حضرت علی باچہ
سوات کے سردموسم میں سیاسی میدان گرم ہے سیاسی جماعتوں نے انے والے الیکشن کیلئے تیاریاں شروع کی ہے جگہ جگہ پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں خصوصاً حلقہ این اے انتیس و پی کے اسی میں سیاسی سرگرمیاں انتہائی عروج پر ہے عوام کے ساتھ وعدوں اور دعووں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پارٹیوں کے اندر اختلافات نے بھی ماحول کو گرما دیا ہے سیاسی وفاداریاں تبدیل ہورہی ہے .

ضلع سوات جو دو قومی و سات صوبائی حلقوں پر مشتمل علاقہ ہے جس کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے موجودہ وقت میں صرف ایک صوبائی حلقے کے علاوہ باقی حلقوں پر پاکستان تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی سوات کے نمائندگی کررہے ہیں،اے این انتیس جو سوات کا ایک بڑا حلقہ ہے اس حلقہ کے مسائل بہت زیادہ ہے پچھلے الیکشن میں اس حلقہ سے پی ٹی ائی کے مراد سعید نے ریکارڈ تعداد میں ووٹ لیکر کامیابی اپنے نام کی ،گزشتہ الیکشن میں تحریک انصاف نے تبدیلی کے نام پر الیکشن مہم چلائی جبکہ حلقہ کے عوام زیادہ مسائل کیوجہ سے تبدیلی کے متلاشی تھے اور اسی بنیاد پر لوگوں نے مراد سعید کو اٹھاسی ہزار سے زیادہ ووٹ دیکر کامیاب بنایا اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ موصوف نے اسمبلی میں قومی ایشوز پر آواز اٹھائی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی ایشوز میں ایم این اے موصوف کو اپنے حلقہ کی فکر نہ رہی اور عوام نے جس توقعات کے بنیاد پر موصوف کو کامیاب بنایا وہ پورے نہیں ہوئے مثال کے طور پر سیدو شریف ائرپورٹ جو موصوف کے ابائی علاقے میں ہے تاحال بند ہے سوئی گیس و بجلی کے مسائل کو حل کرنے میں موصوف مکمل طور پر ناکام رہے کھنڈارات سڑکوں کی تعمیر نہیں ہوئی موصوف ہمیشہ یہی بات کرتے رہے کہ یہ ادارے وفاق کے زیر انتظام ہے اسلئے ہمارا بس ان اداروں پرنہیں چلتا خیر ان سب کو چھوڑ کر ائندہ الیکشن کے بارے میں بتانے کی کوشش کرونگا جس طرح سب کو معلوم ہے کہ تحریک انصاف سوات میں ایک مضبوط سیاسی قوت ہے مگر ائندہ الیکشن کیلئے فی الحال تیاریوں میں ناکام ہے اس مرتبہ پاکستان تحریک انصاف سے حلقہ این اے انتیس کیلئے سعید خان ڈھیرئی اور مراد سعید کے نام گردش کررہے ہیں مگر قوی امکان ہے کہ ٹکٹ مراد سعید کو ملے گا،اسی طر ح اے این پی نے حیران کن طور پر اسی حلقہ سے مضبوط امیدوار مظفر الملک کاکی خان کی جگہ شیرشاہ خان اف کوزہ بانڈئی کو ٹکٹ دیا گیا ہے
،
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی جو کئی سالوں سے اختلافات کی شکار تھی مگر شاہی خاندان کے سپوت میانگل شہریار امیرزیب کے شامل ہونے کے بعد پارٹی ایک بار زندہ ہوگئی شہریار امیرزیب اسی حلقہ سے الیکشن لڑینگے جو حلقہ سے مضبوط امیدوار تصور کئے جارہے ہیں،موجودہ وقت میں پاکستان مسلم لیگ (ن)اندورنی اختلافات کیوجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جن حلقوں پر انجینئر مقام الیکشن لڑ رہے ہیں ان حلقوں میں باقاعدہ مہم جاری ہے جبکہ دوسرے حلقوں میں کئی کئی لوگوں ٹکٹ دینے کے وعدے کئے جارہے ہیں اسی طرح این اے انتیس کیلئے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری انجینئر عمر فاروق (جس نے انجینئر امیر مقام کے من پسند فیصلوں سے بغاوت کی تھی)کو ٹکٹ دینے کے وعدے پر رضامند کیا گیا تھا مگر بعد میں مکر گئے جس کی وجہ سے وہ پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوگیاتاحال پاکستان مسلم لیگ(ن) نے اسی حلقہ سے کسی کو نامزد نہیں کیا ہے اسی طرح جمعیت علماء اسلام سے اسحاق زاہد کو نامزد کرنے کی اطلاعات ہے مگر مولانا حجت اللہ بھی اس مرتبہ قومی حلقہ سے الیکشن کے خواہش رکھتے ہیں ،جماعت اسلامی تاحال اس حلقہ سے امیدوار سامنے نہیں لائے ہیں ،اطلاعات کے مطابق پارٹی کے سابقہ ضلعی امیر اور موجودہ امیر کے درمیان اختلاف نے پارٹی میں گروپس کو جنم دیا ہے اسی طرح قومی وطن پارٹی نے بھی ابھی تک اسی حلقے کیلئے اپنا امیدوار سامنے نہیں لایا ہے پارٹی ذرائع کے مطابق این اے انتیس کو ممکنہ اتحاد کے حوالے سے خالی چھوڑ دیا گیا ہے خیال کیا جارہاہے کہ خیبر پختونخواہ میں پارٹی کا اتحاد ہوسکتا ہے اتحاد نہ ہونے کے صورت میں اسی حلقے سے سابقہ فضل رحمن نونو سب سے مضبوط امیدوار ہونگے جن کو کئی الیکشن لڑنے کا تجربہ حاصل ہے اور سیاسی جوڑتوڑ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں،پختونخواہ میپ سے خورشید کاکا جی اور ملک ریاض میں سے کسی کو میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔

