تحریر عبید فضل

قدر ت نے وادی سوات کو بے پنا ہ خوبصورتی کیساتھ ساتھ سیاحت کے حوالے سے تمام ضروریات ،لوازمات ،سہولیات اور دلچسپی سے مالامال
خطہ بنایاہے ۔سوئٹیزرلینڈ صرف اس لئے سوئٹیزر لینڈ ہے کہ وہاں کے اربا ب اختیار نے اسے مضبوط انفراسٹر کچر مہیا کیا ہے اور سیاحت کو منظم کیا ہے لیکن کئی حوالوں سے وادی سوات سوئٹیزرلینڈ سے منفرد امتیازی اورحیثیت اور فوقیت رکھتی ہے ۔یہ وادی اپنی حسن اور عنائی میں اپنی مثال اپ ہے ۔بلند وبالا برف پوش وبالا چوٹیاں ،ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے قدرتی معدنی چشمے ،گنگناتی ندیاں ،بل کھاتے دریائے سوات ،ابشار اور دلکش مناظر سے نوازاہے ۔یہ وہ لوازمات ہے جو مہم اور تحقیق و جستجو سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو یہاں انے پر مجبور کرتے ہیں ۔وادی سوات کوہساروں،مرغزاروں ،سرسبز گک رنگ وشاداب گل رنگ وادیوں ،وسیع چراگاہوں ،قدرتی پارکوں،پہاڑی میدانوں ،جھیلوں اور گنے جنگلات کی سرزمین ہے ۔
سوات کے باشندے روایتی مہمان نوازی ،خوش خلقی و خوشْ ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْگفتاری ،سادہ دلی اور کردار کے پکے اور ہمدردی میں اپنے مثال اپ ہے ۔زمانہ قدیم سے سیاحو ں اور مہمانوں کو اپنی بساط سے بڑھ کر خدمت اور حوصلہ افزائی کرتے چلے آرہے ہیں اور مادیت پرستی کے اس دور میں بھی اپنے مضبوط اقدار کو نہیں توڑتے ۔اور جس طرح یہاں کے پہاڑوں وادیوں ،میدانوں اور قدرتی نظارو ں میں وسعت ہے اس طرح یہاں کے لوگ ملنساری اور وسیع القلبی میں یکتاہیں ۔وادی سوات سر سبز وادی خزاں منہ چڑاتی ہے اور دائمی بہار کی پنا ہ گاہ ہے ۔قدرت یہاں موسم کو گرم ہیں دیتی اور بارش یا بادل لیکر آتی ہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلاتی ہے جس سے موسم ٹھنڈا رہتا ہے جبکہ موسم سرما قابل برداشت ہوتا ہے جو صحت اور بدن پر منفی اثر ات نہیں چھوڑتا ۔
وادی سوات کی مختصر تاریخ
جیسا کہ پہلے بتایا چکا ہے کہ سوات مختلف تہذیبوں ،ثقافتوں اور قدیمی آثار کا آماہ جگاہ رہا ہے ، لہذا سوات کا تاریخ کا مختصر جا ئیزہ لینا ضروری ہے ۔اس وادی نے قبل از مسیح بدھ مذہب کو پھلتے پھولتے دیکھا ۔بدھا ثانی بدما سمبا وا یہاں پیدا ہوا ۔
سکندر اعظم یونانی 327بی سی میں افغانستان سے ہوتا ہو ا کنڑ اوباجوڑ کے راستے سوات میں آیا اور اس وقت کے راجہ ارنس کے ساتھ لڑائی میں چھ ماہ تک محاصرہ رہا اور یہاں کے قبائیل سے لڑائی میں تاریخ میں پہلی بار زخمی ہوا جو بعد میں اس کی مو ت کا سبب بن بھی گیا اور قریب تھا کہ وہ یہاں سے راہ فرار اختیار کرتا کہ اچانک راجہ فوت ہوا اور ملکہ نے سکندر اعظم کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا اور یہاں سے جاتے ہوئے وہ کنڈ کے قریب دریائے سندھ عبور کرکے پنجاب میں راجہ پوسد کے ساتھ صف آرا ہوا۔
