کبل(الطاف خان سے ) تحصیل کبل کے علاقہ خوڑ کوٹے قلاگے میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ کو شدید دھچکا،سرگرم سیاسی شخصیات سلطان،سلیم خان،عالم خان،صاحب ذادہ،وزیر ذادہ ،شیر افضل خان،کمین خان،خارونا،سید روان،محمد،لیاقت علی،محمد حاضر جان،حضرت علی،نعیم،بہادر شیر ،بخت منیر ،اختر منیر،فتح خان،پاچا اور دیگر نے خاندانوں اور درجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کردیا ،اس موقع پر خوڑ کوٹے میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے سابق ایم پی اے وقار خان،ضلعی کونسلر شاہ سید،بحر بوستان،سردار چاچا،سید باچا،سیفور حاجی،اکبر جان،خاندان،بلال خان،جندر علی،جنت ذادہ،موسی خان لالہ،اکبر شاہ،سردار علی اور دیگر نے پختون بھائی چارہ میں شامل ہونے والے ساتھیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے زندگی کے ہر موڑ پر مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ صوبائی حکومت تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے جنہوں نے دھرنوں اور انتشار کی سیاست میں خیبر پختونخواہ حکومت کے پانچ سال تباہ کئے انہوں نے کہا کہ منتخب ممبر اسمبلی منافقت اور گالم گلوچ کی سیاست کو فروغ دے کر جعلی شمولیتوں میں برائے نام کروڑوں کے اعلانات کرکے لوگوں کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت کا دور ختم ہوچکا ہے پانچ سالوں میں عوام کو ترقی سے روکنے والے الیکشن کا سن کر ترقیاتی کاموں کے دھڑا دھڑ اعلانات کررہے ہیں جو کہ محض ڈھونگ کے سیو کچھ نہیں انہوں نے کہا کہ گذشتہ عام انتخابات میں تبدیلی اور 90دن میں نیا پاکستان بنانے والوں نے تاحال کوئی سکول،ہسپتال اور نہ کوئی بڑا منصوبہ شروع کیا تعلیمی ایمرجنسی کے دعویداروں نے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کردیا ہے جبکہ ہسپتالوں میں برائے نام اپ گریڈیشن کی وجہ سے عوام صحت کے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ایم ایم اے والوں نے اسلام کے نام پر ووٹ لینے کے بعد اسلام آباد حاصل کرتے ہوئے عیش و عشرت کوترجیح دی اور سوات کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کردیا جو ایک بار پھر سرگرم ہوچکے ہیں لہذا عوام اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے سازشوں سے محتاط رہیں انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی پختون قوم کی ترجمان پارٹی ہے جنہوں نے کشیدہ حالات کے دوران سکیورٹی فورسسز اور عوام کے تعاون سے سینکڑوں قربانیاں دے کر نہ صرف امن قائم کیا بلکہ ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کرکے ترقی کا سفر شروع کیا جو بد قسمتی اور بے اتفاقی کی وجہ سے جاری نہ رہ سکا اور 2013الیکشن میں نااہل لوگوں کو اقتدار میں لایا گیا جنہوں نے پختون قوم کو مایوسی و محرومی کے سیوا کچھ نہ دیا اسی وجہ سے لوگ حکمران پارٹی کو چھوڑ کر جوق در جوق عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کسی کے دھوکہ میں آئے بغیر 2018الیکشن میں تمام مفاد پرستوں کو شکست دینے کے لئے اے این پی کا ساتھ دے کر بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی تیاری کریں تاکہ اے این پی دور میں شروع کردی ترقی کے سفر کو دوبارہ شروع کرکے محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔
2,132 total views, no views today



