ایک طرف ملک بھرمیں گرمی کی شدت میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہاہے، تودوسری جانب ایک عرصہ سے ملک کا سیاسی ماحول بھی خاصاگرم ہے، جس کی شد ت میں آئے روز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حکومت مخالف سیاسی جماعتیں حکومتی اقدام کے خلاف سراپااحتجاج ہیں، جن میں تحریک انصاف اوراس کی اتحادی جماعتیں قابل ذکرہیں، جو انتخابی دھاندلی کو بنیاد بنا کر گیارہ مئی سے سڑکوں پر ہیں اور مختلف شہروں میں بڑے بڑے جلسوں، جلوسوں کی صورت میں احتجاج اور حکومت مخالف سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے میں مصروف عمل دکھائی دے رہی ہیں، سیاسی امور کے ماہرین کے نزدیک اپوزیشن جماعتوں کی نظرآتی ان سرگرمیوں کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر غیرمعمولی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ ن ایک طرف اپوزیشن کی حکومت مخالف پرپیگنڈہ کا بھرپور جواب دے رہی ہے، تو دوسری جانب حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس کو ناکام بنانے پر بھی غور کر رہی ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وفاقی حکومت کا بجٹ برائے سال 2014-15ء کویک سر مسترد کرتے ہوئے سوئس رقوم کی واپسی سمیت دس مطالبات پیش کر دیے ہیں۔ آٹھ جون کو اسلام آباد میں پارٹی راہ نماؤں وزیراعلیٰ خیبر پختون خواپرویز خٹک، شاہ محمود قریشی،جہانگیر ترین، اسد عمر اور کئی دیگر کی موجودگی میں بجٹ کے حوالے سے اپنی پارٹی کی جانب سے دس نکات پر مشتمل سفارشات کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائدکیاہے کہ شریف برادران کے 1995ء کے چالیس کروڑ کے اثاثے اب پندرہ ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں جب کہ وزیراعظم کے غیرملکی دورے ملک وقوم کے لیے نہیں بلکہ ذاتی کاروبار کے سفری معاملات کے لیے ہوتے ہیں اور حکومت کی جانب سے ایک سال میں لیے گئے قرضوں کوآئندہ دونسلوں کو اتارنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار کی باری کے لیے انتخابی دھاندلی کے معاملے کو نہیں اٹھا رہے ہیں بلکہ ملک کے بہتر مستقبل کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ کیوں کہ انتخابی چوروں کونہ پکڑا، توسسٹم ٹھیک ہوسکے گانہ کوئی تبدیلی آسکے گی۔ انھوں نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ اقتصادی اعداد و شمار کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور موجودہ بجٹ قوم کے ساتھ بہت بڑافراڈہے اورٹیکس چوری کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیے گئے۔ وفاقی بجٹ کی بھرپورمخالفت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ نے مطالبہ کیاہے کہ پاکستانی خزانے کے بیرون ملک پڑے ہوئے دوسوارب ڈالر کی رقم تین سالوں میں مرحلہ وار واپس لائی جائے۔ حکومت اخراجات میں کمی لانے کے لیے سادگی کی مہم چلائے رواں سال جنرل سیلز ٹیکس کوسترہ سے پندرہ فی صد پر لایاجائے اور چارسالوں میں اس کی شرح کودس فی صد تک لے جایاجائے۔ نادراکے ریکارڈ کے مطابق اہلیت رکھنے والے تینتیس لاکھ شہریوں سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ کیوں کہ ان شہریوں سے ایک ایک لاکھ ٹیکس بھی لیاجائے، تو یہ سالانہ تین سو تیس ارب روپے سے زائد کی رقم بن جائے گی۔ مراعات یافتہ طبقہ کو حاصل ٹیکس استثناء ختم کیاجائے۔
عمران خان کی جانب سے عائد کردہ الزام یہ بھی ہے کہ بجٹ میں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ سے جوکٹوتیاں کی گئی ہیں اس کی رقم پنجاب بالخصوص لاہور پر خرچ کی جائے گی۔ ان کے مطابق وزیراعظم ہاوٗس کا یومیہ خرچہ پینتیس لاکھ جب کہ وزیراعظم کے بیرون ملک دورے کا یومیہ خرچہ تریالیس لاکھ روپے ہے۔ یہ توعمران خان کی موجودہ وفاقی بجٹ سے متعلق ہرزہ سرائی اور لب کشائی کا ذکر تھا، جسے سیاسی امور کے ماہرین پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے چلائے جانے والی حکومت مخالف تحریک سے جوڑ رہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب حکومت کو بھی اپنے خلاف جاری سرگرمیوں کا بھرپور احساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف مہم اور ممکنہ گرینڈالائنس کو ناکام بنانے کا منصوبہ بھی ترتیب دے دیا ہے۔ اس حوالے سے اب تک کی موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ ایک طرف نون لیگ کی حکومت نے مسلم لیگ ق اور عوامی تحریک کے گرینڈالائنس کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی بھاری ترقیاتی فنڈز جاری کرنے اور انھیں دیگر مراعات دینے پر غور شروع کر دیا ہے اور اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ذمے داری سونپی گئی ہے کہ وہ مختلف شعبوں میں فنڈز کاجائزہ لیں اور اپوزیشن جماعتوں کو ترقیاتی منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ ترجیح دی جائے۔ دوسری جانب حکومت نے ملک کی سیاسی صورت حال پر سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے ذریعے نمٹنے کے لیے رابطوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت نے وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیر اعظم کے مشیرعرفان صدیقی پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جو ملکی معاملات اورسیاسی صورت حال پر سیاسی و مذہبی جماعتوں سے مشاورت کرے گی۔ اس حوالے سے اطلاع یہ ہے کہ مشاورتی کمیٹی کا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اورعوامی نیشنل پارٹی کے عبوری صدر حاجی عدیل سے رابطہ ہوا ہے، جس کی تصدیق کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان نے کہاہے کہ حکومتی کمیٹی ملاقات کرکے ملکی معاملات اور سیاسی صورت حال پر مشاورت کرناچاہتی ہے۔ قطع نظراس کے کہ عمران خان اور ان کے اتحادی حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور حکومت اپوزیشن جماعتوں کی ممکنہ تحریک ناکام بنانے کے لیے کیا حکمت عملی وضع کرچکی ہے، جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی آپس میں یہ آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے۔ حکومت کرنا عوامی مینڈیٹ کی حامل حکمراں جماعت کا حق ہوتاہے، تو حکومتی اقدام پر اختلاف رائے رکھنے اور ان پر تنقید کرنے کاجمہوری حق اپوزیشن جماعتوں کو بھی حاصل ہوتاہے اور یہی جمہوریت کا اصل حسن ہوتا ہے، تاہم حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو یہ بات بہ ہر صورت مدنظر رکھنا ہوگی کہ ان کی جاری رسہ کشی کہیں عوام کا اپنے حقوق سے محرومیت اور جمہوریت کونقصان پہنچانے کاسبب و ذریعہ نہ بنے۔ ورنہ اس کاملک کے طول وعرض میں رہنے والے شہریوں اور جاری جمہوری نظام کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
نون لیگ، تحریک انصاف اور حزب اختلاف یاحزب اقتدار کی حامی دیگر سیاسی جماعتیں ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں جوسبب بنے بین الاقوام میں ملک و قوم اوریہاں جاری جمہوری عمل کی جگ ہنسائی کا۔ اتفاق و اختلاف کی رائے کا حق سب کو ہے، مگر جمہوری عمل کو بہ ہر صورت جاری رہنا چاہیے۔
1,092 total views, no views today


