بریکوٹ، سوات بورڈ کے حالیہ میٹرک کے امتحانات میں تحصیل بریکوٹ کے بعض سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی مایوس کن ہے جس کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں پر عوامی اعتماد کم ہو تا جارہا ہے اور والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کرا رہے ہیں ۔تحصیل بریکوٹ میں چھ ہائی سکول جبکہ دو ہائیرسیکنڈری سکول ہیں جن میں تین سکولوں کے نتائج بالترتیب گورنمنٹ ہائی سکول غالیگے کا نتیجہ 39فیصد،گورنمنٹ ہائیر سکنڈری سکول شموزئی کا نتیجہ23فی صد،گورنمنٹ ہائی سکول نویکلے کا نتیجہ 32فی صد رہا۔
اس کے علاوہ باقی سرکاری سکولوں کی کارکردگی بہتر رہی جن میں جی ایچ ایس ابوہا کا نتیجہ 80فی صد،جی ایچ ایس بریکوٹ کا نتیجہ74فی صد،جی ایچ ایس پارڑئی کا نتیجہ 59فیصد، جی ایچ ایس مانیار کا نتیجہ68فی صد،جبکہ جی ایچ ایس خزانہ کا نتیجہ 62فیصد رہا۔اس کے ان سکولوں کے طلبہ نے بھی بورڈ میں کوئی خاص پوزیشن حاصل کی ہے ۔سرکاری تعلیمی اداروں کے نسبت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا معیار بہتر ہے ۔تحصیل بریکوٹ کے ہائی سکولوں میں گورنمنٹ ہائی سکول نویکلے کو مخدوش صورت حال کے دوران دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا گیا تھا جسے بعد میں چین کی مدد سے اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا اس کی بلڈنگ پر اس وقت تین کروڑ بیس لاکھ روپے لاگت آئی اور یہ سکول بلڈنک کے لحاظ سے خیبر پختونخواہ منفرد مقام رکھتا ہے۔اس میں تمام تعلیمی سہولیات موجود ہیں ۔اس سکول کے بلڈنگ اور محل وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں ایک ڈگری کالج بھی بن سکتا ہے ۔مگر حالیہ میٹرک کے امتحانات میں مایوس کن کارکردگی اس تعلیمی ادارے کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔
771 total views, no views today