سوات کے این اے انتیس سوات کا ایک وسیع حلقہ ہے یہاں پردیہی علاقوں کے امیدوار ایم این اے منتخب ہوجاتے ہیں تو شہری علاقے کے آس پاس تمام آبادیوں کے مسائل حل کرنے میں وہ ناکام نظر آتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اگر اس بار کسی جماعت نے شہری علاقے مینگورہ سے مضبوط امیدوار نامز د کردیا تو ممکن ہے کہ وہ بھاری مینڈیٹ سے کامیابی حاصل کرسکینگے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے شہری علاقوں کے نسبت دیہی علاقوں کے مسائل نہ ہونے کے برابر ہیں ،اس لئے شہری علاقوں سے منتخب امیدوار کو پسند کیا جاتا ہے ۔ماضی میں اگر ہم دیکھیں تو ایم ایم اے کے سیٹ پر قاری عبدالباعث (مرحوم ) اور اے این پی کے مظفرالملک کاکی خان کا تعلق شہری علاقے سے تھا اور اس بنیاد پر ان دونوں ممبران قومی اسمبلی کافی حدتک کامیں تکمیل تک پہنچائے تھیں ۔ادھر اے این پی مینگورہ شہر کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ قائدین نے جلد بازی میں اس بار این اے 29کا ٹکٹ شہری علاقے سے تبدیل کرکے دیہی علاقے میں ایک نئی چہرے کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے ،

کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر اے این پی کے سا بق ایم این اے مظفرالملک کاکی خان کے سیاسی زندگی پر نظر ڈالیں توایک طرف حلقہ پی کے 80کے امیدواراور سابق صوبائی وزیر جنگلات واجدعلی خان کے چچا ہے اور ایک بڑی سیاسی خاندان سے تعلق بھی وابسطہ ہے اور علاقے میں ان کا کافی ووٹ بنک موجود ہیں ۔عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے صوبائی پارلیمانی کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ این اے 29کے ٹکٹ پر نظر ثانی کرکے سیٹ کو دوبارہ شہری علاقے میں دیا جائے ۔