گیارھویں صدی میں محمود غزنوی اسلام کی روشنی پھیلانے اس وادی میں آیا اور پوری وادی کو فتح کیا اور اس وقت کے راجہ گیرا کو مغلوب کرنے کے لئے اپنا ایک جرنیل پیر خوشحال کو مقابلے کے لئے چھوڑا ۔پہاڑی قلعہ فتح ہونے کیساتھ راجہ فرار ہوا اور راستے میں قتل ہواجبکہ پیر خوشحال بھی اس لڑائی میں شہید ہوا جس کا مزار بٹ خیلہ میں موجود ہے ۔اس وقت سواتی قوم اوردلہ زاک نے سوات پر عملداری قائم کی ۔بعد آزا یوسف زئی جب کابل سے نکالے گئے تو پشاور سے ہوتے ہوئے باجوڑ اور دیر کو فتح کرکے سوات تک آپہنچے ۔
ظہورالدین بابر کو یوسف زئی کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خطرہ لاحق ہوا اور اس نے سوات پر حملہ کردیا ۔یوسف زئی قبائل جن کا سردار ملک سردار احمد تھا اور شیخ ملی اس کا مشیر تھا ۔وہ مورا پہاڑ میں قلعہ بند ہوگئے ۔بابر کو حملہ کرنے کی صورت نہیں ائی اور صلح کا پیغام بجھوایا کیونکہ اس کی نظریں ہندوستان پر لگی ہوئی تھیں جو ان جنگجو قبائل کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا ۔
سوات میں 1849سے لیکر 1856تک سید اکبر شاہ نے شرعی حکومت قائم کی جس کو اخوند اف سوات سیدوباباکی مکمل اعانت حاصل تھی لیکن بد قسمتی سے 1856ء میں سید اکبر شاہ اچانک وفات پاگئے اور یہ شرعی حکومت منتشر ہوگئی ۔اس کے بعد باچا صاحب نے اس وادی پر حکومت اور 1948 میں وہ سبکدوش ہوگئے ، جس کے بعد والئی سوات (میانگل جہانزیب )نے حکومت سنبھالی اور 1969 تک وہ ریاست کے والی رہے
29جولائی 1969میں ایک فوجی ڈکٹیٹر یحییٰ خا ن صدارتی حکم کے ذریعے سوات کو پاکستان کی دلدل میں مد غم کیا جہاں سے سواتی عوام کی بد قسمتی اور محرومیو ں کا سیاہ دور شروع ہوتا ہے ۔
وادی سوات کی قابل دید مقامات
مینگورہ : مینگورہ سوات کا مرکز تجارتی حیثیت کا حامل جدید شہر ہے ۔چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے جس کی جنوب میں دریائے سوات بہتا ہے یہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہے یہاں سیدو میڈیکل کالج اور پر شکوہ جہانزیب کالج ،گرلز کالج اور سیدو گروپ اف ہسپتال موجود ہیں ۔دینا بھر کی اشیاء رعائتی نرخوں پر دستیاب ہیں دریائے سوات اس شہر کے پہلو سے گزرتا ہے ۔مینگورہ کا پرانہ نا م منگ چلی ہے ۔
سیدو شریف: مینگورہ کا جڑواں قصبہ ہے ،یہا ں اخوند اف سوات کا مزار اور سابق حکمرانوں کی رہائش گاہیں موجود ہیں ،اس کے علاوہ تمام سرکاری وغیر سرکاری دفاتر یہاں واقع ہیں ۔اس کے قریب میں سلام پور نامی گاوں اونی کمبلوں ،شالو ں ،دست کاری اور دیگر سواتی مصنوعات کے لئے شہرت رکھتا ہے ۔
مرغزار: مینگورہ سے شمال کی طرف پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک صحت افزاء مقام ہے جو ایلم پہاڑ کے دامن میں وقع ہے ،یہاں بادشاہ صاحب کا سفید محل جواب ہوٹل تبدیل کیا گیا ،واقع ہے ۔یہ بانئی ریاست سوات بادشاہ صاحب کا گرمائی محل تھا جو نہایت پرسکون اور خوبصورت جگہ میں واقع ہے ۔
