کسی مقدمہ میں خود ساختہ اور فرضی مواد کو شامل کرکے کسی کو بھی ملزم گردانا جا سکتا ہے۔ اپنی کارگزاری کو مبالغہ آمیزی میں تبدیل کرتے ہوئے اس کے اعداد وشمار کو زیادہ بتادیا جاتا ہے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کسی کی چوری کی گاڑی کو پکڑ کر اصل مالک کو خبرنہیں دی جاتی اوروہ گاڑی کو اپنے استعمال میں لاتا ہے۔نئی چیزوں کو پرانے سے بدل دی جاتی ہے۔ ملزم کو بچانے کے لئے دیگر معصوم لوگوں کو نامزد کرکے اصل ملزموں کو اس طرح بچایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے خلاف ان کو کوئی تائیدی ثبوت مہیا نہیں ہوسکے۔ بجائے اس کے کہ اصل ملزموں پر ہاتھ ڈالا جائے اکثراوقات معصوموں کو خود ساختہ شہادتوں کی بنیاد پر پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔اپنے افسرانِ بالا کو خوش کرنے اوریہ دکھانے کی خاطر کہ انہوں نے اصل مجرم کو ڈائری اور چالان مقدمہ کی مد میں پکڑ لیا ہے، لیکن جب عدالتیں اصل دستاویزات کی شہادت کو دیکھتے ہوئے ملزم کو بری کر دیتی ہیں، تو پھر سارا ملبہ عدالتوں پر ڈالا جاتا ہے۔ آئین پاکستان، قرآنِ کریم کے زیریں اصولوں کوسامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ مختلف ادارے آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔ حکومت کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی ہے کہ وہ جرائم کے انسداد، گرفت، انکشاف، پکڑ دھکڑ، تفتیش اور رکاوٹ کے ذریعے جرائم کی بیخ کنی کرتے ہوئے مجرموں کوانصاف کے کٹہرے میں لاکر سزا دے۔ پولیس سٹیشن کے اختیار اور دائرہ کار، صوبائی حکومت دفعہ (1)- 4 ض۔ف کے تحت بناتی ہے۔ دراصل پولیس کو با اختیار بنایا گیا ہے کہ جہاں پر خورد برد، ملاوٹ، دھوکا، فریب، امن وامان کو قائم رکھنا، نقضِ امن، قتل مقاتلہ، قانون کے مطابق روک تھام کرتے ہوئے کسی فرد کی حق تلفی کو روکے۔ کیاان حالات میں پولیس اسٹیشن سزا خانہ نہیں بنایا گیا ہے؟ کیا جرائم کو مزید بڑھانے میں پولیس کا موافق کردار نہیں ہے؟ کیا پولیس کو قانون کا محافظ کہا جاسکتا ہے؟ میرا اس پر واضح مؤقف ہے کہ کسی بھی مہذب سوسائٹی میں مذکورہ بالا حالت کو قطعاًبرداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پولیس ناکوں کے توسط سے ہائے ویز پر بیرئیرز لگائے جاتے ہیں اورقصداً کسی کو بھی ملزم برآمد کیا جاتا ہے۔ حتی کہ ٹریفک، غیر قانونی سرگرمیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شناختی کارڈ دکھانے کے بہانے میاں بیوی کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھیل دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ملزم کو ایف آئی آر کی فوٹو کاپی نہ دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ضمانت نہیں کروا سکتا۔ چاہئے تو یہ کہ وہ ملزم کومطلوبہ فیس کے مطابق ایف آئی آر کی کاپیاں فراہم کرے۔ پولیس ریکاڑد کو دخل مداخلت سے محفوظ بنایا جائے اور باقاعدہ فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ اکثر اوقات ڈائریاں مجرموں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں اور وہ کسی بھی موڑ پر ان کو تبدیل کرلیتے ہیں۔
اس طرح تفتیش کے عمل میں تفتیشی آفیسر کی ناقص ٹریننگ کا عمل دخل واضح دکھائی دیتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ تفتیشی افسران کی حساس ٹریننگ کے لئے انتظامات کرے اور اس کو تفتیش کا طریقۂ کار ازبر کروائے۔ قانون سمجھانے کی خاطر مختلف قسم کے سمینارز منعقد کیا جانے چاہئیں۔ لوگوں کی پولیس سے امیدیں اور توقعات ہوتی ہیں کہ وہ ان کے جان و مال کو بچانے کے لئے بروقت کارروائی کرے گی لیکن شائد بدقسمتی سے ہماری پولیس کو اس طرح کی ٹریننگ نہیں دی گئی ہے اور ان حالات میں پولیس بھی اپنی ذمہ داری بروقت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بعض اوقات ڈکیتی اور ڈاکا زنی عین پولیس اسٹیشن کے سامنے رونما ہوتی ہے لیکن جائے وقوعہ پر پولیس دیر سے پہنچتی ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر مجرموں کو آسانی کے ساتھ فرار کا موقع ملتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ دھماکا ہوتا ہے لیکن پولیس پھر بھی دیر سے پہنچتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کو جدید ٹریننگ نہیں دی گئی ہے۔ اس لئے وہ ان حالات سے مناسب طریقے سے نبرد آزما نہیں ہوسکتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ پولیس کو اپنے دایرۂ اختیار کو سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی وجہ سے بھی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔اس لئے ہر پولیس آفیسر کو اپنی حدود اور قانون کا علم ہونا چاہئے، تاکہ واقعات ہونے کی صورت میں وہ بروقت کارروائی کرسکیں۔ پولیس کی تفتیشی ذمہ داریوں میں ایک خامی یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت پروٹوکول بھی دیتی ہے، تفتیش بھی کرتی ہے، اپنی ڈیوٹی اور ملزم کا تعاقب بھی کرتی ہے، جب کہ مہذب ممالک کا دستور ہے کہ پولیس کو صرف ایک ہی ڈیوٹی سرانجام دینا ہوتی ہے۔
4,512 total views, no views today



