سی کے تازہ دم دستے پہنچ گئے ہیں جنہیں آنسوگیس شیل فراہم کردیئے گئے ہیں۔ پنجاب پولیس اورریزروفورس کوپریڈ گراؤنڈ میں پہنچا دیا گیا ہے جب کہ بکتربند گاڑیاں بھی دھرنے کے مقام پرپہنچادی گئیں۔ فیض آباداورمضافات کی مارکیٹیں، تعلیمی ادارے انتظامیہ نے بند کرادیئے گئے۔دھرنے کے شرکا کے خلاف ممکنہ آپریشن کے پیش نظرسرکاری اسپتال ہائی الرٹ کردیا گیا جب کہ ڈاکٹرز، نرسزاور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں جب کہ حکومت کی دھرنا قائدین سے مذاکرات بھی جاری ہیں۔دوسری جانب مذہبی جماعت تحریک لبیک کی مجلس شوری ٰ کا اجلاس ختم ہوگیا، مجلس شوری نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے مطالبات تیارکرلیے۔ مجلس شوریٰ کے مطابق گرفتار کارکنان کی رہائی کے بغیر مذاکرات سود مند نہیں ہیں جب کہ وزیرقانون زاہد حامد کے استعفی ٰ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
1,998 total views, no views today



