لنڈی کوتل: پاکستان کے قبائلی علاقے خیبرایجنسی کی تحصیل جمرود میں گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کرتے ہوئے 40 سے زائد مشتبہ شدت پسندوں کو حراست میں لے لیا۔ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ یہ سرچ آپریشن علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بم دھماکوں جیسے واقعات میں اضافے کی روشنی میں کیا گیا۔حکام کے مطابق، مقامی انتظامیہ نے تحصیل میں فورسز کی جانب سے گرفیو کے نفاذ سے قبل مساجد میں اسپیکروں کے ذریعے اعلانات کیے کہ لوگ اس دوران اپنے گھروں میں رہیں۔
اس سرچ آپریشن کے دوران سرقمر، نوایا آباد، غرریضہ سمیت دیگر علاقوں میں گھر گھر تلاشی کی۔اس دوران جمرود تحصیل میں آنے جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے، جبکہ پشاور طورخم ہائی وے کو بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔یہ سرچ آپریشن تقریباً نو گھنٹے تک جاری رہا۔ اس قبل علی الصبح فورسز نے اعلان کیا تھا کہ کرفیو شام پانچ بجے تک نافذ رہے گا۔تاہم آپریشن میں کامیبابی اور اہم مقصد حاصل ہونے کے بعد کرفیو کو دوپہر ایک بجے اٹھا لیا گیا۔مقامی انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز انہیں اس آپریشن کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور کارروائی میں خاصہ دار فورسز اور لیویز نے بھی حصہ لیا۔ان کا کہنا تھا کہ کارروائی میں 40 سے زائد مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا۔
حکام کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران فورسز کو کسی قسم کی مذاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور تمام صورتحال کنٹرول میں رہی۔ اس دوران ان افراد کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور تین گاڑیاں بھی برآمد ہوئیں۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ رات گئے تک سیکیورٹی فورسز کے دستے علاقے میں تعینات رہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران کچھ اہلکار علاقے میں مکانات کی چھتوں پر بھی تعنیات رہے جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا کہ یہاں سے ان مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے علاقے میں کی جانے والی کارروائی میں اضافے کے بعد سینکڑوں افراد جمرود تحصیل سے پشاور، مردان، ایبٹ آباد، اسلام آباد اور دیگر محفوظ شہروں کی جانب منتقل ہوگئے۔جمیعت علمائے اسلام ف کے مقامی رہنما کبیر نے بتایا کہ ‘جمرود تحصیل میں رہنے والے لوگوں کو نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے مسلسل دھمکیاں ملتی رہتی ہیں’۔انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بہت سے لوگ پہلے ہی علاقے سے نقلِ مکانی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں، کیونکہ انتظامیہ ان افراد کی جان و مان کے تحفظ کی یقین دہانی
کروانے میں ناکام ہوئی ہے۔
امن رضاکار ہلاک:
اسی دوران ہفتے کے روز تحصیل باڑہ کے علاقے قمبر آباد کے علاقے میں ایک سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے کے نتیجے میں امن کمیٹی کا ایک رکن ہلاک ہوگیا۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے سڑک کنارے نصب بم کو اس وقت اڑا دیا جب علاقے میں امن کمیٹی کے مقتول رکن گشت پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں امن کمیٹی کا کارکن ہلاک ہوگیا۔
366 total views, no views today


