سوات،سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں مکینوں نے بدترین لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمروں کی خرابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیااورشہر کے مرکزی نشاط چوک میں دھرنا دیکر ٹریفک کو بند کردیا ،دھرنے کی وجہ سے شہر میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا ،مظاہرین کے مطابق مقامی ایم پی اے نے ہی انہیں مظاہرے کا مشورہ دیا ،مینگورہ شہر کے مختلف علاقوں بارامہ،قونج،سیرئی اورپنجا خان کے مکینوں
نے بدترین لوڈشیڈنگ اور مسلسل ٹرانسفارمروں کی خرابی کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور شہرکے مرکزی نشاط چوک میں دھرنادیکر ٹریفک کے لئے بند کردیا جس کی وجہ سے شہر میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو شدید گرمی میں سخت مشکلات کاسامنا کرناپڑا،مظاہرین کا موقف تھا کہ وہ ایم پی اے پاس جاتے ہیں توکہتے ہیں واپڈا والوں کے پاس جاؤ جبکہ واپڈا والے ایم پی اے کے پاس جانے والوں کے پاس جانے کو کہتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمارے ایم پی اے نے ہی ہمیں یہ مشورہ دیا ہے کہ عوام احتجاج کریں ،انہوں نے کہاکہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیساسلوک روارکھا جارہا ہے کبھی بجلی نہیں ہوتی جب ہوتی ہے تو ٹرانسفارمر خراب ہوجاتا ہے لیکن ٹھیک کرنے والا کوئی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن اور پانی کی شدید قلت پیدا ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ ہم حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ وہ عوام کی مشکلات کم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں بصورت دیگر وہ شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے،اس موقع پر ایڈیشنل اے سی جان محمد نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کئے او ر آج تک مسئلے کا حل نکالنے کی یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کرکے منتشر ہوگئے۔
سوات کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ،بارامہ ،سیری ،ملوک آباد اور دیگر علاقوں کے سینکڑوں عوام بجلی کے ناروا لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمروں کے خلاف سڑکوں پرنکل ائیں ،مین روڈ دو گھنٹے کیلئے بند مینگورہ پولیس کا مظاہرین پر تشدد ،ہاتھا ہائی ،گزشتہ کئی روز سے مینگورہ شہر سمیت ضلع بھر میں بجلی کی گیر اعلانیہ اور ظالمانہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اور اوولوڈنگ کے وجہ سے درجنوں علاقوں کے ٹرانسفارمر خراب ہوگئے ہیں اور بارامہ ،سیری ،ملوک آباد اور دیگر متعدد علاقے گزشتہ ایک ہفتے سے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں اور اس سلسلے میں اخر کار مینگورہ شہر کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور گزشتہ روز مینگورہ کے نواحی علاقوں بارامہ،پنجہ خان ،حاجی بابا ،ملوک آباد ،سیری اور دیگر علاقوں کے سینکڑوں عوام نے واپڈا ہاوس تک مارچ کیا اور ایکسئین سے ملاقات کی جہاں پر انہوں نے عوام کو بتایا کہ یہ ہمارے بس کا کام نہیں ہے اورنہ ہی ہمارے پاس ٹرانسفارمر پڑے ہیں کہ ہر روز متعدد ٹرانسفارمر خراب ہو اور ہم اپ لوگوں کو دیتے رہیں جاکے اپنے ایم پی اے ،ایم این ایز اور نمائندوں سے مطالبہ کروں جس پر مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے واپڈا ہاوس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور وہاں سے مارچ کرتے ہوئے نشاط چوک پہنچ گئے جہاں پر مظاہرین نے مین روڈ کو ہر قسم کی تریفک کیلئے بند کیا اور دو گھنٹے تک دھرنا بھی دیا اس موقع پر مظاہرین نے پی ٹی ائی حکومت اور مقامی ممبران اسمبلی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حالات اس وقت خراب ہوگئے جب مظاہرے کی قیادت کرنے والے صحافی امجد علی صحاب کو مینگورہ پولیس کے اہلکاروں نے گریبان سے پکڑ کر گھسیٹنا شروع کردیا اور ان پر تشدد بھی کیا جس پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اس موقع پر ایس ایچ او مینگورہ دیدار غنی پہنچ گئے اور انہوں نے معاملہ رفع دفع کردیا ،دو گھنٹے دھرنے اور احتجاج کے بعد ای اے سی حامد علی مظاہرین کے پاس پہنچ گئے جنہوں نے مظاہرین سے آج تک مہلت مانگی اور یقین دھانی کرائی کہ یہ مسئلہ حل کیا جائیگا جس پر مظاہرین منتشر ہوگئے ۔
439 total views, no views today