حلقہ پی کے اسی جو شہری علاقہ ہے اور سوات کے دیگر حلقوں کے بہ نسبت اس میں مسائل انتہائی زیادہ ہے خصوصا پانی قلت،سوئی گیس وبجلی لوڈشیڈنگ ،ٹریفک جام سمیت دیگر کئی ایسے مسائل ہے جس نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مشکلات کا شکار بنا دیا ہے اسی حلقہ سے موجودہ ممبر صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان ہے جس کے چار سالہ کارکردگی سے تقریباً عوام ناخوش ہے اسی حلقہ میں ڈویژن کے دو بڑے ہسپتال بھی واقع ہے جس کی حالت دیکھنے کی لائق ہے موصوف ہر اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں مسائل ہو مگراس کے حل کیلئے باتوں و تقریروں کے علاوہ کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہوتی خصوصاً پانی قلت ،بجلی و گیس لوڈشیڈنگ کے بارے میں شہری موصوف کے کارکردگی سے کافی مایوس ہے

اسی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے اہم عہدیدار و کارکن ائندہ الیکشن میں موجودہ ایم پی اے کو ٹکٹ دینے کی حق میں نہیں خصوصاً یوتھ تنظیم میں بے جا دخل اندازی نے بھی موصوف کی پارٹی میں پوزیشن کمزور کردی ہے ،انیوالے الیکشن میں پی ٹی ائی پی کے اسی کیلئے ضیاء اللہ جانان،سہیل سلطان ایڈوکیٹ،شاہد علی خان،زاہد خان عرف باز خان اور وسیم اکرم الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہے پارٹی ذرائع کے مطابق اس مرتبہ چیئر مین عمران خان ہر امیدوار سے بذات خود انٹرویو لینگے جس میں تعلیم و سماجی کاموں کو مدنظر رکھ کر ٹکٹ دیا جائیگا،

SONY DSC
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی سے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سیدوشریف کے ناظم میانگل امیرزیب شہریار،ریاض احمد ایڈوکیٹ،اقبال حسین بالے الیکشن لڑنے کے خواہش رکھتے ہیں تاہم اس حوالے اس ابھی واضح نہیں کہ پارٹی کس کو ٹکٹ دیگی تاہم میانگل امیر زیب شہر یار کی چانسز زیادہ ہے اور پارٹی کے نوجوانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے،جماعت اسلامی کے جانب سے سابقہ ایم پی اے محمد امین کو نامزد کردیا گیا ہے تاہم مینگورہ شہر سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے تحصیل کونسلر یوسف علی بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کرچکا ہے جمعیت علماء اسلام سے مولانا حجت اللہ قومی اسمبلی کے طرح اسی حلقہ بھی خواہش مند ہے جبکہ اعجاز خان بھی متوقع امیدواروں میں شامل ہے تاہم علماء کے ایک اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹکٹ صرف علماء میں سے کسی کو دیا جائے جبکہ پارٹی کی ضلعی قیادت اعجاز خان کی حمایت میں نظر اتی ہے،

قومی وطن پارٹی سے رفیع الملک کامران خان الیکشن لڑینگے ،اے این پی کے جانب سے سابقہ وزیر جنگلات واجد علی خان کو ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے اسی طرح پاکستان مسلم لیگ دوسرے حلقوں کے طرح پی کے اسی میں بھی اختلافات کا شکار ہے اس حلقے سے سٹی صدر صادق عزیز(جس نے مہم شروع کی ہے)ارشاد خان،حاجی عبدالرحیم سمیت دیگر الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہے پچھلے مرتبہ بھی اسی قسم کی صورتحال تھی جسکیوجہ سے اسی حلقے سے شانگلہ سے تعلق رکھنے والے انجینئر امیر مقام نے الیکشن لڑا تھا اسی طرح پختونخواہ میپ کے جانب سے ڈاکٹر خالد محمود الیکشن لڑینگے۔سیاسی جماعتوں کے علاوہ اس مرتبہ ریکارڈ تعداد میں ازاد امیدوار الیکشن میں حصہ لینگے۔

2,646 total views, no views today