کوہ ایلم : اس مقدس پہاڑ کی چوٹی نو ہزار فٹ بلند ہے۔یہ پہاڑ گھنے جنگلات اور زرخیزی کے لئے مشہور ہیں اس کی چوٹی پر ایک چبوترا ہے جو کہ رام چندرجی نے بنایا تھا ۔اس نے یادگار بنانے کے لئے اپنا تحت چھوڑا ۔جہاں وہ بن پاس گزر چکے تھے ۔یہاں جڑی بوٹیا ں بکثرت ملتی ہیں اور یہ مقام خوبصورت جنگلی حیا ت مسکن ہے ۔
ملم جبہ : مینگورہ سے 45کلومیٹر جنوب مشرق کی طرف منگلور گاوں سے اگے سح سمندر سے 9000فٹ کی بلندی پر پاکستا ن کا واحد سکی انگ مرکز ہے ۔یہاں چیئر لفٹ پہاڑ کی بلندی پرپہچاتی ہے ۔ٹھنڈے پانی کے چشمے ،گھنے جنگلات اور قدرتی مناظر قابل دید ہیں ۔یہاں ایک جدید فور سٹار ہوٹل تھا ،سوات میں حالیہ شورش کے دوران ہوٹل اور چیئر لفٹس کو عسکریت پسندوں نے تباہ کردیا تھا۔لیکن حکومت نے اس کی مرمت پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ۔
کالام؛ مینگور سے 100 کلومیٹر اور سطح سمندر سے 6825فٹ کی بلندی پر واقع ایک وسیع وادی ہے جسے عرف عام میں سوات کے ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے پاکستان کا واحد میدانی جنگل ،قدرتی چشمو ں اور نظاروں میں اپنی مثال اپ ہے یہاں سے ماونٹ فلک سیر کا نظارہ سحر انگیز ہوتا ہے ۔ہیاں قیام کے دوران اپ یہ مقامات دیکھ سکتے ہیں ،مہوڈنڈ جھیل ، گلیشیر، ابشار ، مٹلتان اوشو ، بوئیں،اتروڑ گبرال ،کنڈول اور خاپیروں جھیل ،درال جھیل،سید گئی جھیل وغیرہ۔
مدین ؛ مینگورہ سے کالام روڈ پر 56کلومیٹر کے فاصلے پر سطح سمندر سے 4300 فٹ کی بلندی پر دریائے سوات ،بشی گرام اور شاگرام خوڑ کے سنگم پر ایک انتہائی خوبصورت قصبہ ہے ۔چاروں طرف جنگلات سے ڈھکے پہاڑوں کے حصار میں ہے
میاندم؛ میاندم مینگورہ سے مدین جاتے ہوئے فتح پور کے قریب مشرق کے طرف 56 کلومیٹر کے فاصلے پر6000 فٹ کی بلندی پر انتہائی خوبصورت پہاڑی صحت افزاء مقام ہے یہ عاقہ برف پوش چوٹیوں بہتی گنگناتی ندی ،پھل اور جڑی بوٹیوں کے لئے مشہور ہے ۔یہ علاقہ مری سے مشابہت رکھتا ہے ۔
وادی سوات کے اثار قدیمہ
سوات کا گندھارا آرٹ کی دھرتی ماں ہے ۔سوات کا چپہ چہ قریہ قریہ آثار قدیمہ کی دولت سے بھرا ہوا ہے جبکہ اکثر گاوں اور قصبوں کے نام قدیم اور تاریخی حیثیت کے حوالے سے آج بھی مشہور ہیں ۔جو یہاں کے عوام کی وسیع القلبی اور روشن خیالی کا مظہر ہے ۔جن میں قابل زکر اوڈیگرام ،بلوگرام، پنجی گرام ،نجی گرام ،بریکوٹ وغیرہ شامل ہیں حکومتی سطح پر مووثر حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے زمانے کے دست بروکاشکار ہیں اور بعض لالچی لوگ انہیں اپنے ذاتی مالی مفادات کی نذر کررہے ہیں
ٓٓ
1,148 total views, no views today



