ایک وقت تھا کہ ملکی سطح پر ہر ایک ڈویژن میں پاکستان نیشنل سنٹر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا رول نہایت کامیابی سے ادا کر رہا تھا۔ یہ محکمہ مرکزی حکومت کے زیر اثر تھا۔ رائے عامہ ہم وار کرنے میں اس کا ثانی نہیں تھا۔ حکومت کی پالیسیاں یہاں ڈسکس ہوتی رہتی تھیں۔ کلچر سے اس کا تعلق تھا۔ تاریخ اس کا مضمون تھا اور بین الاقوامی حالات پر اس کی گہری نظر تھی۔ پھر نواز شریف کی پہلی حکومت میں اس ادارے کو ختم کر دیا گیا۔ سیکڑوں ملازمین مختلف مرکزی ملازمتوں میں کھپائے گئے اور کئیوں نے آگے جاکر ملازمت سے سبک دوش ہونے اور پنشن لینے میں دل چسپی ظاہر کی۔ جب میں پاکستان نیشنل سنٹرز کی افادیت پر نظر ڈالتا ہوں اور نواز شریف کی عجلت میں کیے گئے فیصلے کے بارے میں سوچتا ہوں، تو میں پاکستان نیشنل سنٹر کو ملک کی بہتری کے لیے ضروری سمجھتا ہوں اور نواز شریف کے اُس وقت کے فیصلے کو ملکی زیاں سے تعبیر کرتا ہوں۔ اس کے لکھنے کی ضرورت مجھے اب اس لیے محسوس ہوئی کہ ایک غلط فیصلہ ہمارے صوبائی حکومت کرنے جا رہی ہے۔
روزنامہ مشرق پشاور 7 جون 2014ء کی خبر ہے کہ خیبر پختون خوا حکومت نے محکمۂ اطلاعات ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یہ کہ چیف سیکرٹری نے دست خط کے لیے سمری وزیراعلیٰ کو بھجوادی ہے۔ خدا کرے کہ جناب پرویز خٹک صوبائی وزیراعلیٰ اس مجوزہ سمری کو رد کرکے واپس چیف سیکرٹری کو بھجوا دیں کہ یہ ایک نا معقول سمری ہے۔ ملک کے دیگر صوبوں میں محکمۂ اطلاعات بہ دستور موجود ہے اور فعال ہے۔ صوبہ سندھ، صوبہ پنجاب اور صوبہ بلوچستان اپنے اپنے محکمہ اطلاعات سے کام لے رہے ہیں۔ جب کہ ہمارے صوبے کو اس اہم محکمے کو ختم کرنے میں خیر نظر آرہی ہے۔ یہ ادارہ 1966ء میں انگریز حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر بنایا ہے۔ اور اس اہم محکمے کی افادیت سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ صوبے کے ہر ڈویژن میں اس کے ریجنل آفس باقاعدگی سے کام کر رہے ہیں۔ یہ محکمۂ صوبائی حکومت کے ترجمان ادارے کے طور پر کام کرتا ہے اور یہ حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کام بھی ادا کرتا ہے۔ اخبارات میں شائع شدہ عوام کے مطالبات اور شکایات کو اخبارات سے کاٹ کر متعلقہ وزراء اور انتظامی افسران کو بھیجا جاتا ہے، جن پر فوری کارروائی عمل میں آتی ہے اور یوں عوام کی آواز حکام وقت تک پہنچائی جاتی ہے۔ محکمۂ اطلاعات صوبائی ہیڈ کوارٹر اور ریجنل دفاتر کے ذریعے ایک تحریری پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات اخبارات کو بھیجتا ہے اور اُن کے بل محکموں سے وصول کرکے اخبارات کو ادائیگی کرتاہے۔ محکمہ کے افسران حکومت کی جانب سے کئی ترقیاتی کاموں پر آرٹیکل لکھ کر اخبارات میں شائع کرتے رہتے ہیں، جن کی مدد سے عوام کو اپنی منتخب کردہ حکومت کی کارکردگی کاپتہ چلتا ہے۔ ہر صوبائی وزیر کے ساتھ محکمہ کا ایک افسر بہ طور پی آر او مقرر کیا جاتا ہے، جو صوبائی وزیر اور اس کے محکمہ کی جانب سے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے کیے گئے اقدام کو خبروں (ہینڈ آؤٹ؍ پریس ریلیز کی صورت میں اخبارات میں شائع کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اخبار کا نمائندہ ایک خبر صرف اپنے ہی اخبار میں شائع کرتا ہے جب کہ محکمہ اطلاعات کی بھیجی ہوئی خبر ایک مرکزی نظام کے تحت پاکستان کے تمام اخبارات تک پہنچ کر درجنوں اخبارات میں شائع ہوتی ہے۔ یوں انفارمیشن آفیسر کی ہر دی ہوئی خبر ایک ملکی پریس کانفرنس کی طرح ہوتی ہے۔ محکمۂ اطلاعات کا اہم ترین کردار حکومت کی راز داری رکھ کر عوام کو غلط پروپیگنڈے سے بچانا ہوتا ہے۔ مثلاً کسی ضلع میں آپریشن ہوتا ہے، موقع پر کسی صحافی کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ غیر ذمے دار لوگ مختلف افواہیں پھیلاتے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ، محکمۂ اطلاعات کے ذریعے حقیقی صورت حال بلا مبالغہ تمام اخبارات تک پہنچادیتی ہے۔ محکمۂ اطلاعات کے ریجنل دفاتر وہاں کے ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ اور تمام ضلعی محکموں کے ترجمان ہوتے ہیں اور میڈیا میں مختلف اخبارات میں شائع شدہ شکایات کی و ضاحت کے لیے ضلعی محکموں کی طرف سے وضاحت شائع کرتے ہیں۔ اسی طرح صوبائی وزراء جب مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہیں، تو ان کی میڈیا کوریج مقامی ریجنل دفاتر کرتے ہیں، جس کے باعث پشاور سے صوبہ کے طول و عرض میں گاڑیاں دوڑا کر ہزاروں لاکھوں روپے تیل و دیگر اخراجات بہ شمول ٹی اے ڈی اے، ہوٹل قیام وغیرہ سے بچا جاتا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنی وزارت کو فعال بنائیں اور ڈویژنل ریجنل انفارمیشن دفاتر کو اپنے اپنے علاقوں میں رہنے دیں۔ اور اس ادارے کو صوبے کی ترقی و خوش حالی میں اپنا کردار ادا کرنے دیں۔ صوبائی وزارت اطلاعات کو پشاور تک محدود نہ کرنے دیں۔ اس طرح معمولی کاموں کے لیے چترال، ڈی آئی خان اورصوبے کے دور دراز علاقوں سے لوگ پشاور جاکر ذلیل و خوار ہونے سے بہتر ہے کہ صوبائی وزیراعلیٰ اور وزیر اطلاعات ایسا غلط فیصلہ نہ کرنے دیں۔ انھیں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اس کی تکالیف میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
2,126 total views, no views today


