پاکستان میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی بے حد اضافہ ہو گیا ہے اور بجلی کا شارٹ فال چھے ہزار میگا واٹ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے جب کہ کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار کم ہو کر دس ہزار میگا واٹ رہ گئی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں بجلی کی طلب سولہ ہزار میگا واٹ تک جا پہنچی ہے۔ پیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت کئی ہزار میگا واٹ کے قریب بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ بجلی کی پیداوار میں کمی سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے اور شہروں میں دس سے بارہ گھنٹوں جب کہ دیہی علاقوں میں سولہ سولہ گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ لوڈ شیڈنگ سے جہاں صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، وہاں عام تاجر بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
توانائی کے بحران نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور ملک میں ہرطرف روشنیاں گل ہو رہی ہیں۔ صنعتی پیداوار، گھریلو زندگی اور سماجی، معاشی اور دفتری معمولات درہم برہم ہوچکے ہیں۔ معاشی ترقی، بے روزگاری میں اضافہ اور غربت کے پھیلاؤ میں بھی بجلی کی کمی اور اس کی قیمت میں اضافہ ایک اہم عنصر ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو اس بجلی کی قلت سے متاثر نہ ہو، لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو بجلی نہیں مل رہی لیکن بجلی کے بل میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، الٹا اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اس وقت جو بجلی عوام کو مہیا کی جا رہی ہے، وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ عام روٹین میں جو وولٹیج مہیا کیے جاتے ہیں، وہ دو سو بیس یا اس سے زائد ہوتے ہیں، مگر اس وقت جو وولٹیج عوام کو مل رہا ہے وہ صرف سو ہے۔ جو گھریلو برقی آلات کونہیں چلا سکتا۔ لوگ اتنی گرمی میں پانی سے بھی تنگ ہیں۔ کیوں کہ سو وولٹج سے واٹر پمپ نہیں چلتے بلکہ سڑجاتے ہیں اورعوام پانی کے لیے باہر نہروں یا نلکوں کا رخ کرتے ہیں۔ فریج کا چلنا تو ممکن ہی نہیں بلکہ اس گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کئی سوروپوں سے زائد کا برف بازار سے خرید کر استعمال کرنا پڑتا ہے جب کہ بجلی کا بل اپنی آب و تاب کے ساتھ آرہا ہے۔ بجلی ملے نہ ملے مگر بل ہر بار گھر کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے۔
یہی نہیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کو روزانہ دو ارب روپے کا پیداواری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پہلے ہی ایک تو پاکستان کی چالیس فی صد آبادی کے پاس بجلی کے کنکشن موجود نہیں ہیں اور جس ساٹھ فی صد کے پاس کنکشن موجود ہیں، انھیں ان کی ضروریات کے مطابق نہیں مل رہی۔ پاکستان کے دوست ممالک پاکستان کے اس توانائی کے بحران میں مدد کرنے کو تیار ہیں، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان پیشکشوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ملک میں موجود کوئلے کے بڑے ذخائر پر سرمایہ کاری کرکے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم اپنے ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتے ہیں، لیکن ملٹی نیشنل آئل کمپنیوں نے اپنی مضبوط لابی کی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی تمام تجاویز اور منصوبہ بندیوں کو عملی جامہ نہیں پہنانے دیا اور یہ تمام منصوبے فائلوں تک ہی محدود رہے۔
ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو ملک توانائی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور لوگ دس سے سولہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں، وہاں سیاست دان اور واپڈا اہل کاروں کو کس خوشی میں بھاری بھرکم تن خواہوں کے علاوہ مفت بجلی کے یونٹ فراہم کیے جا رہے ہیں؟ یہ لوگ خود تو مفت بجلی کے مزے اڑاتے ہیں، لیکن ان کے بل کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے آج تک اس بات کا حساب کتاب تک نہیں رکھا کہ پورے پاکستان میں واپڈا اہل کار اور ہمارے سیاست دان کتنی بڑی تعداد میں یونٹ استعمال کرتے ہیں اور ان کا بل کس کھاتے میں جاتا ہے؟
اگر حکومت بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے واقعی سنجیدہ ہے اور عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے توسب سے پہلے یہ فری یونٹ کا سلسلہ بند کر دینا چاہیے۔ اس طرح سے پہلے تو بچارے غریب عوام پر بلوں کا بوجھ کچھ کم ہوجائے گا۔ توانائی بحران کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
سب سے اہم بات، تو یہ کہ واپڈ اہل کاروں اور سیاست دانوں کے بل ادا کرنے سے حکومت کی اپنی آمدن میں اضافہ ہوگا اوراس طرح واپڈا اہل کار اورسیاست دان خود بھی بجلی کنجوسی سے استعمال کریں گے۔
یوں لوڈشیڈنگ کامسئلہ لوڈشیئر نگ کے خاتمے کے ساتھ ختم نہ ہوسکا تو کم تو ضرور ہوجائے گا۔
838 total views, no views today


