ترقی یافتہ ممالک کی مہذب ہونے اور ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ کھبی بھی ملکی اداروں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتے اور ان کو بھرپور طریقے سے اپنا کام کرنے دیتے ہیں اور ان کے ادارے آزاد اور خودمختار ہوتے ہیں، عمران خان کے منشور میں بھی خاص طور پر یہ بات سرفہرست تھی کہ وہ اداروں کو خودمختار اور آزاد بنائیں گے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری KPKحکومت کہاں تک اداروں میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے حال ہی میں محکمہ پبلک ہیلتھ کے ٹھیکداروں نے سوات کے MPASکو ٹینڈروں میں مداخلت پر آڑے ہاتھوں لیا اوراس سلسلے میں ان کا ایک پریس کانفرنس بھی ہوا اور کسی حدتک ان کی اس بات میں صداقت تھی اور بعد میں انٹی کرپشن والوں کو بھی مداخلت کرنا پڑا، اس ضمن میں میں ایک پٹواری صاحب کا روردار بیان کرنا چاہوں گا (بقول پٹواری) ہوا یوں کے حلقہ پی کے 84کے موصوف ایم پی اے صاحب نے اپنے حلقے کے پٹواری کو اپنے حلقہ بدرکرنے کے متعلقہ محکمہ میں رپورٹ کی جب متعلقہ پٹواری کے حلقہ بدری کے احکامات آئیں۔ تو اس نے اپنے محکمہ کے افسر بالا کے پاس جاکر فریاد کئی اور واضح کیا کہ جناب میرے حلقے بدری کے وجہ کیا ہے میں تو کسی کرپشن یا کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں تو پھر میرے ساتھ یہ زیادتی کیوں؟ تو متعلقہ آفسر صاحب نے کیا کہ آپ سے ایم پی اے صاحب کو یہ شکایت ہے کے کہ آپ ان کے حجرے پر نہیں جائے اور وہاں حاضری نہیں لگائیں۔اور آپ سے ایم پی اے صاحب کو اور بھی شکایت ہیں۔
دوسرا اسی ہی محکمہ کے ایک پٹواری جوکہ پی ٹی ائی کاچہتہ ہے میرٹ لیسٹ میں اکتیس واں نمبر ہونے کے باوجود ایک نمبر پر کر ترقی دی گئی جسکی باقاعدہ شکایت محکمہ ہذا میں میرٹ پر انے والے باقی پٹواریوں نے درج کئی ہے یہ تو ایک ہی ادارے کی رو دارہے۔ باقی محکموں میں بھی یہ کام کافی زوردشور سے جاری کیونکہ ایم پی اے ووٹ سے مجبور اور آفسر بالا ایم پی ایزسے مجبور اس کے باوجود کے ہم جمہور اور جمہوریت کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئے ہیں کہ محکمہ جنگلات نے بہاء تحصیل مٹہ میں پچھلی ادوار کے طرح وہاں لوکل کوٹہ پر درختان دے تھے۔جس کی بارے میں انکشاف ہواہے کہ وہ سیاسی بنیادوں پر تقسیم کے گئے ہیں۔ اور میرٹ کو نظرانداز کیا گیاہے اور بعض لوگوں کو کوٹہ کو بلیک پر فروخت کیاگیاہے جس میں بھی سیاسی مداخلت کے آثار نمودار ہے جس کے باقاعدہ شکایت انتظامیہ سے کیاگیاہے۔
چونکہ اس طرح پاکستان میں خیبر پختون خواہ کے لوگوں نے تبدیلی انصاف کے نام پر ووٹ دیکر تحریک انصاف کو اقتدارکے اعوانوں میں پہنچایا ایک سال جوکہ کوئی بھی تبدیلی لانے کے لئے ایک بہت بڑا عرصہ ہوتاہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ ابھی صوبے کے لوگ اس انتظار میں تھے کہ چلو 2014-15کے سالانہ بجٹ میں تبدیلی انصاف کی کوئی آثار نظر آئینگے۔اگر KPKکے وزیر خزانہ صاحب نے ایم پی اے کی تنخواہوں میں 300فیصد اضافہ کیا ہے تو عوام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہیں لیکن اس کے بدلے عوام بھی تحریک انصاف کے منشور کے مطابق اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اداروں میں عدم مداخلت اور کرپشن کی اختتام کی بھی کوئی گارنٹی دی جائے کیونکہ عوام کو مالی لحاظ نہ سہی لیکن اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے ریلیف مل جائے۔
اداروں عدم مداخلت اور میرٹ کا بول بالا کرنے والے دعویداروں نے آپنے اس وعدے کا بھی پاس نہیں رکھا اداروں میں سیاسی مداخلت آب بھی جاری وساری ہے۔ جس کہ پچھلے حکومتوں میں ہوتاتھا لیکن اس حکومت کو تو ذیب اسلئے نہیں دیتا کہ انہوں نے میرٹ اور اداروں میں عدم مداخلت کے بنیادپر عوام سے ووٹ لیا۔
صوبہ KPKکے ذمداران، تبدیلی انصاف اور میرٹ کا نعرہ لگانے والوں اس ضمن میں کچھ کرنا ہوگا ورنہ کل ان کا حال بھی ماضی کے دوسرے پارٹیوں کے طرح ہوگا لہٰذا KPKکے حکومت خاص کر تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ دوسرے غیر ضروری ایشوز میں اپنے آپ کوآلھجائے کے بغیر صوبے کے مسائل کے حال کے طرف توجہ دے کیونکہ قدرت نے کو صوبے کے اقتدار کا ایک موقع فراہم کیا ہے جو ان کے لئے ایک اغراز سے کم نہیں ان کو چاہیے کہ ملک کے دوسرے صوبوں کے نسبت اپنے صوبے میں مثال کام کرکے دوسرے صوبوں کے عوام کے لئے ایک قابل تقلید صوبہ بنائیں نہ کہ قابل تنقید تاکہ آنے والے انتخابات میں ان کو زیادہ وقت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ان کے لئے شرمندگی کا باعث بنے۔
میں یہاں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے اس لکھنے کے مقصد یہاں کسی کی دل آزاری نہیں لیکن بحثیت ایک صحافی جہاں بھی مجھے کوئی ناانصافی نظر آئیں میرے پیشے کا تقاضا ہے کہ میں ان کو اعوان کے اقتداروں تک پہنچاؤں اگر میرے اس بیان سے کسی کی دل دل آزاری ہوئی ہوں تو معزورت خواہ ہوں۔
Facebook: riaz3254@gmail.com
789 total views, no views today


