سوات، سوات سے تعلق رکھنے والے گورنمنٹ کنٹریکٹرزنے حال ہی میں محکمہ پبلک ہیلتھ سوات میں ہونے والے ٹینڈروں کو شفاف قراردیتے ہوئے مخالفین کی جانب سے ٹینڈروں میں سیاسی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاداوربے جا قراردیا ہے،اس حوالے سے سوات کے ٹھیکیداروں سیف اللہ خان،افرین خان اوردیگرنے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ چنددن قبل محکمہ پبلک ہیلتھ سوات میں تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ٹینڈرجاری ہوئے جس میں تمام ٹھیکیداروں نے حصہ لیا اور سب کو فارم بھی جاری ہوئے
جبکہ تمام ٹینڈر قواعدوضوابط کے تحت ہوئے مگر اس دوران مردان اوردیگرغیرمقامی ٹھیکیدارفارم لینے آئے مگر اس وقت دفتری اوقات ختم ہوچکے تھے ،انہوں نے کہاکہ این آئی ٹی کے طریقہ کار کے مطابق کال ڈپازٹ مقامی بنک کا ہونا ضروری ہے مگر ان ٹھیکیداروں کا کال ڈپازٹ بھی مقامی بنک کانہیں تھا وہ لوگ ٹینڈر لینے نہیں بلکہ سوات کے ٹھیکیداروں اورمحکمہ پبلک ہیلتھ کو بدنام کرنے آئے تھے اورمحکمہ کو مشکلات سے دوچار کرنا چاہتے تھے ،انہوں نے کہاکہ پہلے وہ لوگ عدالت گئے اورٹینڈروں پر سٹے لینے کی کوشش ک مگرانہیں عدالت میں ناکامی ہوئی تو اس کے بعدپریس کانفرنس کرکے بے جاالزمات لگائے جن میں کسی قسم کی حقیقت نہیں،انہوں نے کہاکہ محکمہ پبلک ہیلتھ سوات میں ہونے والے حالیہ ٹینڈروں سے ہم مطمین ہیں جس میں کسی قسم کی بے قاعدگی نہیں ہوئی ہے اورنہ ہی اس میں کسی ممبرقومی یا صوبائی اسمبلی نے مداخلت کی ہے مگر غیر مقامی ٹھیکیدارمقامی ٹھیکیداروں اورمحکمہ کو بدنام کرنے کیلئے طرح طرح کے حربے استعمال کررہے ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں،اس موقع پر علی شیرخان،مکرم شاہ،سردارعلی اوردیگر ٹھیکیداربھی موجود تھے۔
423 total views, no views today


